عوام اب ’’ سر‘‘ اُٹھانے کو ہے ؟

عوام اب ’’ سر‘‘ اُٹھانے کو ہے ؟
 عوام اب ’’ سر‘‘ اُٹھانے کو ہے ؟

  

پاکستانی عوام گذشتہ کچھ مہینوں سے تذبذب کا شکار ہیں ، ہر دِن کا سورج اُن کے لئے مشکلات اور تکالیف کا پیغام لے کر طلوع ہو رہا ہے ،حکومتی اداروں سے لے کر حکومتی نمائندوں تک غریب عوام پر ٹیکسوں اور مہنگائی کا بوجھ بڑھاتے جا رہے ہیں ۔پاکستانی عوام پر ہر روز بڑھایا جانے والا بوجھ دیکھ کر ایک پاکستانی فلم کا ڈائیلاگ یاد آ گیا ، فلم میں ایک ’’ کاما ‘‘ اپنے مالک سے کہتا ہے ’’ غلام تے ایناں بوجھ نئیں پائی دا ، اے نہ ہووے پئی او اپنا بوجھ لا کہ تے سر چُک لئے (ملازم پر اتنا بوجھ نہ ڈالیں کہ وہ بوجھ برداشت نہ کرتے ہوئے اُسے اُتار پھینکے اور اپنا سر اُٹھا لے )۔

ہر حقیقت چونکہ پہلے ایک خیال ہی ہوتا ہے اسی لئے ڈر لگتا ہے کہ کہیں پاکستانی عوام اپنی گردن کا ٹوٹنے والا ’’ منکا ‘‘ بچانے کے لئے اپنے اُوپر برداشت سے زیادہ ڈالا گیابوجھ اُتار پھینکے اور اپنا سر نہ اُٹھا لے ۔عوام جب سر اُٹھائے گی توحکومت کی جانب سے خواہ اِس عمل کو قانون شکنی یا کچھ بھی کہہ کر قانونی ادارے حرکت میں لائے جائیں گے اور عوام سے لڑائی ہوگی ، بہر اس طرح کی صورت حال کو خانہ جنگی کی جانب جانے والا ایک راستہ ہی کہا جاسکتا ہے ۔

ویسے دیکھا جائے تو پاکستان میں ایک طرح سے علامتی خانہ جنگی شروع ہو چکی ہے ، غریب عوام ہر روز حکومتی اداروں کی طرف سے کی جانے والی مہنگائی کے ساتھ لڑ رہے ہیں ۔عوام بیچارے صبح چڑیوں کی چہچہاہٹ کے ساتھ اپنے شکوے اور گلوں کا راگ الاپتے ہوئے روزگار کی تلاش میں نکلتے ہیں ،اسی کشمکش میں کبھی ای چالان ، ہیلمٹ نہ پہنننے پر جرمانہ ، موٹر سائیکل پر تین افراد کا بیٹھنا ، کار کو غلط ٹریک میں لے جانا ، چنگ چی ، گدھا ریڑھی ، سائیکل والے اور آئسکریم کی ریڑھیوں کو چلانے والوں سے بحث مباحثہ کرتے ہوئے ٹریفک روک دینا اور اس طرح کے بہت سے حادثاتی عوامل پاکستانی عوام کی بد حواسی اور تذبذب کا شکار ہونے کا منہ بولتا ثبوت ہیں ۔

نئے وعدوں ، نئے نعروں ، نئی کابینہ ، نئی سیاسی پارٹی ، نیا وزیر اعظم ، نیا سسٹم ، نیا پاکستان ، نئی پالیسیاں یہ سب کچھ موجودہ حکومت کا ’’ سلوگن‘ تھا لیکن اتنے ماہ گزرنے کے با وجود کچھ بھی نیا نہیں بلکہ سب کچھ پُرانا ہی نظر آ رہا ہے ۔نیا دیکھنے میں آیا ہے تو یہ کہ گزشتہ 6 ماہ کے دوران غیر ملکی سرمایہ کاری میں 77 فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔اسٹاک مارکیٹ سے پونے 3 ارب ڈالرنکال لئے گئے ہیں سٹیٹ بینک نے اعداد و شمار جاری کرتے ہوئے بتایا ہے کہ مالی سال 19۔2018 کی پہلی ششماہی میں یکم جولائی سے 31 دسمبر کے دوران غیر ملکی سرمایہ کاری میں غیر معمولی کمی دیکھنے میں آئی ہے، گزشتہ 6 ماہ میں غیرملکی سرمایہ کاری 3 ارب ڈالر تک کم ہوئی ہے۔

