سہارا ٹیچنگ ہسپتال کے ڈاکٹر نے زندہ بچے کو مردہ قرار دے دیا

سہارا ٹیچنگ ہسپتال کے ڈاکٹر نے زندہ بچے کو مردہ قرار دے دیا
سہارا ٹیچنگ ہسپتال کے ڈاکٹر نے زندہ بچے کو مردہ قرار دے دیا

  


نارووال (ویب ڈیسک) صغریٰ شفیع میڈیکل کمپلیکس سہارا ٹیچنگ ہسپتال کے ڈاکٹر نے مبینہ طور پر زندہ بچے کو مردہ قرار دے کر والدین کو بچے کی موت کا سرٹیفکیٹ بھی جاری کردیا، بچے کے والدین اپنے لخت جگر کی موت کی خبر سن کر سکتے میں آگئے، گھر پہنچ کر دیکھا  تو بچہ سانسیں لے رہا تھا فوری طور پر ڈی ایچ کیو ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں بچے کی حالت اب خطرے سے باہر ہے۔

تفصیلات کے مطابق نارووال گنج منڈی حسین آباد کا رہائشی عطر نامی شخص کا دو ماہ کا بیٹا فہد کی طبیعت خراب ہونے پر صغریٰ شفیع میڈیکل کمپلیکس سہارا ٹیچنگ ہسپتال لے جایا گیا جہاں پر والد عطر کے مطابق ڈیوٹی پر مامور ڈاکٹر نے مبینہ طور پر بچے کو باقاعدہ چیک کرنے کے بعد مردہ قرر دے دیا اور بچے کی موت کا سرٹیفکیٹ بھی جاری کردیا، اہلخانہ پر یہ بجلی بن کر گری اور وہ روتے ہوئے اپنے بچے کو گھر لے آئے، گھر پہنچ کر اہلخانہ نے دیکھا کہ بچہ سانسیں لے رہا ہے تو فوری طور پر بچے کو ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال نارووال کی ایمرجنسی میں لے جایا گیا جہاں ڈیوٹی پر موجود ڈاکٹروں نے بچے کو چیک کیا تو بچہ نارمل سانس لے رہا تھا۔

روزنامہ خبریں کے مطابق ڈاکٹروں نے بچے کو فوری طبی امداد دی جس سے بچے کی حالت اب پہلے سے بہتر بتائی جاتی ہے، بچے کے والد اطہر اور نانا عبدالحمید نے میڈیا کو بتایا کہ تو اپنے بچے کو ڈاکٹر کے کہنے کے مطابق مردہ سمجھ کر تدفین کا سامان بھی اکٹھا کررہے تھے لیکن اللہ نے کرم کیا اور ان کے بیٹے کی حالت اب بالکل ٹھیک ہے۔

مزید : علاقائی /پنجاب /نارووال


loading...