فلم سنسر بورڈ کے نئے چیئرمین کی تقرری کا مسئلہ تاخیر کا شکار

فلم سنسر بورڈ کے نئے چیئرمین کی تقرری کا مسئلہ تاخیر کا شکار

  

لاہور(فلم رپورٹر)پنجاب حکومت کی جانب سے فلم سنسر بورڈ کے نئے چیئرمین کی تقرری کا مسئلہ تاخیر کا شکار ہونے سے ادارہ لاوارث ہوگیا ایک طرف امپورٹرز پریشان تو دوسری فلم میکرز کی مشکلات بھی بڑھنے لگیں۔صوبائی وزیر اطلاعات و نشریات فیاض الحسن چوہان نے ایکشن لیتے ہوئے سابقہ حکومت کی طرف سے تعینات کئے جانے والے پنجاب فلم سنسر بورڈ کے چیئرمین شعیب بن عزیز کو بھاری رقم 12لاکھ روپے ماہانہ تنخواہ کی مد میں دئیے جانے پر فوری ہٹانے کا فیصلہ کیا تھا۔

جس کو فنون لطیفہ کے مختلف حلقوں سے تعلق رکھنے والوں نے بہت سراہا تھا لیکن اس فیصلے کے بعد نئے چیئرمین کی تقرری کیلیے صوبائی وزیر نے وزیراعلی عثمان بزدار کو سمری بھجوائی تھی مگر اتنے دن گزرنے کے باوجود پنجاب فلم سنسر بورڈ کے نئے سربراہ کا انتخاب نہیں ہوسکا۔جس کی وجہ سے سنسر بورڈ کے ممبران فلم امپورٹرز اور فلم میکرز کے لئے مسیحا کا کردار ادا کر رہے ہیں۔ حال ہی میں سابق بھارتی وزیراعظم من موہن سنگھ کی زندگی پرمبنی فلم ’’دی ایکسیڈنٹل پرائم منسٹر‘‘ کو پاکستان میں نمائش کی اجازت کیلیے پنجاب فلم سنسر بورڈ کے ممبران نے سرٹیفیکیٹ جاری کیا ہے۔ واضح رہے کہ نئے چیئرمین کے لئے سینئر اداکار غلام محی الدین کا نام تجویز کیا گیا ہے۔

مزید :

کلچر -