تحریک قادریہ، عمران+خطاب زرداری

تحریک قادریہ، عمران+خطاب زرداری
 تحریک قادریہ، عمران+خطاب زرداری

  


یاد کرنے کی کوشش کی تو اندازہ ہوا کہ خبر بنانے والے کی بات بالکل درست ہے کہ سابق صدر مملکت، پیپلزپارٹی (پارلیمنٹرین) کے صدر اور پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے پہلے کبھی لاہور میں کسی جلسہ عام سے خطاب نہیں کیا تھا، یہ موقع ان کو خود ان کی جماعت نے نہیں پاکستان عوامی تحریک کے چیئرمین قبلہ ڈاکٹر طاہر القادری نے فراہم کیا اور وہ احتجاجی جلسہ سے خطاب کر پائے، پیشتر اس کے کہ ماضی کے دو واقعات کا ذکر ہو، حالیہ صورت حال کی بات کرلی جائے، اس میں قبلہ کی سٹیج پر بہت سی جماعتیں جمع ہو گئی ہیں تاہم ان کے پروگرام ہی مختلف نہیں، خیالات میں بھی کھلا تضاد موجود ہے جس کے اظہار میں بھی تامل نہیں کیا گیا، محترم ڈاکٹر طاہر القادری اس مرتبہ کینیڈا سے پاکستان یاترا پر تشریف لائے تو ماضی کی طرح ان کا پروگرام طے شدہ تھا اور انہوں نے کچھ دیر قیام کے بعد واپس جانا تھا۔ یہاں سے وہ لندن جاتے اور پھر بعض دوسرے ممالک میں کانفرنسوں اور اجتماعات سے خطاب کے بعد واپس کینیڈا پہنچ جاتے کہ ان کی شہریت بھی ہے۔

تاہم یہاں انہوں نے سانحہ ماڈل ٹاؤن کی برسی میں شرکت کی تو ساتھ ہی انہوں نے سیاسی رابطے شروع کر دیئے پھر ان کی ایک طویل ملاقات فرزند راولپنڈی شیخ رشید سے ہوئی اس کے بعد معاملہ کسی اور طرف جانا شروع ہوا اور انہوں نے سانحہ ماڈل ٹاؤن کے مقتولین کے قصاص کا اعلان کر دیا۔

اس کے بعد تو چلا چل ہو گئی۔ مسلم لیگ (ق) اور بعض دوسری جماعتوں نے بوجہ رجوع کیا تو پیپلزپارٹی بھی چلی آئی حتیٰ کہ خود آصف علی زرداری بہ نفس نفیس منہاج القرآن آئے اور انہوں نے سانحہ ماڈل ٹاؤن کے مقتولین کے لئے انصاف کی تحریک میں شرکت کا اعلان کر دیا۔ یہ تبدیلی اور قبلہ کا پروگرام تحقیقاتی کمشن جسٹس باقر نجفی کی رپورٹ عام ہونے کے بعد شروع ہوا، ڈاکٹر طاہر القادری نے رپورٹ کی روشنی میں وزیر اعلیٰ محمد شہباز شریف اور وزیر قانون رانا ثناء اللہ کو ذمہ دار قرار دے کر ان سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا اور پھر بات آگے بڑھا کر تحریک کا اعلان کر دیا، مطالبہ انصاف کے لئے استعفوں سے بڑھ کر پنجاب حکومت کا خاتمہ ہو گیا اور اس مطالبے پر باقی جماعتوں نے صاد کیا یہ کھلا راز ہے کہ کس طرح اے پی سی ہوئی اور کس طرح مشترکہ احتجاج کا اعلان ہوا۔

اس فیصلے کی روشنی میں بڑا سوال تو یہ پیدا ہوا کہ کیا پیپلزپارٹی اور تحریک انصاف مل کر چلیں گی؟ ڈاکٹر طاہر القادری نے دعویٰ کر دیا کہ مل کر چلیں گی اور احتجاج میں شریک ہوں گی۔

یہاں تک تو ٹھیک ہو گیا کہ دونوں جماعتوں نے اے پی سی میں شرکت کی سٹینڈنگ کمیٹی میں بھی شامل ہو گئیں تاہم جب مال روڈ پر جلسے کا اعلان ہو گیا تو سوال پیدا ہوا کیا زرداری اور عمران ایک کنٹینر پر اکٹھے ہوں گے؟

