ائیرمارشل محمد اصغر خاں کے کارہائے نمایاں

ائیرمارشل محمد اصغر خاں کے کارہائے نمایاں
ائیرمارشل محمد اصغر خاں کے کارہائے نمایاں

  


جہادِ ستمبر1965ء کی یادیں آج بھی ذہن پر مرتسم ہیں۔ باون برس قبل ہمارا لڑکپن کا دور تھا۔ بارہ سال کی عمر تھی اور تعلیمی زندگی ابتدائی مراحل سے ابھی گزر رہی تھی۔ ہمارے اوپر بھارتی طیاروں کا تعاقب کرتے ہوئے پاک فضائیہ کے طیارے گزرتے تو ہمارے لہو کو گرما جاتے۔ رات کی تاریکی ، بلیک آؤٹ کے باعث تاریک تر ہو جاتی تھی۔ کہیں کوئی دیا بھی نہیں ٹمٹماتا تھا۔اِدھر سائرن بجتا، اُدھر ساری بتیاں گل ہو جاتیں۔ لیکن ہم تھے کہ خوف سے بے نیاز کھلے آسمان تلے کھڑے فراٹے بھرتے طیاروں کو دیکھ رہے ہوتے تھے۔ کہیں گولے برستے تو درو دیوارلرز جاتے۔ تب فیصل آباد ، لائل پور کہلاتا تھا اور اپنی صنعت بالخصوص کپڑے کی صنعت کے باعث دنیا بھر میں مشہور و معروف ۔ بھارتی سامراج شائد اس شہر کی صنعت کو تباہ و برباد کر دینا چاہتا تھا، اس کے بنیادی ڈھانچے کو ملیا میٹ کرنے کے درپے تھا، لیکن پاک فضائیہ کے شاہین صفت ہوا باز ، دشمن کے تمام تر منصوبوں کو خاک میں مِلا رہے تھے۔ تب پاک فضائیہ کی کمان ایئرمارشل نور خاں کے ہاتھ میں تھی، لیکن سبھی جانتے تھے کہ اس فضائیہ کی تعمیر و ترقی اور اسے کمال کی پیشہ وارانہ مہارت سے لیس کرنے کا اہم ترین کارنامہ ان کے پیش رو ائیرمارشل محمد اصغر خاں نے سرانجام دیا تھا۔ وہ پاک فضائیہ کے پہلے مسلمان سربراہ تھے۔ انہوں نے جتنی محنت ، لگن اوردیانت سے اپنے فرائض ادا کئے تھے،اس کے باعث انہیں بجا طور پر پاک فضائیہ کا اوّلین معمار قرار دیا جا سکتاہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ائیر مارشل نور خاں مرحوم کی خدمات بھی تاریخ میں ہمیشہ سنہری حروف سے لکھی جائیں گی۔ پاکستان اور پاک فضائیہ کی خوش قسمتی کہ اسے دنیا بھر کی عظیم فضائیہ بنانے کے لئے ابتدائی عہد میں ہی دو بے مثال مسلم سربراہ میسر آئے جنہوں نے دنیا بھر میں پاکستانی شاہینوں کی دھاک بٹھا دی۔ 1965ء کا جہادِ ستمبر اور اس میں پاک فضائیہ کا ناقابلِ فراموش کردار رہتی دنیا تک تابندہ و تابناک رہے گا اور بھارتی سامراجیوں کے لئے خوف و دہشت کی علامت۔

ائیرمارشل محمد اصغر خاں نے 1958ء میں محض 37برس کی عمر میں ائیرمارشل کے عہدے پر ترقی حاصل کی اور پاک فضائیہ کے سربراہ مقرر ہوئے ۔ یہ ان کی صلاحیتوں کا ناقابلِ تردید ثبوت تھا۔1965ء میں وہ پاک فضائیہ سے ریٹائر ہو گئے، لیکن اس کے ساتھ ہی انہیں پی آئی اے کی سربراہی تفویض کر دی گئی اور دنیا جانتی ہے کہ انہوں نے اسے حقیقی معنوں میں ’’ باکمال لوگ لاجواب پرواز‘‘ کا سزا وار بنا دیا۔ تب پی آئی اے دنیا کی گنی چنی چند بہترین ائیر لائنز میں سے ہی ایک نہ تھی بلکہ اسے محفوظ ترین بھی سمجھا جاتا تھا۔ ائیر مارشل محمد اصغر خاں کی پیشہ وارانہ مہارت ، اعلیٰ نظم و نسق اور ان تھک مخلصانہ جدوجہد نے ہوابازی کی دنیا میں پی آئی اے کو اوجِ ثریا پر فائز کر دیا تھا۔ اسی لئے تو ایک عرصے تک اس ائیر لائنز کے ذریعے سفر مسافروں کی پہلی ترجیح ہوا کرتی تھی۔

