شبیر شاہ کی طرف سے ضمانت کیلئے عدالت میں درخواست دائر

شبیر شاہ کی طرف سے ضمانت کیلئے عدالت میں درخواست دائر

نئی دلی(آن لائن)نئی دلی کی ایک عدالت نے بھارتی تحقیقاتی ادارے انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کوغیر قانونی طورپر نظربند کل جماعتی حریت کانفرنس کے سینئر رہنماء شبیر احمد شاہ کی 2007 کے ایک جھوٹے مقدمے میں ضمانت کی نء درخواست پر جواب دائرکرنے کی ہدایت کی ہے جبکہ حریت رہنماء کی اہلیہ نے کہاہے کہ شبیر شاہ کو تہاڑ جیل میں موت کی طرف دھکیلنے کیلئے سلو پوائیزنگ کا نشانہ بنایا جارہا ہے ۔ ایڈیشنل سیشنز جج نئی دلی سدھارتھ شرما نے انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کے خصوصی پبلک پراسیکوٹر این کے مٹا کو ضمانت کی درخواست پر 26فروری تک جواب پیش کرنے کی ہدایت کی ۔ شبیر شاہ نے ضمانت کی درخواست میں کہا گیاہے کہ تحقیقاتی ادارے کی طرف سے چارج شیٹ دائر کرنے پر مقدمے کی تفتیش مکمل ہو چکی ہے اور اب وہ اس سلسلے میں کوئی خلل نہیں ڈال سکتے ہیں لہذا انہیں ضمانت پر رہاکیاجاناچاہیے۔ایڈووکیٹ ایم ایس خان نے مقدمے میں شبیر شاہ کی پیروی کی انہوں نے عدالت کو بتایا کہ انکے موکل کو نظربندرکھنابے مقصد ہے ۔شبیر شاہ نے ویڈیو کانفرسنگ کے ذریعے عدالت کو بتایا انہیں تہاڑ جیل میں علاج معالجے کی سہولت بھی فراہم نہیں کی جارہی ہے ۔ انہوں نے کہاکہ اگر وہ زندہ ہی نہیں رہیں گے تو مقدمہ کس کے خلاف چلایا جائے گا۔ ادھر شبیر شاہ کی اہلیہ ڈاکٹر بلقیس شاہ نے بھی عدالت میں ایک درخواست دائر کی ہے جس میں کہاگیا ہے کہ انکے شوہر متعدد عارضوں میں مبتلا ہیں اور وہ گزشتہ چھ برس سے زیر علاج ہیں اورادویات لے رہے ہیں۔

ا

نہوں نے کہاکہ انہیں جیل میں یہ ادویات فراہم نہیں کی جارہی ہیں جس کی وجہ سے انہیں غشی کے دورے پڑ رہے ہیں۔ انہوں نے درخواست میں کہاکہ بار بار جیل حکام سے اس بارے میں درخواستیں کی گئی ہیں جس سے ظاہر ہوتا ہے۔ کہ انہیں موت کی طرف دھکیلنے کیلئے جیل میں سلو پوائیزنگ کا نشانہ بنایا جارہا ہے ۔

مزید : عالمی منظر


loading...