ڈاکٹر طاہر القادری نے اثبات کا دعویٰ کیا تو پیپلزپارٹی (وسطی پنجاب) کے صدر قمر زمان کائرہ نے تصدیق کر دی، یہ دیکھ کر برادرم ترجمان تحریک انصاف چودھری فواد جو کبھی پیپلزپارٹی کے سرگرم رکن اور ان کے چچا الطاف حسین پنجاب کے گورنر بھی رہے فوراً ہی میدان میں آئے اور انہوں نے تردید کر دی اور کہا کہ پیپلزپارٹی اور تحریک انصاف کے پروگرام مختلف ہیں۔

ڈاکٹر طاہر القادری اپنا شو تو خراب نہیں کر سکتے تھے اس لئے انہوں نے راستہ نکالا اور احتجاج کے بھی دو حصے کر دیئے ان کے مطابق ایک کنٹینر ایک سٹیج اور ایک ہی مسجد ہو گی اور سب راہنما وہیں سے خطاب کریں گے۔

محترم نے بڑی عقل مندی کا مظاہرہ کیا تاثر یہ دیا کہ زرداری اور عمران ایک صف میں اکٹھے ہوں گے لیکن جلد ہی ان کی طرف سے نکالی گئی درمیانی راہ کی وجہ سے معلوم ہوا کہ مال روڈ والے احتجاجی جلسے کو سیمینار کی صورت دے کر اس کی دو نشستیں کر دی گئیں۔

آصف علی زرداری پہلی نشست میں آکر خطاب کریں گے اور عمران ان کے جانے کے بعد آکر دوسری نشست میں خطاب کریں گے۔ سانپ اور لاٹھی والا مسئلہ ہوا اور قبلہ کا فرمانا بھی درست ہو گیا کہ ایک ہی سٹیج اور ایک ہی کنٹینر سے خطاب ہوگا البتہ ہر دو لیڈروں کی ہتھ جوڑی نہ ہو سکی وہ اکٹھے نہ بیٹھے الگ الگ ہی رہے۔

فواد چودھری کی بات درست نکلی اور معلوم نہیں قمر زمان کائرہ کو شرمندگی ہوئی یا نہیں، البتہ اتنا ہوا کہ آصف علی زرداری نے قبلہ کو بلاول ہاؤس مدعو کر لیا اور وہ بڑے شوق سے اعلان کر کے ’’ساگ‘‘ کھانے چلے گئے کہ ان کی حکمت عملی سے ان کا شو تو خراب نہ ہوا، اگرچہ دونوں اکٹھے نہ ہو پائے۔

اس سلسلے میں ہمیں یاد آیا کہ جب آصف علی زرداری احتساب کیسوں میں طویل حراست کے بعد رہا ہوئے تو انہوں نے عملی سیاست میں حصہ لینے کا اعلان کر دیا تھا۔

تب بی بی ’’جلا وطن‘‘ اور دوبئی میں قیام پذیر تھیں زرداری ان سے ملنے گئے اور واپسی پر لاہور ایئر پورٹ پر اپنا استقبال کرایا۔ جیالے گئے اور مار بھی کھائی۔

محترم زرداری نے اعلان کر دیا کہ وہ لاہور میں قیام کریں گے اور عملی سیاست میں حصہ لیں گے۔ پھر معلوم نہیں کیا ہوا کہ ان کو ایک بار پھر ملک سے باہر جانا پڑا، واپسی پر بڑے بھرپور استقبال کی تیاریوں کا چرچا ہوا اور اعلان ہوا کہ وہ آمد کے بعد جلسہ سے خطاب کریں گے۔

لیکن پھر ’’اہم راہنماؤں اور کارکنوں‘‘ کو پیغام ملے کہ ایسا کوئی کامیاب شو نہیں ہونا چاہئے اور یونہی ہوا۔ کہ جیالوں کی اتنی تعداد جمع نہ ہو سکی اور زردری صاحب کو ایئر پورٹ ہی سے سرکاری نگرانی میں باہر پہنچا دیا گیا اس کے بعد تو وہ عملی سیاست سے باہر رہے اگرچہ تاثر نہ دیا پھر وہ یہیں (لاہور) سے امریکہ چلے گئے یوں وہ لاہور میں جلسہ عام سے خطاب نہ کر سکے، اور اب موقع ملا ہے آصف علی زرداری کی واپسی محترمہ بے نظیر بھٹو کی شہادت کے بعد ہوئی اور وہ وارث کے طور پر آئے اب وہ وراثت سنبھال کر سیاست کر رہے ہیں اگرچہ پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری ہیں اوربقول زرداری وہ مستقبل کے وزیر اعظم ہیں۔ وما علینا۔۔۔۔۔۔؟

مزید : رائے /کالم


loading...