قومی اسمبلی اجلاس، حاضری و قانون سازی

قومی اسمبلی اجلاس، حاضری و قانون سازی
قومی اسمبلی اجلاس، حاضری و قانون سازی

  

اب تویہ بحث ہی فضول ہے کہ یو ٹرن لیناکوئی بری بات ہے یا اچھی بات۔اب اس باب میں ہمارے ملک کے وزیراعظم کا فرمایا ہواہی مستند ہے۔کس کے پاس اتنا وقت ہے کہ وہ یہ گتھیاں سلجھاتا پھرے کہ موجودہ حکومت کے عہدیداران ہر شعبے کے بارے میں ہر موقع پر اور ہر حوالے سے پہلے کیا کہتے رہے اور اب جبکہ اقتدار اُن کے پاس ہے تویہ عملی طور پر کیا کر رہے ہے اور کیا کہہ رہے ہیں،لیکن پھر بھی کچھ اہم سوالات کی جسارت توکرنی پڑے گی۔اس حکومت میں آنے سے پہلے تحریکِ انصاف نے زیادہ عرصہ اس وقت کی حکومت کے خلاف کرپشن، مودی کی یاری وغیرہ وغیرہ جیسے کئی ایشوز کی دہائیاں دیتے ہوئے گزارا۔حالانکہ بیشتر معاملات جو اس وقت انہیں کھَلتے تھے اور جن پہ وہ طعنہ زن تھے ، اب خود ان سے بھی آگے نکل چکے ہیں۔

اب تو حکمرانوں کے کئی ہم نوالہ و ہم پیالہ، جوبرسوں ان کی تال پر تال بجاتے رہے اور عوام کے سامنے روزانہ کی بنیاد پران کے حوالے سے امیدیں دلا کر خوابوں کے محل تعمیر کرتے رہے،اب ان محلات کے ریت کے گھروندے ثابت ہونے پر ماتم کناں ہیں اور یہ کہنے پر مجبور ہو چکے ہیں کہ انہوں نے دو دہائیوں تک حکومت میں آنے کا واویلا تو کیا،لیکن نظامِ حکومت چلانے کے لیے کوئی تیاری نہیں کی اور افسوس تو اس بات کا ہے کہ حکومت میں آنے کے بعد بھی وہی رونا دھونا چل رہا ہے۔نہ کوئی ٹھوس اور مثبت اقدامات دکھائی دے رہے ہیں نہ قانون سازی ہو رہی ہے اور نہ ہی معیشت کی کوئی سمت نمائی اورمستقبل کے کوئی خد وخال واضح ہو رہے ہیں۔ہم نے جس سوال کی جسارت کی، اس کا تعلق مملکت کے ایوان سے ہے۔وہی ایوان جس کی بالادستی کو چیلنج کرنے والے اور اسے دشنام طرازی کا ہدف بنانے والے اور کنٹینر پر کھڑے ہو کر مہینوں اس کا تقدس پامال کرنے والے ، آخر اسی ایوان میں جا کرپہلے بھی بیٹھے اور اب اقتدار کی راہداریوں میں بھی ایک شان کے ساتھ یہیں گھوم پھر رہے ہیں۔

آج کل قومی اسمبلی کا ساتواں اجلاس جاری ہے۔ وزیرِاعظم عمران خان اس اجلاس میں اب تک تونہیں گئے۔ ان کے زمامِ اقتدار سنبھالنے کے بعد کے عرصے پر نظر ڈالیں تو اسمبلی کے اب تک ہونے والے سات اجلاس کے 36 سیشنز میں عمران خان صرف6 بار حاضرہوئے ہیں اور اتنا غیر حاضر رہنے کے باوجودعمران خان نے اپنے حالیہ ٹویٹ میں اپوزیشن کو آڑے ہاتھوں لیا،ان کے الفاظ کچھ یوں ہیں ’پارلیمان جس پر عوام کے ٹیکسوں سے سالانہ اربوں کے اخراجات اٹھتے ہیں، کے ایوانِ زیریں سے حزبِ اختلاف کا ایک مرتبہ پھر واک آؤٹ ظاہر کرتا ہے کہ شاید یہی ایک کام ہے جو انہیں کرنا ہے۔ یہ این آر او کے حصول اور نیب مقدمات ، جو ہم نے قائم نہیں کیے، سے چھٹکارے کے لیے دباؤ ڈالنے کا ایک حربہ ہے۔‘

