حکومت اور اپوزیشن جماعتیں

حکومت اور اپوزیشن جماعتیں
 حکومت اور اپوزیشن جماعتیں

  


موجود جمہوری حکومت آئندہ چند ماہ بعدماہ جون 2018ء کے آغاز میں اپنی آئینی مدت پانچ سال پوری کرنے والی ہے۔ پھر چند ہفتوں کے بعد غالباً جولائی میں عام انتخابات کا انعقاد ہوسکتا ہے، بشرطیکہ بعض دیگر واقعات غیر متوقع طور پر آڑے نہ آجائیں، اس طرح موجود عوامی نمائندے جو حکمران اور دیگر جماعتوں سے تعلق رکھتے ہیں، اپنی صلاحتییں اور توانائیاں بروئے کار لانے کی حیثیت سے اپنا ریکارڈ مرتب کرکے آئندہ نمائندوں کے لئے اچھا غیر تسلی بخش یا بُرا مقام عام لوگوں کے سامنے پیش کرکے ان کا ردعمل زبانی، تحریری یا برائے آئندہ انتخاب یا نظرانداز ہونے کا سامنا کرنے کی پوزیشن میں ہوں گے ۔

اس طرح آئندہ عام انتخابات میں عام لوگوں کے لئے ان کی سابقہ کارکردگی کا آزادانہ اور منصفانہ انداز سے جائزہ لے کر جانچنا اور پرکھنا بلاشبہ واضح اور آسان ہوجائے گا کہ کیا وہ آئندہ بھی منتخب کئے جانے کی کارکردگی کے اہل ہیں یا نہیں؟

اس ٹیسٹ کے ذریعے موجودہ جمہوری نظام کے مثبت اور منفی پہلوؤں پر بھی کافی حد تک عوام اور بالخصوص اپنے اپنے حلقوں کے لوگوں کے لئے یہ فیصلہ کرنا سہل ہوجانے کی اُمید ہے کہ سابقہ اُمیدوار نے اپنی حیثیت میں ملک وقوم اور اپنے علاقے کے ووٹروں کی بہتری اور فلاحی منصوبوں کے ذریعے صحیح خدمت کی ہے یا محض یہ عرصہ اپنے ذاتی مفادات کے حصول پر ہی لگانے کو ترجیح دی ہے، اگر اس نے کوئی بدعنوانی اور کمیشن وغیرہ حاصل کرکے اپنی ذاتی دولت، معاشی وسائل اور جائیداد کے ذرائع میں اضافہ کیا ہے تو پھر بھی اس کا تذکرہ بلکہ شور آئندہ انتخابی مہم میں مخالف امیدواروں کے لئے غالباً ایک اہم موضوع بنایا جاسکتا ہے، کیونکہ چمک دمک دور یا نزدیک سے نظر آہی جاتی ہے۔

گذشتہ روز ڈاکڑ طاہر القادری نے گذشتہ روزبعض دیگر سیاسی راہنماؤں کی حمایت سے موجودہ حکومت کے خاتمہ تک تحریک شروع کر دیں جبکہ حکومت انہیں اعلیٰ عدالتوں سے رجوع کرنے سے اپنے مطالبات حل کرانے کے لئے مشورہ دے رہی ہے۔اپوزیشن کے سیاسی راہنما، حکمران جماعتوں کے نمائندوں کو اپنی مدت کی کارکردگی میں محض ذاتی اغراض اور مخالفت کی بنا پر عوام کی بہتری کے منصوبوں کی کارکردگی میں ناجائز اور غیرضروری طور پر رکاوٹیں ڈالنے اور دخل اندازی کی کاروائیاں کرتے رہے۔

ایسا طرز عمل بقول ان کے سیاسی میدان میں ذہنی بلوغت میں کمی کا اظہار ہے۔ وہ تو وطن عزیز کو پہلے ہی پسماندہ جہالت سے متاثرہ اور بہتر شرح خواندگی کا متقاضی قرار دیتے ہیں۔

یہ جمہوری نظام کے فروغ پر بھی وہ لوگ ہماری کارکردگی کو اکثر ہدف تنقید بناتے رہتے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ یہاں اپوزیشن کے رہنما اپنی کارکردگی جمہوری اصولوں پر ڈھالیں۔

مزید : رائے /کالم


loading...