ائیرمارشل محمد اصغر خاں مرحوم سے ہماری یادوں کااہم ترین حصہ اس دور سے وابستہ ہے جب ہم اپنی تعلیمی زندگی کے آخری مراحل طے کر رہے تھے۔ گورنمنٹ کالج فیصل آباد ہماری مادرِ علمی تھی اور ہم اس کے شعبۂ انگریزی میں ایم اے کے طالب علم تھے۔1976ء میں جب ہم نے ایم اے میں داخلہ لیا تو ذوالفقار علی بھٹو کا اقتدار نصف النہار پرتھا۔1971ء میں یحییٰ خاں، شیخ مجیب الرحمن اور ذوالفقار علی بھٹو کی اَن تھک کوششوں کے باعث کرۂ ارض پر وجود پذیر ہونے والی سب سے بڑی اور اسلام کے نام پر معرضِ وجود میں آنے والی پہلی ریاست اسلامی جمہوریہ پاکستان دو لخت ہو چکی تھی، بھارت اور اس کی پروردہ مکتی باہنی کی گھناؤنی سازشیں پایۂ تکمیل تک پہنچ چکی تھیں اور سقوطِ ڈھاکہ عمل میں آچکا تھا۔ اس وقت منصوبے کے تحت ذوالفقار علی بھٹو بچے کھچے پاکستان کے حکمران قرار پائے تھے، کبھی سویلین مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر کے روپ میں تو کبھی صدر کے منصب پر اور کبھی وزارتِ عظمیٰ کی کرسی پر براجمان۔ جو عہدہ من کو بھایا یا جہاں اختیارات کا ارتکاز اپنی ذات میں زیادہ ممکن نظر آیا، اسی منصب پر اپنے آپ کو فائز کرلیا۔ اقتدار و اختیار کا نشہ جوں جوں چڑھتا گیا اور اس میں ’’ تھوڑی سی‘‘ کی آمیزش ہوتی چلی گئی، تیور ہی بدلتے چلے گئے، جس کے نتیجے میں اداروں کی ٹوٹ پھوٹ کا آغاز ہوا، ریاست کے ملازم ذاتی غلاموں کا روپ دھارنے لگے۔ حکومتی مشینری کو عوام کا خادم بنانے کی بجائے برسرِ اقتدار پارٹی کے اشارۂ ابرو پر نچایا جانے لگا۔ کیمونسٹ ممالک کی طرح ریاست کے ہر ادارے پر اسی پارٹی کو مسلط کرنے کی منصوبہ بندی اور کوششیں کی جانے لگیں۔ نجی ملکیت پر بھی سرکار کا تسلط قائم کرنے کے لئے قومیانے کی پالیسی پر تیز رفتاری سے عمل کیا جانے لگا۔ صنعتیں ، بنک اور دیگر ادارے ہی اس کی زد میں نہیں آئے، پرائیویٹ سکولز کو بھی قومیالیا گیا، جس کے باعث ابتری نے ہر جگہ ڈیرے ڈال لئے اور زوال کی پستی حدود و قیود سے ماوراء ہونے لگی۔ اخلاق باختگی کے نئے ریکارڈ قائم ہونے لگے۔ سیاسی مخالفین کا قتلِ عام سرکار کی سرپرستی میں اس کے احکامات کے مطابق کیا جانے لگا۔ کتنے ہی نامی گرامی سیاست دان اس پالیسی کی بھینٹ چڑھے۔ ڈاکٹر نذیر احمد شہید ، خواجہ رفیق شہید،نواب محمد احمد خاں اس کی چند ایک مثالیں ہیں۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں چند ایک اچھے کام بھی ہوئے لیکن من حیث المجموع یہ دورِ حکومت بدترین قسم کے فاشزم اور آمریت کا آئینہ دار تھا۔ چنانچہ جب 1977ء کے انتخابات میں بدترین دھاندلی کے بعد بھٹو مخالف تحریک کا آغاز ہوا تو اس نے جلدہی تحریکِ نظامِ مصطفی کے قالب میں تاریخِ پاکستان کی بے مثال تحریک کا روپ دھار لیا۔ بھٹو نے اس تحریک کو دبانے اور کچلنے کے لئے جبرو دہشت کا ہر حربہ اختیار کیا۔ اس کام کے لئے نہ صرف قانون نافذ کرنے والے موجود سول اداروں کو بھرپور طریقے سے استعمال کیا گیا بلکہ ایف ایس ایف( فیڈرل سیکورٹی فورس) اور بدنام زمانہ چوہڑ کانہ فورس جیسے ادارے قائم کئے گئے جنہوں نے قتل و غارت گری اور ظلم و تشدد کی ہر حد کو پھلانگ لیا۔ ذوالفقار علی بھٹو نے اپنے تئیں جبر کا ہر ہتھکنڈہ آزما کر تحریک کو کچلنے کی کوشش کی۔ خوف و دہشت کی اس فضا میں ائیر مارشل اصغر خاں کا ایک جملہ تحریک میں نئی روح پھونک دیتا ہے، کارکنوں کو نیا حوصلہ دیتا ہے اور ولولۂ تازہ سے تحریک میں حصہ لینے والے کروڑوں انسانوں کو سرشار کر دیتا ہے، ان کا لہو گرما دیتا ہے۔ جملہ تھا،’’ ہم برسرِاقتدار آکر ذوالفقار علی بھٹو کو کوہالہ کے پل پر پھانسی دیں گے۔‘‘ اس جملے نے تو جذبات میں آگ سی لگا دی تھی۔ہمیں وہ منظر کبھی نہ بھول پائے گا جب ائیر مارشل محمد اصغر خاں لائل پور کے دورے پر تھے۔ ائیر پورٹ پر ان کی آمد تھی اور دھوبی گھاٹ میں ان کا جلسہ طے تھا۔ تب میلوں طویل راستے پر صرف سر ہی سر نظر آتے تھے۔ ہم نے اپنی زندگی میں اس سے زیادہ بڑا اور فقید المثال استقبال کسی اور کا نہیں دیکھا۔ تب وہ ہی نو جماعتی قومی اتحاد کے سب سے زیادہ قد آور قائد لگ رہے تھے۔

