چاقو کھل گئے

چاقو کھل گئے
 چاقو کھل گئے

  


حکومت کے ساتھ گن فائیٹ میں متحدہ اپوزیشن چاقو لے کر اتری ہے لیکن امید رکھتی ہے کہ جلد ہی اس کے ہاتھ میں توپ لگ جائے گی جس سے حکومت کے کشتوں کے پشتے لگادے گی!....

1977ء میں اس وقت کی ننھی منی اپوزیشن بھی ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف ایسی ہی تحریک چلارہی ہوگی جب اس کے ہاتھ انتخابات میں دھاندلی کی توپ لگ گئی تھی اور پھر بھٹو جیسے مضبوط وزیر اعظم رائی کی طرح ہوا میں بکھر گئے تھے ، ہواؤں میں چھپی بلائیں کھل کر سامنے آگئی تھیں اور ملک سے اگلے گیارہ برس کے لئے سیاست کی بساط لپیٹ دی گئی تھی!

دلچسپ بات یہ ہے کہ مفتی محمود کی شکل میں تحریک نظامِ مصطفےٰ کی قیادت بھی ویسے ہی غیر موثر دکھائی دیتی تھی جیسے آج علامہ طاہرالقادری کی شکل میں موجودہ متحدہ اپوزیشن کی دکھائی دیتی ہے لیکن مفتی محمود تو پھر بھی پارلیمنٹیرین تھے ، علامہ قادری تو وہ بھی نہیں ہیں اور ان کی سیاسی جماعت ، پاکستان عوامی تحریک میں پہلے دو لفظ تو اضافی دکھائی دیتے ہیں ، ہاں تحریک پیدا کرنے کی جیسی صلاحیت وہ رکھتے ہیں ویسی تو عمران اور زرداری میں سے کوئی بھی نہیں رکھتا، حتیٰ کہ شیخ رشید بھی نہیں جو کئی بار عوام کو جلاؤ گھیراؤ کے لئے اکسا چکے ہیں مگر ان کے سامع ٹس سے مس نہیں ہوتے ، جبکہ علامہ ایسے الفاظ استعمال بھی نہیں کرتے اور ان کے ماننے والے انتظامیہ کی اینٹ سے اینٹ بجادیتے ہیں ، تبھی تو علامہ قادری ان سیاسی بونوں کی قیادت کررہے ہیں کیونکہ ان کے الفاظ کے دانت نہیں ہوتے مگر پھر بھی ایسا کاٹتے ہیں کہ برسوں وہ زخم نہیں بھرتے !

تحریک انصاف کے معصوم حامیوں کا خیال تھا کہ ایک مرتبہ سپریم کورٹ سے نواز شریف کو کرپشن کے الزام میں اتارا گیا تو ان کا بستر گول ہو جائے گا اور ان کی جانب سے چلائی جانے والی گو نواز گو مہم کامیاب ہو جائے گی ، نواز شریف کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہیں رہیں گے ، پھر گلیاں ہوجان سنجیاں وچ مرزا یار پھرے کے مصداق عمران خان شادیاں رچائیں یا حکومت چلائیں ، ان کو روکنے والا کوئی نہیں ہوگا۔ لیکن سپریم کورٹ سے نااہل قرار پاکر نواز شریف سب سے زیادہ اہل نظر آنے لگے ہیں ، ایک عمران خان ہی نہیں آصف زرداری بھی علامہ قادری کو نوابزادہ نصراللہ سمجھ کر ان کے کنٹینر پر جا کھڑے ہوئے ہیں۔ یعنی عدالتی فیصلے سے نواز شریف کونہیں نکالا جاسکا تو کنٹینر چلا کر نکالنے کا پروگرام بنا لیا گیا ہے۔سوال یہ ہے کہ نواز شریف کنٹینر سے بھی نہ نکلا تو کیا ہوگا؟....پھر اس اپوزیشن کے نام پر کیا نکالا جائے گا؟؟....کچھ بھی نکالا جائے ، ہم ایک بات جانتے ہیں کہ کراچی میں ایم کیوایم اور پاک سر زمین کا غیر فطری ملاپ ہو یا فیض آباد چوک میں دھرنا کے حاضرین میں ہزار ہزار روپے کی تقسیم یا پھر بلوچستان میں پانچ سو ووٹ لینے والے کو وزیر اعلیٰ منتخب کروانے کا عمل ، ہر کارروائی کا ایک پیغام ہے، کہیں ایسا نہ ہوکہ پنجاب میں بھی کنٹینر نکالنے پر ایک مرتبہ پھر شفافیت سامنے آ جائے، عوام تاثر کی بنا پر ہی رائے قائم کرتے ہیں!

علامہ قادری حالیہ احتجاج کے حوالے سے کہتے ہیں کہ یہ فیصلہ کن ہوگااور اگر اس بار وہ کامیاب نہ ہوئے تو آئندہ کبھی احتجاج نہیں کریں گے ، ایسا ہی وہ اگست 2014میں چٹکیاں بجاتے کہتے تھے کہ حکومت یوں جائے گی ، یوں !....اب بھی وہ اپنی تحریک کو فیصلہ کن معرکہ قرار دے رہے ہیں اور منہاج القرآن کے ترجمان نوراللہ صدیقی اسے Last battleکہتے ہیں جبکہ ہمارا اصرار ہے کہ علامہ قادری Last round of a lost battleمیں داخل ہو رہے ہیں جبکہ نوراللہ کمزور انگریزی کی وجہ سے اس Lost کو Last پڑھ رہے ہیں ، دیکھئے کون سچا ثابت ہوتا ہے!

نواز لیگ کا چیلنج یہ ہے کہ ایک اپوزیشن تو اس کے سامنے کھڑی ہے ، دوسری اپوزیشن ہواؤں میں چھپی بلا کی طرح اس کو ڈرارہی ہے ، تیسری اپوزیشن ٹی وی چینلوں کے ٹاک شوز پر بیٹھی ہے اور چوتھی اپوزیشن انصاف کا ترازو لئے اس کے پیچھے بھاگ رہی ہے ، اتنی ساری مخالفانہ طاقتوں کے مقابلے میں نون لیگ کے پاس صرف عوام کی طاقت ہے مگر مسئلہ یہ ہے کہ عوام نہتے ہیں ، وہ رائے کا اظہار تو کر سکتے ہیں ، رائے کو ہتھیار بنا کر جمہوریت مخالف قوتوں کو تہس نہس نہیں کر سکتے!

ہاں البتہ علامہ قادری کی قیادت میں اکٹھی ہونے والی اپوزیشن کا کمزور نقطہ یہ ہے کہ ماڈل ٹاؤن کے جن 14شہداء کے نام پر یہ حشر اٹھایا جارہا ہے ان میں سے چار کے نام بھی عمران خان یا آصف زرداری کونہیں آتے ہوں گے اور ممکن ہے کہ چودہ کے چودہ نام خود علامہ قادری کو بھی نہ آتے ہوں، اگر آتے ہوتے تو کبھی یہ تعداد دس اور کبھی چودہ کیوں بتائی جاتی۔ ہم مزید کچھ کہے بغیر منیر نیازی کے اس شعر پر بات ختم کریں گے :

شہر کو برباد کرکے رکھ دیا اس نے منیر

شہر پر یہ ظلم میرے نام پر اس نے کیا

مزید : رائے /کالم


loading...