کہاں اقبال تو نے آبنایا آشیاں اپنا

کہاں اقبال تو نے آبنایا آشیاں اپنا
کہاں اقبال تو نے آبنایا آشیاں اپنا

  

بہت سال پہلے جب میں نے بانگِ درا میں یہ نظم پڑھی تھی تو حیرت ہوئی تھی کہ اقبال تو سراپا امید اور یقین کا شاعر ہے۔ اس کی نظموں اور غزلوں میں کہیں بھی ناامیدی اور یاس کا کوئی ذکر نہیں۔ اس کے فارسی کلام میں بھی ’’امید‘‘ پر بہت پُرمغز اور آبدار اشعار ملتے ہیں لیکن میں ان کا ذکر اس لئے نہیں کروں گا کہ ہمارے نوجوان فارسی زبان کے شعر و ادب سے بیگانہ ہوتے جاتے ہیں۔ لیکن امید ایک ایسا موضوع ہے جس پر اقبال نے اپنی کلیاتِ اردو میں بھی بہت سے ایسے اشعار کہے ہیں جو لاجواب ہیں۔مثلاً یہ شعر دیکھئے:

نہ ہو نو مید، نومیدی زوالِ علم و عرفاں ہے

امیدِ مردِ مومن ہے خدا کے راز دانوں میں

یعنی اللہ کریم کی رحمت سے ناامید نہیں ہونا چاہیے۔۔۔ سعدی کی مناجات کا ایک شعر ہے جو ہے تو فارسی میں، لیکن زبانِ زدِ خاص و عام رہا ہے:

مغفرت دارد امید از لطفِ تُو

زانکہ خود فرمودہ ای لاتقنطوُ

[اے پروردگار! تجھ سے مغفرت اور معافی کی امید ہے کیونکہ تو نے خود فرما رکھا ہے: ’’لاتقنطو‘‘۔۔۔ یعنی اللہ کی رحمت سے مایوس اور ناامید مت ہو۔]

اسی طرح ضربِ کلیم میں ایک مختصر سی نظم کا عنوان ’’امید‘‘ ہے۔ یہ پانچ اشعار اقبال نے بھوپال میں اپنے دوست راس مسعود، نواب آف بھوپال کی ریاض منزل میں کہے تھے۔ اس نظم میں اقبال استدلال کرتے ہیں کہ ناامید ہونے والا اگرچہ کافر نہیں، لیکن کافر سے کم بھی نہیں:

یہ کافری تو نہیں، کافری سے کم بھی نہیں

کہ مردِ حق ہو گرفتارِ حاضر و موجود

گرفتارِ حاضر و موجود سے وہ انسان مراد ہے جس کے دل میں امیدوں کا فانوس بجھ گیا ہو۔ اقبال اپنی ساری شاعری کو امید و یقین سے تعبیر کرتے ہیں اور کہتے ہیں:

مجھے خبر نہیں یہ شاعری ہے یا کچھ اور

عطا ہوا ہے مجھے ذکر و فکر و جذب و سرود

یہ ’’ذکر و فکر و جذب و سرود‘‘ امید ہی کی عطائیں اور بخشیشیں ہیں۔۔۔ اسی طرح ضربِ کلیم میں ایک اور نظم بھی ملتی ہے جس کا عنوان ہے ’’شعاعِ امید‘‘۔۔۔ اس میں سورج اپنی شعاعوں سے مکالمہ کرتا ہے اور کہتا ہے کہ تم صبح و شام و شب کرۂء ارض میں کہیں نہ کہیں بھٹکتی رہتی ہو۔ معلوم نہیں تمہاری منزل کیا ہے؟۔۔۔ اور اگر کوئی منزل نہیں ملتی تو پھر واپس آکر میرے سینے میں ہی جذب ہو جاؤ:

پھر میرے تجلّی کدۂ دل میں سما جاؤ

چھوڑو چمنستان و بیابان و در و بام

سورج کی ’’ناامیدی‘‘ دیکھ کر اکثر شعاعیں سوچ میں پڑ جاتی ہیں۔ اور ارادہ کر لیتی ہیں کہ واپس جاکر سورج میں سما جائیں۔ لیکن ایسے میں ایک کرن، جو بہت شوخ ہے اور بہت بے قرار بھی ہے، وہ آگے بڑھتی ہے:

اک شوخ کرن، شوخ مثالِ نگہِ حور

آرام سے فارغ، صفتِ جوہرِ سیماب

بولی کہ مجھے رخصتِ تنویر عطا ہو

جب تک نہ ہو مشرق کا ہر اک ذرہ جہاں تاب

چھوڑوں گی نہ میں نہ ہند کی تاریک فضا کو

جب تک نہ اٹھیں خواب سے مردانِ گراں خواب

یہ شوخ اور بے تاب شعاع ایک مقصد اور امید لے کر سورج کے گلے پڑ جاتی ہے۔حالانکہ وہ اس کا تخلیق کار ہے اور ساری شعاعیں، سورج ہی کے وجود سے پھوٹتی ہیں۔۔۔ اس نظم کا آخری شعر ’’سورج‘‘ کو گویا اس کی مخلوق کی طرف سے ایک تازیانہ ہے۔ وہ کہتی ہے کہ اگر مغربی دنیا، شعاعوں سے چمک اٹھی ہے اور ہندوستانی دنیا ابھی تک محوِ خواب ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم مشرق سے منہ پھیر لیں کہ یہ سخت ترین ناامیدی ہو گی۔۔۔ اس کا علاج یہ ہے کہ ہم شعاعیں اور تم (سورج) بس جگمگاتے چلے جائیں۔ ایک دن آئے گا کہ یہ ہندوستانی بھی گہری نیند سے بیدار ہو جائیں گے۔ وہ سورج کو خبردار کرتی ہے اور کہتی ہے:

