ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے بدلے شکیل آفریدی کو امریکا کے حوالے کرنیکی پیشکش

ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے بدلے شکیل آفریدی کو امریکا کے حوالے کرنیکی پیشکش
ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے بدلے شکیل آفریدی کو امریکا کے حوالے کرنیکی پیشکش

  

اسلام آباد (ویب ڈیسک)روزنامہ جنگ نے دعویٰ کیا ہے کہ گزشتہ دو ہفتوں کے دوران حکومتِ پاکستان نے اوباما انتظامیہ کے آخری دنوں میں امریکی صدر کی معافی کے ذریعے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو پاکستان لانے کیلئے زبردست کوششیں کی ہیں لیکن واشنگٹن نے ایسا کرنے سے انکار کر دیا حالانکہ پاکستان نے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی جگہ ڈاکٹر شکیل آفریدی کو امریکا کے حوالے کرنے کی پیشکش بھی کی تھی، کچھ لوگوں کو اب بھی امید ہے کہ صدارتی معافی دیئے جانے کا امکان ہے لیکن باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ معافی یا عافیہ کے بدلے شکیل آفریدی کی حوالگی کا امکان نہیں۔

سب سے بڑی خبر، سائنسدانوں کو وہ چیز مل گئی جس کی قیمت دنیا کی تمام چیزوں کو ملا کر بھی اُن سے زیادہ، کھربوں ڈالر کی یہ کیا چیز ہے؟ ایسی خبر آگئی کہ دنیا ہل کر رہ گئی

رپورٹ کے مطابق اوباما انتظامیہ چاہتی تھی کہ ڈاکٹر شکیل آفریدی کی جگہ امریکا میں گرفتار ہونے والے ایک اور پاکستانی کو پاکستان کے حوالے کیا جائے لیکن اسلام آباد کو یہ شرط منظور نہ تھی، اس موضوع پر نہ صرف وزیراعظم نواز شریف اور امریکی وزیر خارجہ جان کیری کے درمیان رواں ماہ بات ہو چکی ہے بلکہ وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے بھی صدر اوباما کی حکومت کے آخری کچھ ہفتوں کے دوران متعدد امریکی حکام سے بات کرکے عافیہ صدیقی کیلئے صدارتی معافی حاصل کرنے کی کوشش کی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر عافیہ کو امریکا بدر کرانے کیلئے کوششیں وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے شروع کیں اور وزیر اعظم نواز شریف کو مشورہ دیا تھا کہ وہ یہ معاملہ اکتوبر 2015ءمیں اپنے دورہ واشنگٹن کے موقع پر صدر اوباما کے ساتھ اٹھائیں لیکن2015ءمیں امریکی صدر اوباما نے وزیراعظم نواز شریف کو انکار کر دیاتھا۔

ماضی میں امریکی صدور کی جانب سے صدارتی اختیار کا استعمال کرتے ہوئے معافی دینے کی مثالوں کو مد نظر رکھتے ہوئے، وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے رواں ماہ اس معاملے پر وزیراعظم نواز شریف سے بات کی۔ ذرائع کے مطابق وزیر اعظم نے معاملہ آگے بڑھانے کی بات کی۔ ابتدائی طور پر اسحاق ڈار نے یہ معاملہ امریکی سفارت خانے کے حکام کے سامنے اٹھایا، جن سے کہا گیا کہ وہ یہ معاملہ فوراً امریکی محکمہ خارجہ میں پیش کریں۔ کچھ ہی دن میں وزیراعظم نواز شریف کو جان کیری سے فون کال موصول ہوئی۔ وزیراعظم نے جان کیری کو بتایا کہ پاکستان عافیہ صدیقی کیلئے امریکی صدر سے صدارتی معافی چاہتا ہے تاکہ وہ اپنے ملک واپس آ سکیں۔ کیری سے کہا گیا کہ اس اقدام کے نتیجے میں امریکا کا پاکستان میں تاثر بہتر ہوگا۔ ذرائع کے مطابق، جان کیری نے وزیراعظم کو بتایا کہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے جرم اور ان کے تعلقات کی نوعیت کی وجہ سے ایسا کرنا ممکن نہیں جس پر وزیراعظم نے جان کیری کو بتایا کہ پاکستان ڈاکٹر عافیہ کے بدلے ڈاکٹر شکیل آفریدی کو صدارتی معافی دے کر امریکا کے حوالے کرنے پر غور کر سکتا ہے لیکن امریکی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ ڈاکٹر عافیہ کی بجائے واشنگٹن امریکا میں قید ایک مرد پاکستانی قیدی کو پاکستان کے حوالے کر سکتا ہے۔ وزیراعظم نے یہ پیشکش مسترد کردی۔

بعد میں اسحاق ڈار نے امریکی ڈپٹی وزیر ٹونی بلنکن سے تفصیلی تبادلہ خیال کیا تاہم انہوں نے اصرار کیا کہ ڈاکٹر شکیل آفریدی کو معافی دے کر امریکا یا کسی تیسرے ملک کے حوالے کیا جائے اور اس کے بدلے امریکا میں قید ایک اور پاکستانی قیدی کو رہا کیا جا سکتا ہے۔ بلنکن کو بتایا گیا کہ ڈاکٹر عافیہ کا ٹرائل غیر منصفانہ تھا اور اب وہ علیل ہیں، خاتون کو معافی دی جائے اور امریکا بدر کرکے پاکستان روانہ کیا جائے۔

بھائی کی جنسی خواہش پوری نہ کرنے پر خاوند کا بیوی پر تشدد

دعویٰ کیاگیا ہے کہ  اسحاق ڈار نے یقین دہانی کرائی کہ حکومت پاکستان اس بات کو یقینی بنائے گی کہ ڈاکٹر عافیہ منظر عام سے دور رہیں۔ اوباما انتظامیہ کیلئے عافیہ صدیقی کو پاکستان کے حوالے کرنے کا آپشن ناقابل عمل تھا۔ پاکستان کے معاملے میں بھی ڈاکٹر عافیہ کی بجائے کسی اور قیدی کو شکیل آفریدی کے بدلے حاصل کرنے کا آپشن ناقابل عمل تھا۔ ڈار نے بلنکن کو بتایا کہ اگر اوباما انتظامیہ نے شکیل آفریدی کی جگہ عافیہ صدیقی کو پاکستان کے حوالے نہ کیا تو پاکستان یہ معاملہ نئی امریکی حکومت کے ساتھ اٹھائے گا۔ اعلیٰ سطح کے ان مذاکرات میں اسحاق ڈار نے امریکی حکام کو یہ بھی بتایا کہ ریمنڈ ڈیوس کو اس یقین کے ساتھ امریکا کے حوالے کیا گیا تھا کہ اس پر امریکی عدالتوں میں دو پاکستانیوں کے قتل کا مقدمہ چلایا جائے گا لیکن ایسا نہیں کیا گیا۔ ذرائع کا کہنا تھا کہ پاکستان کی قیدیوں کی تبدیلی کی پیشکش قانون کے مطابق تھی۔ پاکستان نے امریکی حکام کو بتایا تھا کہ ڈاکٹر عافیہ کو امریکی صدارتی معافی ملنے کے بعد پاکستان کے صدر سے درخواست کی جائے گی کہ وہ ڈاکٹر شکیل کے معاملے میں بھی ایسا ہی کریں۔

مزید : اسلام آباد