منو بھائی کی پہلی برسی اور اکمل علیمی کی علالت!

منو بھائی کی پہلی برسی اور اکمل علیمی کی علالت!
منو بھائی کی پہلی برسی اور اکمل علیمی کی علالت!

  

یوں محسوس ہوتا ہے کہ وہ ابھی یہیں کہیں تھے، جُدا ہونے والے کو تو ایک سال بیت بھی گیا،پتہ ہی نہیں چلا،یہ تو برخور دار عامر مرزا نے فون کر کے بتایا کہ منو بھائی کی پہلی برسی ہے اور سندس فاؤنڈیشن نے تعزیتی اجتماع کا اہتمام کیا ہے،جس میں آپ کو شرکت کرنا ہے،احساس ہوا کہ سال ہو گیا، اس پر وہ بہت یاد آئے کہ ابھی دو تین روز قبل نیشنل پریس کلب اسلام آباد نے پہل کی اور پی ایف یو جے کے رہنما منہاج برنا کی8ویں برسی کا اہتمام کیا، وہاں ہونے والی تقریب کی خاص بات منہاج برنا پر بنائی جانے والی ایک ویڈیو کی بھی نمائش تھی،جو ان کی محنت کشوں کے لئے جدوجہد کی یادگار ہے۔ لاہور پریس کلب نے بھی اہتمام کیا، تقریب منعقد کی اور یہ ویڈیو یہاں بھی دکھائی گئی، مجھے بھی اس میں حاضر ہونا تھا،لیکن نہ جا سکا کہ ویٹس اَیپ پر پیغام ہی تاخیر سے دیکھا۔

منو بھائی کے حوالے سے تعزیتی تقریب کی اطلاع کے ساتھ ہی خیال ورجینیا (امریکہ) کی طرف چلا گیا کہ وہاں دوست بڑے بھائی اور استاد محترم سید اکمل علیمی زیادہ علیل ہو گئے ہیں،اِس طرح کہا جا سکتا ہے کہ یہ ماضی کا ایک دورہ تھا،جو حال ہی میں وارد ہو گیا اور باری باری سبھی یاد آنے لگے، ان میں نثار عثمانی، آئی ایچ راشد، چاچا ایف ای چودھری، اے ٹی چودھری اور خالد حسن بھی شامل ہیں۔ منو بھائی کی برسی کے موقع پر تو ان کی شخصیت کے پرت بھی کھلتے چلے گئے۔ سندس فاؤنڈیشن کے نزدیک وہ انسان دوست تھے، جنہوں نے تھیلسیمیا جیسے مرض میں مبتلا بچوں کے لئے بہت کچھ کیا اور اب ان کے بعد ہمارے بہت سے دوست ان کی یاد کو گلے سے لگائے بچوں کے لئے سہارا بنے ہوئے ہیں، وہ سب بھی کل(ہفتہ) اس تقریب میں موجود ہوں گے، جہاں مجھے بھی حاضری دینا ہے۔

منو بھائی دوستوں کے دوست تھے، ہر ایک اپنے اپنے حوالے سے اُن کی یاد لئے ہوئے ہے۔ہمارے لئے تو وہ ایک مہربان دوست اور بھائی تھے، سینئر ہونے کے ناتے بعض مرتبہ ان سے رہنمائی بھی لے لیتے تھے، تاہم یہ بھی واقع ہے کہ انہوں نے اپنی حد تک ٹریڈ یونین کی سرگرمیوں میں بھی حصہ لیا اور کئی تحریکوں میں ہمارے ساتھ رہے، منو بھائی1972-73ء میں پنجاب یونین آف جرنلسٹس کے صدر منتخب ہوئے تو مجھے سینئر نائب صدر کا انتخاب جیتنے کا شرف حاصل ہوا، چنانچہ ہم مل کر اس دور کے مسائل کا ادراک کرتے ہوئے یونین کو چلا رہے تھے۔

منو بھائی روائتی طور پر بھروسہ کرنے والے تھے اِس لئے ان کی رہنمائی میں زیادہ بوجھ مجھے ہی اُٹھانا پڑتا تھا، تاہم ان کی صفات اپنی جگہ ہیں،ان دِنوں جب پیپلزپارٹی کا دورِ حکومت تھا ، فلم سنسر بورڈ کی تشکیل نو کی گئی، اس میں افراد کی جگہ اداروں کو نمائندگی ملی، فلم پروڈیوسرز ایسوسی ایشن، ڈائریکٹر حضرات اور فنکاروں کی تنظیم، محکمہ تعلیم اور پولیس کو بھی نمائندگی دی گئی، اس کے ساتھ ہی پنجاب یونین آف جرنلسٹس کو بھی چٹھی موصول ہوئی کہ اپنی طرف سے بھی نمائندہ نامزد کریں،اس کا علم منو بھائی کو تھا اور انہوں نے چٹھی موصول ہوتے ہی میرا نام بھجوا دیا تھا جب مجھے علم ہوا کہ سنسر بورڈ میں پی یو جے کی نمائندگی ہونا ہے تو مَیں نے صدر محترم(منو بھائی) سے پوچھا کہ کس کو نامزد کرنا ہے،اس وقت تک میرا خیال تھا کہ خود منو بھائی کو جانا چاہئے،لیکن ان کا جواب یہ تھا، مسکراتے ہوئے،’’مَیں نے تو اپنے سینئر نائب صدر چودھری خادم حسین کو نامزد بھی کر دیا ہے‘‘ یوں یہ نمائندگی میرے حصے آئی اور سال بھر ایسی نبھائی کہ منو بھائی کی طرف سے تو صیفی کلمات سے حوصلہ بڑھا۔

