دہشت کی علامت اور کالعدم تنظیم کا مبینہ سربراہ آصف چھوٹو کون تھا ؟کیسے اور کب کالعدم لشکر جھنگوی میں شامل ہوا اور کیسے مارا گیا ؟ہوش ربا تفصیلات سامنے آ گئیں

دہشت کی علامت اور کالعدم تنظیم کا مبینہ سربراہ آصف چھوٹو کون تھا ؟کیسے اور کب ...
دہشت کی علامت اور کالعدم تنظیم کا مبینہ سربراہ آصف چھوٹو کون تھا ؟کیسے اور کب کالعدم لشکر جھنگوی میں شامل ہوا اور کیسے مارا گیا ؟ہوش ربا تفصیلات سامنے آ گئیں

  

لاہور (خصوصی رپورٹ) شیخوپورہ بائی پاس کے قریب انسداد دہشت گردی فورس کے ساتھ مبینہ مقابلے میں مارا جانے والا خطرنا ک ترین دہشت گرد آصف چھوٹو کے متعلق حیرت انگیز انکشافات ہوئے ہیں ،آصف چھوٹو کون تھا ؟ کس علاقے کا رہنے والا تھا اور دہشت گردی کی کن کن وارداتوں میں ملوث تھا ؟ ساری تفصیلات منظر عام پر آ گئیں ۔

مزید پڑھیں:کالعدم تنظیم سے تعلق رکھنے والے خطرناک ترین دہشتگرد آصف چھوٹو سی ٹی ڈی کی کارروائی میں تین ساتھیوں سمیت ہلاک

تفصیلات کے مطابق گذشتہ شب شیخوپورہ بائی پاس کے نزدیک کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپار ٹمنٹ(سی ٹی ڈی)کے ساتھ ہونے والے مبینہ مقابلے میں اپنے 3ساتھیوں کے ہمراہ مارے جانے والا 30لاکھ روپے سر کی قیمت والا ملک کا مطلوب ترین دہشت گرد اور کالعدم تنظیم لشکر جھنگوی کا سربراہ آصف چھوٹو پنجاب کے سرائیکی بیلٹ میں واقع دائرہ دین پناہ مظفر گڑھ کا رہائشی تھا ۔تقریبا 20سال قبل آصف چھوٹو نے کالعدم تنظیم میں شمولیت اختیار کرنے کے بعد ملک کے مختلف حصوں میں دہشت گردی اور ٹارگٹ کلنگ کی وارداتوں میں حصہ لینے کے بعد اپنے آبائی علاقے کو چھوڑ کر کراچی میں رہائش اختیار کر لی ،جہاں سے وہ مختلف شہروں میں دہشت گردی کی وارداتیں کرنے کے بعد دوبارہ کراچی بحفاظت واپس چلا جاتا تھا۔ملزم آصف چھوٹو ماضی کے بدنام زمانہ دہشت گرد اور حیدر آباد جیل میں قید اکرم لاہوری کا بھی قریبی ساتھی بتایا جاتا ہے ۔

مزید پڑھیں:تعجب ہے سی ٹی ڈی کی چار لائنوں کی رپورٹ پرلوگوں کا نام فورتھ شیڈول میں شامل کرلیا جاتا ہے ،ہائی کورٹ

آصف چھوٹو کے کھاتے میں پورے ملک میں 200سے زائد افراد کے قتل کے مقدمات تھے جبکہ ماضی میں آصف چھوٹو پنجاب اور سندھ کی مختلف جیلوں میں 7سال تک قید بھی رہا لیکن 2012ء میں ضمانت پر لاہور کی کوٹ لکھپت جیل سے رہا ہونے کے بعد وہ پراسرار طور پر لاپتا ہو گیا ۔سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ رہائی کے بعد آصف چھوٹو ایک مرتبہ پھر ملک کے مختلف حصوں میں فرقہ وارانہ قتل و غارت کے واقعات میں ملوث ہو گیا ،جبکہ کالعدم تنظیم کے سابق سربراہ ملک محمد اسحاق کی16ساتھیوں سمیت مظفر گڑھ میں سی ٹی ڈی کے ساتھ مقابلے میں ہلاکت کے بعد آصف چھوٹوکو کالعدم تنظیم لشکر جھنگوی کا سربراہ مقرر کیا گیا تھا ۔

