اسرائیل بھارت گٹھ جوڑ، ہوشیار رہنے کی ضرورت

اسرائیل بھارت گٹھ جوڑ، ہوشیار رہنے کی ضرورت

وزیر خارجہ خواجہ محمد آصف نے کہا ہے کہ بھارت اور اسرائیل کے اتحاد میں قدرِ مشترک اسلام دشمنی ہے، اسلئے دونوں کا گٹھ جوڑ فطری ہے، اس کے باوجود پاکستان اپنا دفاع موثر طور پر کرسکتا ہے، ہم کسی گھبراہٹ سے دوچار نہیں اور تمام خطرات سے آگاہ ہیں دہشت گردی کے خلاف جنگ سے پاکستان کی دفاعی استعداد میں اضافہ ہوا ہے تمام مکاتبِ فکر کے علما کی جانب سے دہشت گردی کے خلاف فتویٰ آنا خوش آئند ہے، جس نے مذہبی لبادہ اوڑھا ہوا ہے۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار ایک نیوز چینل کے پروگرام میں کیا۔

مسلمانوں کے خلاف ہنود و یہود کی سازشوں کا سلسلہ تاریخ میں بڑی دور تک پھیلا ہوا ہے دونوں کی اسلام دشمنی کسی صاحبِ نظر سے پوشیدہ نہیں ہے، اسرائیل کا تو وجود ہی فلسطین کی سرزمین پر ناجائز قبضے کا رہین منت ہے، اپنے قیام سے لے کر آج تک اسرائیل توسیع پسندی کی پالیسی پر گامزن ہے، فلسطین، شام اور اردن کے علاقوں پر غاصبانہ قبضے کرکے اس نے بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت بنا دیا، اب امریکہ نے بھی اس اقدام کی تائید کردی ہے اور اپنا سفارت خانہ تل ابیب سے بیت المقدس منتقل کرنے کا اعلان کیا ہے لیکن پوری دنیا نے امریکہ کے اس اقدام کو پسند نہیں کیا۔ حال ہی میں جنرل اسمبلی میں 128 ملکوں کی حمایت سے ایک قرارداد منظور کی گئی ہے جس میں امریکی اقدام کی مُذّمت کی گئی ہے، امریکہ دنیا بھر سے اس قرارداد کی منظوری پر ناراض ہے اور امداد بند کرنے کی دھمکیاں دے رہا ہے، اقوامِ متحدہ کے ذریعے فلسطین کو جو امداد دی جاتی ہے وہ بھی نصف کردی گئی ہے، امریکی صدر اپنی اسرائیل نوازی میں بہت دور تک چلے گئے ہیں یہاں تک کہ بھارت کے ساتھ اس کے تعلقات کا نیا دور بھی امریکی آشیر باد سے ہی شروع ہوا ہے، اسرائیل نے بھارت کے ساتھ میزائلوں کے جس معاہدے کی تجدید کی ہے وہ بھی امریکی ٹیکنالوجی ہی ہے جس سے اب بھارت بھی مستفید ہوگا اس طرح نریندر مودی نے نیتن یاہو کو دفاعی انڈسٹریز میں بھی سرمایہ کاری کی پیش کش کی ہے۔ دونوں ملکوں کے رہنماؤں نے ایک بار پھر عالم اسلام کے خلاف اپنا خبثِ باطن بھی ظاہر کردیا ہے، اسلام دشمنی کے علاوہ دونوں کے درمیان ایک قدر مشترک یہ بھی ہے کہ دونوں نے اقوام متحدہ کی قراردادوں کو قبول نہیں کیا، اسرائیل قرار دادوں کے باوجود فلسطینی سر زمین پر یہودی بستیاں بسا رہا ہے تو بھارت نے آج تک اقوام متحدہ میں کیا ہوا وعدہ پورا نہیں کیا اور مقبوضہ کشمیر میں رائے شماری کا اہتمام کرنے کی بجائے اس مسلمان ریاست پر غاصبانہ قبضہ کیا ہوا ہے۔