منو بھائی بڑی ہمہ گیر شخصیت تھے، میرا واسطہ تو روزنامہ ’’امروز‘‘ ہی سے ہوا، جہاں باقی سب حضرات بھی تھے اور اس کے بعد روزنامہ ’’مساوات‘‘ کے اجرا پر ہم وہاں اکٹھے ہوئے کہ منو بھائی چیف رپورٹر تھے۔ وہ خود بہت کم فنکشنز پر جاتے، بھاگ دوڑ ہم رپورٹر حضرات کو ہی کرنا پڑتی تھی۔ منو بھائی کے بعد چاچا رفیق کو سینئر قرار دیا گیا تو وہ بھی دفتر ہی کو زیادہ وقت دیتے تھے، چنانچہ مجھے،ہمراز احسن اور اورنگزیب (راجہ) کو بھاگ دوڑ کرنا پڑتی تھی۔ مرحوم ہمہ صفت موصوف تھے، بیک وقت شاعر، ادیب، ڈرامہ نویس، کالم نگار اور رپورٹر بھی تھے، مجھے یاد ہے کہ مساوات ہی کے دور میں انہوں نے ٹی وی کے لئے کئی ڈرامے لکھے ،کئی بار ایسا ہوا کہ پروڈیوسر صاحب کو اسلام آباد سے لاہور آنا پڑا کہ قسط میں تاخیر نہ ہو اور مجھے بھی سفارش کرنا پڑی، یقین جانئے منو بھائی نے متعدد اقساط روزنامہ ’’مساوات‘‘ کے رپورٹنگ روم میں بیٹھ کر لکھی تھیں اور ان کو اردگرد کے ماحول سے کوفت بھی نہیں ہوتی تھی۔

البتہ ہم سب خود احتیاط کرتے کہ ان کو نہ چھیڑا جائے، کئی بار ٹی وی پروڈیوسر بھی بیٹھ کر انتظار کرتے تھے۔ منو بھائی بہت ہی لطیف اور خوشگوار مزاح لکھتے اور جملے بھی کستے تھے، ’’پپو یار تنگ نہ کر‘‘ اور ’’در فنطنی‘‘ جیسے لفظ ایجاد اور ان کا استعمال بھی انہی کو آتا تھا، ’’در فنطنی‘‘ کسی زبان کا لفظ نہیں اور نہ کسی ڈکشنری میں ملے گا، یہ انہی کی ایجاد اور اس کا استعمال بھی ایسی خوبصورتی سے کرتے کہ ہر جگہ اس کا مفہوم اور معنی واضح ہو جاتے تھے۔ ہم دوستوں کا ان کے گھر بھی آنا جانا تھا اور بھابھی سے بھی لاڈ پیار والا مذاق چلتا ،’’ہم پوچھتے، بھابھی! ہم تو منو بھائی کہتے ہیں، آپ کیا کہہ کر بلاتی ہیں‘‘ وہ ہنس کر کہتیں۔ ’’چل وے، منیر احمد قریشی‘‘ یاد تو آتے رہیں گے۔

چلتے چلتے مَیں اپنی تشویش میں آپ سب کو بھی شامل کرنا چاہتا ہوں، سید اکمل علیمی بہت سال پہلے لاہور آئے،یہاں وہ محترم عبدالقادر حسن کے مہمان اور جم خانہ میں ٹھہرے تھے،مَیں نے حسب روائت اپنا فرض ادا کیا اور ان کے ساتھ ڈیوٹی کی، بہت اچھا وقت گذرا وہ یہاں سے گئے تو عمرہ کی سعادت حاصل کی۔ بہت دِنوں بعد بات ہوئی تو پتہ چلا کہ عمرہ کے بعد اسی دوران ان کو دِل کی تکلیف ہوئی، ہسپتال لے جایا گیا تو دِل کی رفتار درست رکھنے کے لئے برقی آلہ(پیس میکر) لگا دیا گیا۔ وائس آف امریکہ سے ریٹائرمنٹ لے کر گھر پر ہی کام کرنے لگے،فون پر بتایا کہ اب وہ سفر نہیں کریں گے ،اِس لئے وہ لاہور بھی نہ آ سکیں گے، اس کے بعد سے میرا اور ان کا معمول بن گیا کہ فون پر بات کر لیتے تھے۔ اس مرتبہ کوتاہی ہوئی، کئی دن کے بعد فون کیا تو ان کے بڑے صاحبزادے سید ادیب(موبی) نے فون اٹھایا، موبی کی زبانی معلوم ہوا کہ اکمل صاحب چند روز ہسپتال رہ کر آئے ہیں اور اب ان کو ’’پارکنسن‘‘ کی شکایت ہو گئی اور ان کی جسمانی حرکات’’سلو‘‘(آہستہ روی) ہو گئی ہیں، سہارے سے چلتے اور گھر پر ہی ہوتے ہیں۔بات بھی آہستہ ہی کرتے ہیں،احباب کی اطلاع کے لئے لکھ دیا اور اپیل کرتا ہوں کہ ان کے لئے دُعا کریں، میرے لئے تو وہ بہت کچھ ہیں۔

مزید :

رائے -کالم -