چین کی اقتصادی صورتحال بدستور مستحکم دکھائی دیتی ہے

چین کی اقتصادی صورتحال بدستور مستحکم دکھائی دیتی ہے

برلن (آئی این پی/زنہوا ) جرمن کے اقتصادی تحقیقی ادارہ مرکز برائے یورپی اقتصادی تحقیق (زیڈ ای ڈبلیو ) نے گذشتہ روز کہا کہ آنے والے بارہ مہینوں میں چینی معیشت کے امکانات دوبارہ بہتر ہو گئے ہیں، زیڈ ای ڈبلیو کا اعشاریہ جو چین کی مائیکرو اکنامک کے بارے میں بین الاقوامی مالیاتی مارکیٹ ماہرین کی توقعات کا آئینہ دار ہے بہتر ہو گیا ہے،اگرچہ جنوری کے اعدادوشمار اب بھی 5.1پوائنٹس کی طویل المیعاد اوسط سے کم ہے تا ہم سروے میں امکانات میں کسی کمی کے رجحان کا انکشاف نہیں کیا گیا ہے۔مان ہائم میں قائم تھنک ٹینک نے بتایا کہ 2014ء کے آس پاس کے بعد سے امکانات میں مقابلتاً مستحکم اوسط مالیت سے کمی بیشی پائی گئی ہے ۔مزید برآں زیڈ ای ڈبلیو کے ماہرین نے پیشنگوئی کی ہے کہ 2018ء میں چین کی حقیقی مجموعی ملکی پیداوار کی شرح 6.6فیصد اور 2019ء میں 6.5فیصد ہو گی۔ زیڈ ای ڈبلیو کے سنیئر ریسرچر ڈاکٹر مائیکل سی شروئی ڈر نے کہا کہ حال ہی میں کئے جانیوالے سروے کے نتائج چین کی مزید اقتصادی ترقی کے بارے میں خاصی مثبت صورتحال کی نشاندہی کرتے ہیں ، عالمی بنک نے بھی گذشتہ ماہ 2017ء میں چین کی اقتصادی شرح نمو کے بارے میں اپنی پیشنگوئی بڑھا کر 6.8فیصد کی ہے جو کہ اکتوبر میں اس کی پیشنگوئی 6.7فیصد سے زیادہ ہے، شرح نمو میں اضافے کی وجہ زبردست ذاتی کھپت اور بیرونی تجارت کو بتایا گیا ہے ، بین الاقوامی مالیاتی فنڈ نے بتایا کہ 2017ء میں بھی چین کی اقتصادی شرح نمو 6.8فیصد ہو گی ۔

مزید : کامرس


loading...