اسرائیلی وزیراعظم نیتن یا ہو نے بھارت میں ہونے والی سلامتی کانفرنس میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بھارت اور اسرائیل دو ایسی جمہوریتیں ہیں جن میں قدرتی مماثلت ہے تاہم ان کے آزاد اور لبرل معاشروں کو خدشات کا سامنا ہے ہمارے طرزِ زندگی کو چیلنج کیا جارہا ہے، حیرت کی بات ہے کہ وہ جس معاشرے کو لبرل اور آزاد کہہ رہے ہیں وہ انتہائی تنگ نظر اور کم ظرف معاشرہ ہے جہاں محض اس شبے کی بنیاد پر لوگوں کو قتل کردیا جاتا ہو کہ انہوں نے اپنی ریفریجریٹر میں گائے کا گوشت رکھا ہوا تھا اور بعد میں تحقیق پر پتہ چلے کہ یہ گائے کا نہیں بکرے کا گوشت تھا، بلکہ اس سے بھی بڑھ کر محض گایوں کا ایک ریوڑ لے جاتے ہوئے چرواہے کو اس بات پر موت کے گھاٹ اتار دیا جاتا ہو کہ یہ گائے بعد میں ذبح کی جائیں گی کیا کوئی سلیم الفطرت انسان ایسے معاشرے کو لبرل کہہ سکتا ہے۔ خود اسرائیل کے اندر انسانیت کی مٹی جس انداز میں پلید کی جاتی ہے وہ کوئی زیادہ قابلِ فخر نہیں اور نہ یہ ایسی حرکات ہیں جو کسی معاشرے کے لئے فخر و مباہات کا باعث ہوں۔

جس ملک کی بنیاد ہی دوسروں کے حقوق غصب کرکے رکھی گئی ہو وہ کس طرح اپنے آپ کو لبرل کہہ سکتا ہے، اسرائیل کی تنگ نظری کا تو عالم یہ ہے کہ وہ فلسطین کے اصل باشندوں کو ان کے حقوق دینے پر آمادہ نہیں، نہ انہیں اپنے ساتھ رکھنے کے لئے تیار ہے اور نہ ہی اسے دو ریاستی حل قابلِ قبول ہے اس لئے اس نے یہودی بستیاں آباد کرنے کا کام تیز رفتاری سے شروع کررکھا ہے تاکہ فلسطین کی کوئی زمین ہی باقی نہ بچے جس پر آزاد، خود مختار فلسطینی ریاست قائم ہوسکے، حیرت ہے ایسی افسوسناک تاریخ رکھنے والے دونوں ملک ان مسلمانوں کو بنیاد پرست کہہ رہے ہیں جو اپنے حقوق کے لئے پر امن جدوجہد کررہے ہیں۔ اسرائیلی گولیوں کا سامنا جو لوگ غلیلوں سے کررہے ہیں اور بھارت کے ریاستی جبر کا مقابلہ جو کشمیری پتھروں سے کررہے ہیں وہ تو بنیاد پرست ٹھہرے اور جو حکومتیں جبرو ستم کی ساری حدود عبور کررہی ہیں ،بھارت جس طرح دس دس سال کے بچوں کی آنکھوں میں پیلٹ گنوں کے چھرے مار کر انہیں بینائی سے محروم کررہا ہے وہ لبرل ہے، بر این عقل و دانش بباید گریست۔

پاکستان کے لئے اسرائیل اور بھارت کی اس سازش پر نظر رکھنا اس لئے ضروری ہے کہ یہ امریکہ کی سرپرستی میں پروان چڑھ رہی ہے، اس وقت امریکہ پاکستان کے ساتھ جس ’’انٹیلی جنس شیرنگ‘‘ کی بات کررہا ہے اور جس کا مقصد بظاہر افغانستان میں دہشت گردی کا مقابلہ کرنا ہے کیا خبر کہ ایسی تمام انٹیلی جنس معلومات افغانستان میں کام آنے سے پہلے بھارت کے پاس پہنچ جائیں چونکہ امریکہ بھارت کو افغانستان میں وسیع تر کردار سونپنے کا بھی متمنی ہے، اسلئے اس پہلو پر خاص طور سوچ بچار کی ضرورت ہے، ویسے تو پاکستان اور اس کے سکیورٹی کے ادارے پہلے ہی بھارت کی ایسی چالوں سے غافل نہیں ہیں لیکن تازہ تعاون کے بعد اس ضمن میں زیادہ گہرائی سے جائزہ لینے کی ضرورت ہوگی۔

مزید : رائے /اداریہ


loading...