کراچی میں مشہور زمانہ دہشت گرد عطا الرحمن عرف نعیم بخاری جو اس سے قبل کالعدم لشکر جھنگوی کا سربراہ بتایا جاتا ہے کے ساتھ بھی آصف چھوٹو نے مل کر دہشت گردی کی متعدد وارداتوں میں حصہ لیا تاہم بعد میں ان دونوں کے درمیان اختلافات کی بنیاد پرلشکر جھنگوی 2دھڑوں میں تقسیم ہو گئی ،ایک دھڑے کی قیادت نعیم بخاری کرتا رہا جبکہ دوسرے دھڑے کی قیادت آصف چھوٹو کے پاس رہی ،لیکن کچھ عرصہ بعد کراچی میں سیکیورٹی اداروں نے ایک مقابلے میں نعیم بخاری کو ’’پار ‘‘ کیا تو نعیم بخاری کادھڑا بھی آصف چھوٹو کے ساتھ مل گیا تھا ،جس کے بعد آصف چھوٹو نے کئی فرقہ وارانہ قتل و غارت کی کئی بڑی وارداتیں بھی سرانجام دیں ۔

آصف چھوٹو  پر مومن پورہ قبرستان لاہور، ملتان امام بارگاہ میں حملہ ، روالپنڈی میں ایرانی کیڈٹس کو ہلاک کرنے ، اکتوبر 2004 میں سیالکوٹ میں امام بارگاہ پر حملہ جس میں 30 افراد ہلاک ہوئے ،اسلام آباد میں بری امام کے مزار پر ہونے والے خود کش حملہ ،کراچی میں امام بارگاہ پر بم حملہ ، کراچی میں ہی دو  مختلف فرقہ وارانہ حملے جن میں 40 افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے ،اس حملے میں بھی آصف چھوٹو کا ہی نام لیا گیا تھا ۔آصف چھوٹو کو  2005 میں صادق آباد  کے علاقے  شکریال سے ساتھیوں سمیت گرفتار ہوا اور سات سال تک مختلف جیلوں میں قید رہا ۔آصف چھوٹو کو 2012 میں لاہور کی کوٹ لکھپت جیل سے رہا کر دیا گیا تھا ،جس کے بعد وہ پر اسرار طور پر لاپتا ہو گیا تھا ۔یاد رہے کہ پاکستان میں مبینہ طور پر پہلی  خاتون خود کش حملہ آور بہنیں عارفہ اور صبا جو بعد میں گرفتار ہو گئیں تھیں کہ بارے میں بھی کہا جاتا ہے کہ ان دونوں بہنوں کو آصف چھوٹو نے ہی شدت پسندی کے خلاف مائل کیا اور بعد میں ان میں سے صبا کے ساتھ شادی بھی کر لی تھی ۔

 

دوسری طرف ایک سابق سیکیورٹی ذرائع کا  نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہنا ہے کہ آصف چھوٹو نے رہائی کے بعد قتل و غارت کی وارداتوں سے تائب ہو کر مستقل طور پر گوشہ نشینی اختیار رکھی تھی اور گذشتہ 12سال سے اس کا کسی بھی طرح دہشت گردی کی کسی بھی وارادت سے کوئی تعلق نہ تھا ،پولیس اور سیکیورٹی ادارے ملک میں ہونے والی فرقہ وارانہ قتل و غارت اور ٹارگٹ کلنگ کو آصف چھوٹو کے سر مونڈھ کر مطمئن ہو جاتے تھے ۔سابق سیکیورٹی ذرائع کا کہنا تھا کہ چند روز قبل خیبر پختونخوا کے ’’ٹھنڈے علاقے ‘‘ میں رہائش پذیر آصف چھوٹو کو سی ٹی ڈی نے اس کے ایک سابق بااعتماد ساتھی کے ذریعے جھانسے میں لا کر گرفتار کیا اور چند دن اپنے پاس زیر تفتیش رکھنے کے بعد پہلے سے ہی گرفتار ڈاکٹر شاکر اللہ عرف علی سفیان ،نور الامین اور ایک نامعلوم دہشت گرد کے ہمراہ شیخوپورہ میں ’’دہشت کے ایک اور باب کو ‘‘ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے بند کر دیا ۔

مزید : قومی