شیروں کا شکاری ، امریکہ میں مقیم شکاری اور شاعر قمر نقوی کی شکار بیتیاں ..۔ قسط 4

شیروں کا شکاری ، امریکہ میں مقیم شکاری اور شاعر قمر نقوی کی شکار بیتیاں ..۔ ...
شیروں کا شکاری ، امریکہ میں مقیم شکاری اور شاعر قمر نقوی کی شکار بیتیاں ..۔ قسط 4

  


ایک دن شام کے وقت ہنہنتو نامی پالی پور کا چرواہا اپنے مویشی ہانکتا چراگاہ سے واپس آرہا تھا۔ رحمت کو سالانہ سیاحی سے واپس آئے ایک آدھ ہفتہ ہی گزرا تھا۔ سورج گڑھی کی پہاڑیوں کی چوٹیوں کو چھورہا تھا اور نہار موڑ کے درختوں کی پھنگیاں ہلکے سرخ رنگ کا دوپٹہ اوڑھے ٹھنڈی ہوا میں جھوم رہی تھیں۔ ہنہنتو نے نہار موڑ سے گزر کر رحمتو کے غار کی طرف دیکھا۔ رحمتو چبوترے پر موجود نہیں تھا۔ ہنہنتو نے غار کی طرف رُخ کرکے غائبانہ سلام کیا اور پالی پور کی پگڈنڈی پر گھوم گیا۔ اس کے کچھ مویشی آگے  آگے تھے اور کچھ پیچھے پیچھے اچانک ایک گائے بدک کر بھاگی۔

ہنہنتو نے جھاڑی طرف دیکھا تو رحمتو دبکے نظر آئے۔ رحمتو کے جھاڑیوں میں دبکنے کا اندازہ اور آنکھوں کی شوخ چمک ہنہنتو کی جنگل آشنا نظروں سے کچھ چھپا نہ سکیں۔ اسے فوراً ہی معلوم ہوگیا کہ رحمتو کی نیت میں فتور ہے۔ ہنہنتو کی ’’آہا‘‘ کی ایک آواز پر ہی سارے مویشی یکجا ہوکر تیز قدم گاؤں کی طرف چل پڑے۔ ہنہنتو برابر گھوم گھوم کر دیکھتا رہا اور رحمتو پالی پور کے کھیتوں تک تعاقب کرتا آیا۔ ادھر مویشی دور تک پھیلے ہوئے کھیتوں میں داخل ہوئے۔ ادھر رحمتو واپس چلا گیا۔

شیروں کا شکاری ، امریکہ میں مقیم شکاری اور شاعر قمر نقوی کی شکار بیتیاں .. قسط 3 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

ہنہنتو گاؤں میں داخل ہوتے ہی رحمتو کی یہ حرکت بیان کرنے کے لئے بے چین ہوگیا لیکن گاؤں کا کوئی شخص اس کی بات ماننے کو تیار نہ تھا۔ مسلمانوں کا خیال تھا کہ ہنہنتو ہندو ہے اور رحمتو مسلمان اس لئے وہ رحمتو کو بدنام کرنے کی ناپاک کوشش کررہا ہے اور ہندوؤں کا خیال تھا کہ ہنہنتو نیچ ذات کا آدمی ہے لہٰذا ایک اونچی ذات کے بڑے دیوتا کو مجرم گردان رہا ہے۔ نتیجہ یہ کہ سب نے ہنہنتو کو ہی لعن طعن کیا۔