ائیر مارشل محمد اصغر خاں کا یہی نعرۂ مستانہ تحریک کی جان بھی تھا اور روحِ رواں بھی۔ تحریک کا دورانیہ طویل بھی ہوتا چلا گیا اور اس کا پھیلاؤ بھی بڑھتا رہا، اس کے باوجود آمرانہ حکومت کے خاتمے کے امکانات کہیں نظر نہیں آ رہے تھے۔ حکمران تھے کہ ڈھٹائی اور بے شرمی کے تمام ریکارڈ تو ڑ ے جا رہے تھے۔ تب لوگوں کی نظریںآسمان کی طرف التجائیہ انداز میں اٹھ رہی تھیں۔ اسی دوران جب فوج کی جانب سے بھی حکومت کے حق میں بیان آگیا تو امیدوں پر اوس سی پڑنے لگی تھی، لیکن جب ائیر مارشل محمد اصغر خاں کا فوج کے قائد اعلیٰ کے نام خط منظرِ عام پر آتا ہے تو وہ عوام کے ہیرو بن جاتے ہیں۔ ایئرمارشل نے بعد میں اس خط کی جو بھی توجیہہ کہ ہو یا اس پر اظہارِ ندامت کیا ہو، حقیقت یہی ہے کہ عوام نے اسے دل و جان سے سراہا تھا اور خود انہیں محبوبیت کے درجے پر فائز کر لیا تھا۔ کچھ لوگوں کا یہی کہنا ہے کہ ائیرمارشل کے اسی خط نے اس فوجی انقلاب کی بنیاد رکھ دی تھی جس نے ذوالفقار علی بھٹو کے بدترین آمرانہ دور کا خاتمہ کیا۔ ملک سے بہیمانہ ظلم و ستم کے عہدِ نا مسعود کو اختتام پذیر کیا۔ جبھی تو ہر طرف شکرانے کے نوافل ادا کئے گئے اور دیگیں چڑھائی گئیں۔

ائیر مارشل محمد اصغر خاں مرحوم کی سیاسی زندگی اتار چڑھاؤ کا شکار رہی، ان کے کئی ایک سیاسی افکار اور فکری دھاروں سے اختلاف کرنے کے باوجود یہ تسلیم کئے بنا چارہ نہیں کہ وہ انتہائی بااصول ، سچے، کھرے ، دیانت دار اور محب وطن پاکستانی تھے۔ پاکستانی سیاست جن طوائفوں میں گھر چکی ہے، ان کی شخصیت اور مزاج اس سے میل کھا ہی نہیں سکتا تھا۔ وہ صداقت شعاری کا ایک سمبل تھے اور دیانت و امانت کا پیکر۔ ان کی رحلت سے پاکستان اپنے ایک جلیل القدر سپوت سے محروم ہو گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی مغفرتِ تامہ انہیں ڈھانپ لے۔ ان کی بشری لغزشوں اور غلطیوں سے وہ درگزر فرمائیں اور جنت الفردوس ان کا ماویٰ و مسکن ٹھہرے۔ آمین!

۔

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید : بلاگ


loading...