مشرق سے ہو بیزار، نہ مغرب سے حذر کر

فطرت کا اشارہ ہے کہ ہر شب کو سحر کر

یہ ساری نظم نہایت قابلِ غور ہے اور اسی لئے اقبال نے اس کو ’’شعاعِ امید‘‘ کا عنوان دیا ہے۔ لیکن امیدکی اس اہمیت اور عالمگیر افادیت کو پسِ پشت ڈالتے ہوئے جب اقبال یہ کہتے ہیں:

کہاں اقبال تو نے آبنایا آشیاں اپنا

نوا اس باغ میں بلبل کو ہے سامانِ رسوائی

تو گویا یہ انتہائے یاس کی ایک صورت ہے۔ ایک ایسا شاعر جو سراسر امید کا پیامبر ہو وہ اگر مایوس ہو کر یہ کہے کہ : ’’اقبال تو نے کہاں آکر اپنا آشیاں بنالیا ہے؟۔۔۔ یہ ہندوستان تو وہ جگہ ہے جہاں بلبل اگر چہچہائے بھی اور امید کے راگ الاپے بھی چلی جائے تو یہ بات اس کی رسوائی شمار ہوتی ہے‘‘۔۔۔ اقبال نے خود کو ایک بلبل تصور کیا ہے اور ہندوستان کو اپنا آشیانہ قرار دے کر مایوسی کے عالم میں کہتے ہیں کہ اے اقبال! یہ ہندوستان کہ جس میں تو نے آبسیرا کیا ہے، یہ تو سراسر گھاٹے کا سودا اور سامانِ رسوائی ہے۔

اس سے اگلے تین شعر اسی مایوسی کی وضاحت کرتے ہیں:

کلی زورِ نفس سے بھی وہاں گل ہو نہیں سکتی

جہاں ہر شے ہو محرومِ تضاضائے خود افزائی

قیامت ہے کہ فطرت سو گئی اہلِ گلستاں کی

نہ ہے بیدار دل پیری، نہ ہمت خواہ برنائی

دلِ آگاہ جب خوابیدہ ہو جاتے ہیں سینوں میں

نواگر کے لئے زہراب ہوتی ہے شکرخائی

اندازہ کیجئے اقبال نے اپنے ناامید ہونے کا جو جواز پیش کیا ہے اس کو کس خوبصورتی اور کس زورِ بیان سے سپورٹ کیا ہے۔۔۔ کہتے ہیں کہ جس گلستاں میں آگے بڑھنے، پھلنے پھولنے اور برومند ہونے کے جذبات ہی سینوں میں افسردہ اور مردہ ہو جائیں وہاں اگر چاہے بھی تو کوئی کلی، کِھل کر پھول نہیں بن سکتی۔ غنچے سے پھول بننے کے لئے تحرک، حرارت اور شدتِ آرزو کی ضرورت ہوتی ہے۔ لیکن اقبال کہتے ہیں کہ جس ملک (باغ) میں آگے بڑھنے کے تقاضے ہی ختم ہو جائیں وہاں کلیاں ،کِھل کر پھول نہیں بن سکتیں۔۔۔ اگلا شعر اس سے بھی زیادہ (براہِ راست) کچوکے لگانے والا ہے۔ فرماتے ہیں کہ اہلِ گلستاں کی تو فطرت ہی سو گئی ہے اور جب کسی شے کی فطرت (Nature) اپنے اساسی جوہر سے محروم ہو جائے تو یہ گویا اس کی دائمی موت ہے۔ فرماتے ہیں کہ نہ یہاں کے بوڑھے (پیر) بیدار دل ہیں اور نہ نوجوان (بَرنا) ہمت خواہ ہیں۔ جوان ہو کہ بوڑھا سب کی فطرت ایک گہری نیند میں چلی گئی ہے۔۔۔اور اس سے اگلا شعر ایک مقولہ ہے جس میں اقبال کہتے ہیں کہ جب سینوں میں دل ہی ’’وفات‘‘ پا جائیں تو نغمہ گر اور گانے والے کی آواز اگر شیریں بیانی (شکرخائی) بھی ہو تو تلخابہ (زہراب) لگتی ہے۔

اس کے بعد اس نظم کا آخری اور چھٹا شعر یہ ہے:

نہیں ضبطِ نوا ممکن تو اڑ جا اس گلستاں سے

کہ اس محفل سے خوشتر ہے کسی صحرا کی تنہائی

یہ خیال رہے کہ اقبال نے اس نظم میں اپنے آپ کو ’بلبل‘ کہا ہے اور بلبل کا کام چہچہانا ہے۔ یہ چہچہاہٹ ، بلبل کی فطرت ہے۔ اس نظم کے سارے شعروں میں کلی، گل، گلستاں اور وہی الفاظ و مرکبات استعمال کئے گئے ہیں جو بلبل کے ساتھ وابستہ اور خاص ہیں۔

اس نظم کا ایک شعر میں نے عمداً چھوڑ دیا ہے جو یہ ہے:

شرارے وادیء ایمن کے تو بوتا تو ہے لیکن

نہیں ممکن کہ پھوٹے اس زمیں سے تخمِ سینائی

اس شعر میں اقبال نے اپنے بلبل ہونے کے دائرے سے باہر نکل کر وادی ء ایمن اور تخمِ سینائی کی بات کی ہے۔ لیکن نہ تو وادی ء ایمن گلستان ہے اور نہ کوہ سینا کوئی ایسا باغ ہے جس میں پھول کھلتے ہوں۔۔۔ ہم اتنا جانتے ہیں کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام وادی ء ایمن میں جا کر خدا سے ہمکلام ہوتے تھے۔ وادی ء ایمن کو وادی ء سینا بھی کہا جاتا ہے کہ وہ کوہِ سینا کا حصہ ہے۔ اقبال فرماتے ہیں کہ: ’’تو وادی ء ایمن میں ’شرارے‘ تو کاشت کرتا ہے لیکن کوہِ سینا چونکہ بنجر اور بے آب و گیاہ ہے اس لئے تمہارے شرارے وہاں اُگ کر شعلے نہیں بن سکتے‘‘۔۔۔ مجھے ایسے معلوم ہوتا ہے کہ یہ شعر اقبال نے اپنی بات کی وضاحت کے لئے اس نظم میں کہہ تو دیا تھا لیکن اس پر نظرثانی نہیں کی کہ بلبل کا کوئی تعلق وادیء ایمن، کوہ سینا اور شراروں سے نہیں ہو سکتا۔ ہاں باقی اشعار میں جیسا کہ میں نے سطورِ بالا میں وضاحت کی ہے یعنی باغ، کلی، پھول، گلشن، نواگر ،شکرخائی ایسے الفاظ ہیں جو ’’بلبل‘‘ کے ساتھ خاص ہیں۔ بلبل، نواگر بھی ہے اور شکر خائی بھی زمزمہء بلبل ہے!

آخری شعر فارسی کا ہے اور صائب تبریزی کا ہے جو یہ ہے:

ہماں بہتر کہ لیلیٰ در بیاباں جلوہ گر باشد

ندارد تنگنائے شہر، تابِ حسنِ صحرائی

(لیلیٰ کے لئے بہتر یہی ہے کہ وہ صحراؤں میں اپنے جلوے بکھیرے کیونکہ شہروں کی تنگ گلیاں، لیلیٰ کے حسنِ صحرائی کی وسعت کی تاب نہیں لا سکتیں!)

ذرا ملاحظہ کیجئے اقبال نے اپنی بات کی وضاحت کے لئے بات کہاں پہنچا دی ہے!۔۔۔ نظم کے پہلے شعر میں کہا تھا: ’’ کہاں اقبال تو نے آبنایا آشیاں اپنا۔۔۔‘‘ اور آخری شعر میں کہہ رہا ہے کہ اگر چہچہانے سے باز نہیں آ سکتے تو اس گلستاں سے کوچ کر جاؤ اور کسی بے آباد ریگستاں میں جا کر نغمہ سرائی کرو۔

بعض اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ کوئی انسان ایک عظیم مقصد لے کر اٹھتا ہے، آغازِ سفر کرتا ہے اور امید کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑتا۔ لیکن اس جادہ پیمائی میں اگرمنزل کا کوئی سراغ (دور دور تک) نظر نہ آئے تو وہ مایوس بھی ہو جاتا ہے اور سوچتا ہے کہ اگر منزل مقصود نہیں ملتی تو کیوں نہ منزل کی لوکیشن تبدیل کر دی جائے۔۔۔شائد کہ اس تبدیلی سے گوہر مراد ہاتھ آ جائے!

برسبیل تذکرہ! صائب تبریزی کی یہ غزل 15اشعار پر مشتمل ہے اور ہر شعر ’’تضمین‘‘ کے قابل ہے۔ اقبال نے جس شعر کا انتخاب کیا ہے اس سے پہلا شعر بھی دیکھ لیجئے:

بہ امیدِ تو از صد آشنا بیگانہ گردیدم

چہ دانستم کہ حقِ آشنائی رانمی پائی

[تمہارے ملنے کی امید پہ سینکڑوں محبوبوں سے کُٹّی کر لی۔ لیکن کیا خبر تھی کہ توحقِ آشنائی سے ہی بیگانہ ہو جائے گی!]

مزید :

رائے -کالم -