ہم نے سنا ہے وہاں دودھ کی نہریں بہتی ہیں

ہم نے سنا ہے وہاں دودھ کی نہریں بہتی ہیں
ہم نے سنا ہے وہاں دودھ کی نہریں بہتی ہیں

  


طلحہ سعید قریشی

آج تم نے ، مجھ جیسے، صحافی کو بھی قلم اٹھانے پر مجبور کر دیا، جس کا قلم ایک عرصہ دراز سے کسی کونے میں پڑا زنگ آلود ہو چکا تھا، لیکن یقین مانو، کہ اس قلم نے جب میرا ارادہ بھانپا کہ میںنے تم پر لکھنے کے لیے اسے اٹھایا ہے، تو یوں لگا جیسے اس میں بھی زندگی کی لہر دوڑ گئی، جانے وہ زندگی کی لہر تھی، یا کہ غم و غصہ کے جذبات کی،، کیونکہ میں نے دیکھا، کہ اسکی سیاہی نے بھی خون کا رنگ اپنا لیااور اسکی" نب" سے الفاظ کی بجائے آنسو رسنے لگے۔ زینب تمہیں معلوم ہے؟ کہ تم نے اس دنیا کو چھوڑ کر خود پر بہت بڑا احسان کیا، ننھی سی عمر میں ہی، تم ایک بات جان گئیں کہ تم نے یہاں مزید بڑا نہیں ہونا۔ تم جان گئیں کہ تم وہ کلی ہو جسکی جگہ اس کانٹوں کے گلستان میں نہیں، میں انکار ی نہیں کے تم پر ظلم نہیں ہوا، بلکہ تم پر تو قیامت ڈھائی گئی، لیکن اس ایک بار کی قیامت سے ، تم روز روز مرنے سے بچ گئیں۔ تمہیں شاید نہیں اندازہ میری بیٹی، کہ تم روز روز مرنے سے بچ گئیں۔ شاید مجھے یہ بھی معلوم ہے، کہ یہ فیصلہ تمہارا اپنا نہ تھا۔ لیکن یہ فیصلہ تمہارے لیے کس قدر بہتر ہوا تمہیں اندازہ نہیں ، جانتی ہو کیسے، کیونکہ اب تم پرکبھی بھی سکول جاتے ہوئے، کسی بھی درندے کی نظر نہیں پڑے گی، کبھی کھیلتے کودتے کوئی بھی میلی آنکھ تمہیں نہ دیکھ سکے گی۔ کبھی کسی دکان پر جو تم کوئی ٹافیاں خریدنے جاو گی، تو دوکاندار کے ہاتھ ارادی طور پر تمہارے ہاتھوں کو چھو نہ سکیں گے، کبھی بھی، اپنے ہی کسی چاچو، ماموں یا تایا کی گود میں بیٹھنے سے بھی تمہیں ہچکچاہٹ نہیں ہو گی، نہ ہی سکول کا کوئی گندہ چوکیدار تمہیں ہراساں کرے گانہ ہی تمہیں پڑھانے کے لیے آنے والے قاری صاحب، تم سے کوئی فائدہ اٹھا پائیں گے۔ تمہیں پتہ ہے، اس دنیا میں، انسانوں کے روپ میں بہت سے بھیڑیئے ہیں ، لیکن اب تمہیں کسی بھی ایسے بھیڑیئے سے گھبرانے کی ضرورت نہیں۔ جانتی ہو کیوں ؟ کیونکہ ہمیں چھوڑ کر جہاں تم گئی ہو، ہم نے سنا ہے وہاں دودھ کی نہریں بہتی ہیں۔

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید : بلاگ


loading...