سٹیٹ بینک کا کہنا ہے کہ جولائی تا دسمبر کے دوران 90 کروڑ ڈالر کی سرمایہ کاری ہوئی جب کہ گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے میں 3 ارب 95 کروڑ ڈالر کی سرمایہ کاری کی گئی تھی۔جبکہ پی ٹی آئی حکومت کے پہلے چھ ماہ میں بیرونی سرمایہ کاری میں ریکارڈ کمی ہوئی۔اسٹیٹ بینک کے مطابق گزشتہ ماہ دسمبر 2018 میں 23 کروڑ ڈالر کی سرمایہ کاری ہوئی۔ دسمبر میں 31 کروڑ 92 لاکھ ڈالر کی براہ راست سرمایہ کاری ہوئی، اسٹاک مارکیٹ سے دسمبر میں 8.92 کروڑ ڈالر کا انخلا ہوا، یہی نہیں بلکہ نیا دیکھنے میں آیا ہے تو یہ کہ وزیر اعظم پاکستان’’ اپوزیشن‘‘ کا کردار ادا کرتے ہوئے اپنے مخالفین پر برستے خوب ہیں اور کہتے ہیں کان کھول کر سن لیں سب ایک ہو جائیں لیکن اِن کی جان نہیں چھوڑنے والا میں ، اِن سب کا احتساب ضرور ہو گا ، کوئی نہیں بچے گا ، لیکن ساتھ ساتھ عمران خان اپنے سابقہ دیئے گئے بیانات سے بھی منحرف ہوتے ہیں ،ایک بیان میں انہوں نے کہا تھا کہ نون لیگ نے جو ایمنیسٹی سکیم کاا جراء کیا ہے یہ سراسر غلط ہے اور2018میں جب ہماری حکومت آئے گی تو اس کے لئے جواب دہ ہونا پڑے گا ، جبکہ اُن کی اپنی بہن علیمہ خان اُسی ایمنیسٹی سکیم کا فائدہ اُٹھاتے ہوئے اپنی جائیداد وں پر ٹیکس ادا نہیں کیا بلکہ رپورٹ کے مطابق انہوں نے لیگی دور کی ایمنیسٹی سکیم سے ہی فائدہ اُٹھایا ہے۔

خیر عوام کی کسمپرسی ، تذبذب اور سہولیات کی پائمالی کا جادوئی قالین اب اُڑ کر سندھ کی جانب جا رہا ہے جہاں پیپلز پارٹی ٰ کی حکومت کو ختم کرنے کے لئے توڑ جوڑ کا چراغ رگڑ کر اُس میں سے ’’ لالچ کا ایسا جن نکالا جائے گا جو سندھ میں پی پی پی کی حکومت کو اُٹھا کر کسی دوسرے دیس لے جائے گا ، سندھ کی سیاسی صورت حال ایک بار پھر سے گرم ہو گئی ہے ، مختلف شہروں سے جادوگروں کی ٹیمیں اکھٹا ہونا شروع ہو گئی ہے ، مختلف سیاسی اکابرین کی بیٹھکوں میں ’’کچھ لوکچھ دو‘‘ کے علم کی کاٹ کے لئے ’’چھو منتر ‘‘ ہونے جا رہا ہے ، وزیر اعلیٰ سندھ کہہ رہے ہیں کہ بے شک میرا نام ای سی ایل میں ہے لیکن مجھے سرکاری دورے پر دوسرے ممالک جانے سے کوئی مائی کا لال نہیں روک سکتا ۔

چھومنتر کی کامیابی کے لئے حکومتی جادوگروں نے اطلاعی وزیر اور سب سے بڑے علم کے ماہرِ اعظم کو سندھ آنے کی دعوت دے دی ہے تاکہ پی پی پی کی حکومت کو غائب کیا جا سکے ۔دوسری جانب وزیر اعظم پاکستان کے بیان پر بلاول بھٹو کا ٹویٹ بھی کسی سے کم نہیں وہ کہتے ہیں کہ وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ہمارے چند قانون ساز ECL سے اتنے خوفزدہ کیوں ہیں؟انہیں بیرون ملک جانے میں اتنی دلچسپی کیوں ہے؟ جواب میں بلاول نے کہا کہ ظاہرہے ’’سلیکٹڈ‘‘وزیراعظم انسانی حقوق،نقل وحرکت کی آزادی کے تصورسے واقف نہیں ۔انہوں نے کہا کہ مزاحیہ بات یہ ہے کہ ای سی ایل پر صرف اپوزیشن اراکین کے نام ہیں،حکومتی اراکین بشمول وزیراعظم بیرون ملک سفرکررہے ہیں۔

وہ مزید لکھتے ہیں کہ وزیر اعظم نے توپہلے 6 ماہ میں بیرون ملک دورہ نہ کرنے کا وعدہ کیا تھا،لیکن اب تک وہ 7 دورے کر چکے ہیں۔کچھ بھی کہیں اس وقت پاکستان کے تمام اینکر پرسنز ، اخبارات اور تجزیہ کار موجودہ حکومتی پالیسیوں کی ناکامی اور پاکستان میں بڑھتی ہوئی غربت اور مہنگائی جیسے موضوعات پر سخت تنقید کر رہے ہیں ان تنقید کرنے والوں میں زیادہ تعداد اُن اینکر پرسنز کی ہے جو موجودہ حکومت کو سسٹم کی تبدیلی اور نئے پاکستان میں عوام الناس کو سہولیات کے انبار لگائے جانے کے لئے موضوع ترین قرار دیتے تھے لیکن اب وہ بھی سخت پریشان ہیں اور اپنے آپ کو یہ کہہ کر کوس رہے ہیں کہ ہم نے تحریک انصاف پر اتنا اعتماد کیوں کیا تھا ؟ خیر اب چند ماہ کی بات رہ گئی ہے یا تو تحریک انصاف عوام کے حقوق کی پاسداری کرنے میں کامیاب ہو کر دکھائے گی اور یا پھر عوام کے دلوں میں صرف ’’بھولی بسری ‘‘داستان بن کر رہ جائے گی ۔

مزید :

رائے -کالم -