اس ٹویٹ میں بھی وزیر اعظم صاحب نے اپنے منصب کے تقاضوں کے خلاف بہت ہی سطحی بات کی ہے ۔خان صاحب کو اتنا علم تو ہو گا کہ اراکینِ پارلیمان کے لیے سب سے اہم کام پارلیمان میں حاضر ہونا اور قانون سازی کرنا ہے۔بہتر ہوتا کہ وہ اس بارے میں ٹویٹ کرتے لیکن اس ٹویٹ کا کیا فائدہ جس پر ہاہاکار نہ مچے اور وہ یہ بات کس طرح کر سکتے ہیں جب وہ خود اسمبلی میں نہیں آتے اور نہ ہی ان کی حکومت سے اب تک کوئی اہم قانون سازی ہو سکی ہے۔اہم اور غیر اہم کیا سرے سے قانون سازی ہوئی ہی نہیں اور ایک وزیر صاحب فرماتے ہیں ہم آرڈیننسوں کے ذریعے قانون بنا لیں گے۔اب این آر او کی مستقل طعنہ زنی اور صبح و مسا کرپشن کرپشن کی دہائی سے عوام کے کان بھی پک چکے ہیں۔عوام کی بھلائی اسی میں ہے کہ اگر آپ ملکی معیشت کو نہیں سنبھال سکتے اور عوام کا مستقبل سنوارنے کے لیے کوئی ٹھوس اقدامات نہیں کر سکتے ، ایوان میں کوئی قانون سازی نہیں کر سکتے تو کم از کم اب اس ہیجان خیزی کو کم کرتے ہوئے عوام کی شعور ی تربیت کے لیے کچھ بامقصد بات تو کریں۔ایسے ہی مواقع کے لیے کہا جاتا ہے ، چھاج چھلنی کو کیا طعنہ دے گا۔

یعنی موصوف خود تو اسمبلی اجلاس میں حاضر نہیں ہوتے اور اپوزیشن کو کہہ رہے ہیں کہ وہ واک آؤٹ کیوں کرتی ہے۔ایسی منطق پر تو سارا فلسفہ قربان کردیاجا نا چاہیے۔لیکن یہ کوئی انہونی نہیں۔ 2013سے 2018تک کی قومی اسمبلی کے 56 اجلاس ہوئے۔ ان56 اجلاس کے 468 سیشنز کے لیے اتنی ہی مرتبہ اراکین پارلیمان میں حاضر ہوئے۔حیرت کی بات یہ ہے کہ ان میں عمران خان کی حاضریوں کی تعداد صرف 20تھی۔نواز شریف کو بادشاہت کے طعنے مارے جاتے تھے اور یہ الزام دیا جاتا تھا کہ وہ اسمبلی میں اس لیے نہیں حاضر ہوتے کہ وہ سارے کام گھر بیٹھ کر کرتے ہیں اور فلاں فلاں ان کی مدد کر تا ہے اوران کی بیٹی مریم یہ کرتی ہے فلاں وہ کرتا ہے وغیرہ وغیرہ۔میاں نواز شریف کا انداز شاہانہ ہے۔شایدا سی شاہانہ انداز کے خواب دیکھتے رہے اور اس کے حصول کے لیے دہائیاں دیتے رہے۔

اب خان صاحب کو بھی اچھی طرح علم ہو گیا ہو گا کہ یہ تخت نرم و گداز نہیں بلکہ کانٹوں کا بستر ہے۔انہوں نے تو لگ بھگ ڈھائی سال تک پارلیمان کا بائیکاٹ کیے رکھا۔اس کی وجوہات اب ہماری سیاسی و جمہوری تاریخ کے تاریک باب کا نمایاں حصہ ہیں اور سب پر عیاں ہیں ۔ نہ صرف عیاں ہیں بلکہ عوام کی اکثریت تو کسی نہ کسی طرح دھرنا متاثرین میں سے بھی ہیں۔ سوال تو یہ ہے کہ کیا خان صاحب وہ سب کام کرتے وقت یہ بھولے ہوئے تھے کہ آخرانہیں اس اسمبلی میں آ کر قانون سازی بھی کرنی ہو گی اور ملک کی تقدیر بدلنے کے جو وعدے وہ صبح و شام دھرا رہے تھے انہیں پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لیے اس ایوان کی مدد درکار ہو گی؟ ہم یہ نہیں کہہ رہے کہ اس وقت کے وزیرِ اعظم نواز شریف کی اسمبلی میں حاضری بہت شاندار تھی، وہ بھی بلاشبہ بہت کم تھی مگر خان صاحب کی حاضری سے تودوگنا تھی اور اسمبلی تمام نامساعد حالات کے باوجود اپنا کام کررہی تھی اور قانون سازی بھی ہور ہی تھی۔اگر پچھلی اسمبلی کی قانون سازی پر ہی نظر ڈالی جائے تو اس اسمبلی نے کل 192بل منظور کیے اوران میں سے حکومت کے پہلے سال میں پاس ہونے والے بلوں کی تعداد 12ہے ،تو سوال تو بنتا ہے کہ بھائی اگر قائدِ ایوان قومی اسمبلی میں حاضر ہونا ضروری نہیں سمجھتے تو یہاں قانون سازی ہو یا نہیں ہو، اپوزیشن بیٹھے یا واک آؤٹ کر جائے، وزیراعظم کو اس سے کوئی فرق نہیں پڑنا چاہئے۔

مزید :

رائے -کالم -