دوسرے روز پھر رحمتو نے اس تعاقب کا اعادہ کیا اور تیسرے روز تو خاصی جرأت کرکے جھاڑی سے نکل آیا۔ اور جب ہنہنتو نے کلہاڑی گھما کر ڈانٹ بتائی تو رحمتونے بھی پنجہ اُٹھا کر ایک ایسی بھبکی دی کہ ہنہنتو کے کپڑے خراب ہوتے ہوتے بچے اور وہ اپنے مویشیوں کو ہانکتا، چیختا، پکارتا گاؤں کی طرف بھاگا۔ رحمتو نے بھی اس کی چیخ پکار کا جواب غرا کر اور دھاڑ کر دیا۔ یہ آوازیں گاؤں والوں نے بھی سنیں۔ اس روز ہنہنتو نے انہیں یہ واقعہ سنایا تو سب خاموش رہے۔ آوازیں وہ سن چکے تھے۔ لہٰذا ہنہنتو کو جھٹلانے کی ہمت کون کرتا۔ ان حرکات کے علاوہ ابھی رحمتو نے کوئی اور ایسی حرکت نہیں کی تھی جو زیادہ تشویشناک ہوتی۔ بعض لوگوں کا خیال تھا کہ شاید رحمتو خصوصیت کے ساتھ ہنہنتو سے ناراض ہو اور اس وجہ سے یہ حرکت کی ہو۔

ان واقعات کے بعد کئی روز تک نہ رحمتو نظر آیا نہ کوئی ایسی حرکت ہی اس سے سرزد ہوئی جو کسی مزید قیاس آرائی کا باعث ہوتی۔

ایک رات ساراگاؤں تاریکی اور سناٹے میں ڈوبا ہوا تھا۔ پالی پور کے چوپال کے قریب ہی گردھاری کے مویشی بندھے تھے اور ان مویشیوں کی نگرانی کرنے والے دو آدمی تھوڑی ہی دور چارپائیوں پر بڑے بے خبر سورہے تھے۔ اچانک جانور بدکے اور بری طرح چیخنے لگے۔ بستروں میں دبکے ہوئے نگران ہڑبڑا کر اُٹھے تو قریب ہی رحمتو کھڑا نظر آیا۔ ایک آدمی نے بغیر یہ سمجھے ہوئے کہ یہ شیر ہے، گھما کر ایک لاٹھی رحمتو کے جڑدی۔ اُدھر لاٹھی رحمتو کے پڑی، ادھر ایک زبردست دھاڑ سے گاؤں کے درودیوار لرز اُٹھے۔ رحمتو نے لاٹھی مارنے والے کو کولہے سے پکڑا اور ایسے زبردست جھٹکے دئیے کہ وہ کوئی آواز کئے بغیر ہی سرد ہوگیا۔ دوسرا آدمی اس موقع سے فائدہ اٹھا کر بگٹٹ بھاگ گیا۔

اتنے عرصے میں سارا گاؤں بیدار ہوچکا تھا۔ کچھ منچلے لوگ کلہاڑیوں اور برچھوں سے مسلح ہوکر دوڑ پڑے اور مٹی کے تیل کی شعلے اگلتی ہوئی مشعلوں، دھپڑوں کی آواز اور شور و غل سے مجبور ہوکر شیر کو پسپا ہونا ہی پڑا لیکن یہ پسپائی جاری رکھتے وقت بھی شیرنے غرا کر اور دھاڑ کر ایسی ایسی ڈانٹیں بتائیں کہ گاؤں والوں کے اوسان خطا ہوگئے۔ مویشیوں کا نگران گردھاری کا ملازم تھا۔ شیر کے جانے کے بعد اس کی لاش اٹھائی گئی اور گاؤں والوں نے اس شخص کا کریا کرم ہونے تک اس موضوع پر کوئی بات نہیں کی، لیکن سب کا اعتقاد جاتا رہاتھا۔ اب تک اس درندے کے بارے میں وہ جس خوش فہمی میں مبتلا تھے، وہ فی الفور ایک شدید خطرے سے بدل گئی۔ اب تک جو رحمتو رحت مجسم سمجھے جارہے تھے، انہیں اب عذاب کی حیثیت دے دی گئی۔(جاری ہے )

شیروں کا شکاری ، امریکہ میں مقیم شکاری اور شاعر قمر نقوی کی شکار بیتیاں ..۔ قسط 5 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید : کتابیں /شیروں کا شکاری


loading...