ہائی کورٹ :مشرف حملہ کیس کے مجرم کی ممکنہ رہائی کے خلاف فوج کے سرکاری وکیل کی اپیل مسترد

ہائی کورٹ :مشرف حملہ کیس کے مجرم کی ممکنہ رہائی کے خلاف فوج کے سرکاری وکیل کی ...
ہائی کورٹ :مشرف حملہ کیس کے مجرم کی ممکنہ رہائی کے خلاف فوج کے سرکاری وکیل کی اپیل مسترد

  

لاہور(نامہ نگار خصوصی )لاہورہائیکورٹ کے مسٹر جسٹس طارق عباسی کی سربراہی میں قائم ڈویژن بنچ نے مشرف حملہ کیس کے مجرم عدنان خان کی ممکنہ رہائی کے خلاف جج ایڈووکیٹ جنرل کی انٹرا کورٹ اپیل خارج کر دی، عدالت نے مجرم کو دی گئی 15سال قید کی سزا میں مختلف تہواروں پر دی گئی چھوٹ شامل کرنے سے متعلق عدالتی فیصلہ برقرار رکھا۔

جسٹس طارق عباسی کی سربراہی میں دورکنی بنچ نے جج ایڈووکیٹ جنرل جی ایچ کیو کی سنگل بنچ کے حکم کے خلاف انٹراکورٹ اپیل پر سماعت کی، وفاقی حکومت کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ ٹرائل کورٹ نے عدنان کو سابق صدر پرویز مشرف پر حملہ کرنے کے جرم میں 15 برس قید کی سزا سنائی، سنگل بنچ نے رعایتیں شامل کر کے مجرم کی سزا کا ازسرنو تعین کر کے رہائی کا حکم دیا، مجرم سزا میں کسی رعایت کا مستحق نہیں، سنگل بنچ کا حکم کالعدم کیا جائے، مجرم عدنان کی طرف سے ایڈووکیٹ مجاہد وسیم نے موقف اختیار کیا کہ مجرم کو 2004 میں 15 سال قید کی سزا سنائی گئی، مجرم عدنان قانون کے مطابق سزا میں رعایتوں کاحقدار ہے، رعایتیں شامل کی جائیں تو مجرم کی سزا مکمل ہو چکی ہے لیکن حکومت دانستہ طور پر مجرم عدنان کی رہائی میں رکاوٹ پیدا کر رہی ہے.

انہوں نے مزید موقف اختیار کیا کہ ہائیکورٹ نے قانونی طور پر مجرم عدنان کی سزا کے ازسرنو تعین کا حکم دیا، جج ایڈووکیٹ جنرل کی مجرم کی رہائی کے خلاف درخواست خارج کی جائے۔ تفصیلی دلائل سننے کے بعد دو رکنی بنچ نے جج ایڈووکیٹ جنرل کی مجرم کی سزاﺅں کے ازسرنو تعین کے حکم کیخلاف انٹراکورٹ اپیل خارج کر دی۔

مزید : لاہور