خواجہ سراؤں کو شناخت معلمین کو مفت حج کی سہولت نہ دینے کی سفارش

خواجہ سراؤں کو شناخت معلمین کو مفت حج کی سہولت نہ دینے کی سفارش

اسلام آباد(آن لائن) اسلامی نظریاتی کونسل نے خواجہ سراؤں کو اپنی مرضی کی شناخت اختیار کرنے ،اقلیتوں سے ان کے مذہب کے مطابق حلف لینے اورمعلمین کو مفت حج کی سہولت نہ دینے کی سفارش کرتے ہوئے جمعہ کے مبارک دن کو بلیک فرائیڈے کی بجائے بلیسڈ فرائیڈے کے طور پر منانے کی ضرورت پر بھی زور دیا ہے ۔بدھ کے روز کونسل کے اجلاس کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کونسل کے چیئرمین ڈاکٹر قبلہ آیاز نے کہا کونسل کے اجلاس میں قصور کے واقعے کی شدید مذمت اور ایسے واقعات میں محض پولیس و انتظامیہ کو مورود الزام ٹھہرانے سے اسکی شدت کم نہیں کی جا سکتی بلکہ ایسے واقعات کی روک تھام کیلئے نفسیاتی پہلووں ،میڈیا کے کردارکا بھی جائزہ لینے کی ضرورت ہے ۔ ریاست ایسے واقعات کی روک تھام کیلئے اقدامات اٹھائے اس قسم کے بڑھتے ہوئے واقعات معاشرے کے زوال کی نشاندہی کر رہے ہیں، گلوبلائزیشن اور سوشل میڈیا کی وجہ سے ہمارے معاشرے پر بھی اس کے اثرات آرہے ہیں جس کا گہرائی سے مطا لعہ بہت ضروری ہے، اجلاس میں خواجہ سراؤں کے حقوق کے حوالے سے بل پیش کیا گیا اس بل کا جائزہ لینے کے بعد کونسل نے سفارش کی ہے کہ جو سزائیں تعزیرات پاکستان کے تحت دی جاتی ہیں وہی خواجہ سراؤں کیساتھ ہونیوالے جرائم پر بھی لاگو ہوتی ہیں تاہم کونسل نے یہ سفا رش کی ہے کہ خواجہ سرا اپنی مرضی کیساتھ جو شناخت اختیار کرنا چاہتے ہیں ان کو اس کا اختیار دیا جائے اور اگر وراثت کے سلسلے میں اختلا ف کا مسئلہ سامنے آیا تو اس صورت میں عدالت کو اختیار حاصل ہوگا کہ وہ خواجہ سرا کی اصل شناخت کے مطابق فیصلہ کرے، غیر مسلمو ں کے حلف نامے کے بارے میں ابھی تک اقلیتوں کی جانب سے کسی قسم کی شکایت سامنے نہیں آئی تاہم کونسل نے سفارش کی ہے کہ اقلیتوں سے ان کے مذہب کے مطابق حلف لیا جائے ، حج کے حوالے سے کونسل نے سفارش کی ہے کہ حج کیلئے تربیتی ورکشاپوں کا انعقاد زیا دہ سے زیادہ کیا جائے اور حج معلمین کو مفت حج کرانے کی سہولت ختم کی جائے،کونسل کے سامنے ایک اہم مسئلہ یہ آیا کہ ملک میں فتویٰ دینے کا اختیار کس کے پاس ہونا چاہیے اس حوالے سے گزشتہ روز ہونیوالے اجلاس میں ملک کے جید علماء اکرام نے تفصیلی فیصلہ جاری کیا ہے ، کونسل نے ملک میں ہونیوالے احتجاج اور دھرنوں ،صنفی حقوق اور لڑکیوں کی شادی کے وقت عمر کے حوالے سے مذید تحقیق کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے اس کیلئے کمیٹیاں قائم کر دی ہیں، کونسل کے پاس جمعتہ المبارک کو بطور بلیک فرائیڈے منانے کے حوالے سے نکتہ سامنے آیا جس پر مفصل گفتگو ہوئی ، کونسل اراکین کالے رنگ کی اہانت یا مخالفت نہیں کرتے ہیں تاہم جمعہ کا دن ہمیشہ سے مبارک دن کے طور پر سامنے آیا ہے اور صدقہ و خیرات کے حوالے سے بھی مسلمانوں میں اہمیت کا حامل ہے لہٰذااگر جمعہ کے دن بلیک فرائیڈے کی بجائے بلیسڈ فرائیڈے کے طور پر منایا جائے اور اس روز خصوصی رعایت کا سلسلہ جاری رکھا جائے تو بہت بہتر ہوگا، لڑکیوں کی شادی کے عمر کے حوالے سے یہ فیصلہ کیا گیا ہے کونسل دیگر اسلامی ممالک میں رائج قوانین اور تحقیق کے بعدمسئلے کو دوبارہ کونسل اجلاس میں پیش کرے گی ۔اسلامی نظریاتی کونسل

مزید : علاقائی


loading...