صحت کے شعبے کے لئے زیادہ وسائل کی فراہمی

صحت کے شعبے کے لئے زیادہ وسائل کی فراہمی

وزیراعلیٰ شہبازشریف نے بعض حلقوں کے اس تاثر کو غلط قرار دیا ہے کہ صحت کے شعبے کو مطلوبہ وسائل مہیا نہیں کئے جا رہے ہیں۔ انہوں نے میوہسپتال کے سرجیکل ٹاور کا دورہ کرنے کے بعد واضح کیا ہے کہ صحت کے شعبے کی بہتری کے لئے وسائل میں کمی نہیں آنے دی جائے گی۔ سرجیکل ٹاور ایک ارب دس کروڑ روپے کی لاگت سے تعمیر ہوا ہے۔ وزیراعلیٰ شہبازشریف نے یہ بھی بتایا ہے کہ صوبے میں تمام ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتالوں میں سی، ٹی سکین مشینیں فراہم کی جا رہی ہیں، جو 24گھنٹے کام کریں گی۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ پچھلے کئی برسوں کے دوران پنجاب حکومت نے صحت کے شعبے کو بہت اہمیت دی اور ترجیحی بنیادوں پر اس شعبے میں بہتری لاتے ہوئے عوام کو علاج معالجے کی سہولتیں مہیا کی گئیں۔ صرف صحت ہی نہیں تعلیم کے شعبے کے لئے بھی زیادہ وسائل مہیا کئے گئے، چنانچہ دونوں شعبوں میں مثبت اور اطمینان بخش نتائج برآمد ہوئے۔ صحت کے شعبے میں ایمرجنسی کے ساتھ ساتھ ہسپتالوں کے وارڈز کی حالت بھی بہتر بنائی گئی۔ لاہور، ملتان، راولپنڈی، اسلام آباد میں جب میٹروبس اور پھر اورنج لائن ٹرین کے منصوبے پر عمل شروع ہُوا۔ 200 ارب سے زائد کے منصوبے کے لئے رقوم کا انتظام کیا گیا تو حکومت مخالف حلقوں نے یہ بیانات دیئے کہ صحت اور تعلیم کے بجٹ سے رقوم میٹروبس اور اورنج لائن ٹرین کے منصوبے مکمل کرنے کے لئے استعمال کی جا رہی ہیں۔ وزیراعلیٰ شہبازشریف متعدد بار واضح کر چکے ہیں کہ لاہور میں میٹروبس کے لئے ترکی کی حکومت نے مالی مدد کی جبکہ اورنج لائن ٹرین کے لئے چین کے بینک سے خصوصی پیکیج کے تحت رقوم حاصل کی جا رہی ہیں۔ اس کے باوجود مخالفانہ بیانات میں کمی نہیں آئی۔ اس تاثر کو ختم کرنے کے لئے وزیراعلیٰ شہبازشریف نے ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ صحت کے شعبے کی بہتری کے لئے وسائل میں کمی نہیں آنے دیں گے۔ صحت کا شعبہ کافی وسیع ہے اور عوامی ضروریات کو پورا کرنے کے حوالے سے بھی بہت زیادہ اہمیت کا حامل ہے۔ حکومت نے وسائل مہیا کرکے ادویات کی مفت فراہمی اور مختلف ٹیسٹوں کے لئے غریب اور مستحق مریضوں کو رعایت کی پالیسی متعارف کروائی گئی لیکن بددیانت عملے کی وجہ سے وسائل کے مطابق تمام سہولتیں مریضوں کو حاصل نہیں ہوتی ہیں۔ جدید اور مہنگی مشینیں ٹیسٹوں کے لئے منگوائی جاتی ہیں، ناقص حکمت عملی کی وجہ سے بعض ہسپتالوں میں مشینیں نصب کرنے کا انتظام نہیں ہوتا۔ ایسی بیشتر مشینوں کو برسوں بعد زنگ آلود حالت میں محکمہ صحت کے گوداموں تک پہنچا دیا جاتا ہے۔ مطلوبہ ٹرینڈ سٹاف نہ ہونے کی وجہ سے بھی بعض مشینیں بہت جلد خراب ہو جاتی ہیں اور مریض ضروری اوراہم سہولت سے محروم ہو جاتے ہیں۔ اسی طرح ادویات کی خوردبرد اور چوری کرکے فروخت کرنے کے ساتھ ساتھ غیر معیاری ادویات ملی بھگت سے مہنگے داموں خریدنے کی شکایت بھی عام ہے۔ اس جانب توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ وزیراعلیٰ اور متعلقہ حکام یہ مسئلہ حل نہیں کر پائے ہیں۔ اس وجہ سے بھی مریضوں کو سہولتوں کی کمی محسوس ہوتی ہے۔ کچھ دیگر عوامل بھی صحت کے شعبے کی بہتری میں رکاوٹ بنتے رہتے ہیں۔ وزیراعلیٰ شہبازشریف کو چاہئے کہ وہ صرف وسائل کی فراہمی کو یقینی بنا کر مطمئن نہ ہو جائیں، صحت کی سہولتوں کی کمی کا باعث بننے والی رکاوٹوں کا خاتمہ بھی کریں۔ 24گھنٹے سی ٹی سکین مشینوں کی سہولت قابلِ تعریف اقدام ہے لیکن ٹرینڈ سٹاف کی تعیناتی کو بھی یقینی بنایا جائے تاکہ یہ قیمتی اور جدید مشینیں جلد خراب نہ ہو جایا کریں۔ اس بات پر بھی توجہ دی جائے کہ صرف بڑے شہروں تک ہی مریضوں کو صحت کی سہولتیں نہ ہوں، چھوٹے شہروں میں بھی ترجیحی بنیادوں پر مریضوں کے علاج معالجے کو یقینی بنانے کی ضرورت ہے۔

مزید : رائے /اداریہ


loading...