یہ آشیاں۔۔۔ کسی شاخِ چمن پہ بار نہ ہو

یہ آشیاں۔۔۔ کسی شاخِ چمن پہ بار نہ ہو

  

مشہور ہے کہ چند نابینا افراد کو زندگی میں پہلی بار ایک ہاتھی سے سابقہ پیش آیا،آنکھوں سے بینائی سے تو وہ محروم تھے،اِس لئے ہر شخص نے ہاتھوں سے ٹٹول کر اُس کا سراپا معلوم کرنا چاہا،چنانچہ کسی کا ہاتھ اُس کی سونڈ پر پڑ گیا، کسی کا اُس کے ہاتھ پر، کسی کا اُس کے کان پر، جب لوگوں نے اُن سے پوچھا کہ ہاتھی کیسا ہوتا ہے؟ تو پہلے شخص نے کہا وہ مڑی ہوئی ربر کی طرح ہوتا ہے، دوسرے نے کہا نہیں، وہ لمبا لمبا ہوتا ہے، تیسرے نے کہا کہ وہ تو ایک بڑے سے پتے کی طرح ہوتا ہے۔ غرض جس شخص نے ہاتھی کے جس حصے کو چھوا تھا اُسی کو مکمل ہاتھی سمجھ کر اُس کی کیفیت بیان کر دی اور پورے ہاتھی کی حقیقت کسی کے ہاتھ نہ آئی۔

کچھ عرصے سے ہم اسلام کے ساتھ کچھ ایسا ہی سلوک کر رہے ہیں جیسا اِن نابیناؤں نے ہاتھی کے ساتھ کیا تھا۔ اسلام ایک مکمل دین ہے، جس کی ہدایات و تعلیمات کو چھ بڑے شعبوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ عقائد، عبادات، معاملات، معاشرت، سیاست اور اخلاق الگ کیا جا سکتا ہے،لیکن کچھ لوگوں نے دین کو صرف عقائد و عبادات کی حد تک محدود کر کے باقی شعبوں کو نظر انداز کر دیا۔ کسی نے معاملات سے متعلق اس کے احکام کو دیکھ کر کہہ دیا کہ اسلام تو درحقیقت ایک فلاحی معیشت کا نظام ہے، کسی نے اس کی سیاسی تعلیمات کا مطالعہ کیا تو اس نے یہ سمجھ لیا کہ دین کا اصل مقصد سیاست ہے اور باقی سارے شعبے اس کے تابع ہیں یا محض ثانوی حیثیت رکھتے ہیں۔

لیکن اِس سلسلے میں سب سے زیادہ پھیلی ہوئی غلط فہمی یہ ہے کہ دین صرف عقائد ، عبادات کا نام ہے اور زندگی کے دوسرے مسائل سے اس کا کوئی تعلق نہیں،اس غلط فہمی کو ہوا دینے میں تین چیزوں نے بہت بڑھ چڑھ کر حصہ لیا ہے۔ ایک تو عالمِ اسلام پر غیر مسلم طاقتوں کا سیاسی تسلط تھا،جس نے دین کا عمل دخل دفتروں، بازاروں اور معاشرے کے اجتماعی معاملات سے نکال کر اُسے صرف مسجدوں، خانقاہوں اور بعض جگہ دینی مدرسوں تک محدود کر دیا اور جب زندگی کے دوسرے شعبوں میں اسلامی تعلیمات کا چلن نہ رہا تو رفتہ رفتہ یہ ذہن بنتا چلا گیا کہ دین صرف نماز روزے کا نام ہے۔ دوسرا سبب وہ سیکولر ذہنیت ہے،جسے سامراج کے زیر اثر تعلیمی اداروں نے پروان چڑھایا، اس ذہنیت کے نزدیک دین و مذہب صرف انسان کی انفرادی زندگی کا ایک پرائیویٹ معاملہ ہے اور اسے معیشت و سیاست اور معاشرت تک وسعت دینے کا مطلب گھڑی کی سوئی کو پیچھے لے جانے کے مترادف ہے۔تیسرا سبب خود اپنے طرزِ عمل سے پیدا کیا اور وہ یہ کہ دین سے وابستہ بہت سے افراد نے جتنی اہمیت عقائد و عبادات کو دی،اس کے مقابلے میں معاملات، معاشرت اور اخلاق کو دسواں حصہ بھی اہمیت نہیں دی۔

بہرحال! ان تینوں اسباب کے مجموعے سے نتیجہ یہی نکلا کہ معاملات، معاشرت اور اخلاق سے متعلق اسلام کی تعلیمات بہت پیچھے چلی گئیں اور ان سے ناواقفیت اتنی زیادہ ہو گئی ہے کہ گویا وہ دین کا حصہ ہی نہیں رہیں۔

یہ اپنی جگہ ناقابلِ انکار حقیقت ہے کہ دین کی تعلیمات عقائد و عبادات کی حد تک محدود نہیں ہیں اور ایک مسلمان کی ذمہ داری صرف نماز، روزہ ادا کر کے پوری نہیں ہو جاتی، خود آنحضرتؐ نے ارشاد فرمایا کہ ایمان کے ستر سے زائد شعبے ہیں، جن میں اعلیٰ ترین شعبہ توحید کی شہادت ہے اور ادنیٰ ترین شعبہ راستے سے گندگی دور کرنا ہے،بلکہ معاملات، معاشرت اور اخلاق کا معاملہ اس لحاظ سے زیادہ سنگین ہے کہ ان کا تعلق حقوق العباد سے ہے اور یہ اصول مسلم ہے کہ اللہ اپنے حقوق توبہ سے معاف کر دیتا ہے،لیکن حقوق العباد صرف توبہ و استغفار سے معاف نہیں ہوتے،ان کی معافی کی دو ہی صورتیں ہیں: یا تو حق دار کو اس کا حق پہنچایا جائے یا وہ خود دِل سے معافی دے دے، لہٰذا دین کے یہ شعبے خصوصی اہتمام کے متقاضی ہیں۔

پھر معاملات، معاشرت اور اخلاق کے ان تین شعبوں میں بھی سب سے زیادہ لاپروائی معاشرت کے شعبے میں برتی جا رہی ہے، معاشرتی برائیوں کا ایک سیلاب ہے،جس نے ہمیں لپیٹ میں لیا ہوا ہے اور اچھے خاصے پڑھے لکھے ،تعلیم یافتہ، بلکہ ایسے دین دار حضرات بھی جو دین سے اپنی وابستگی کے لئے مشہور سمجھے جاتے ہیں،اِس پہلو سے اتنے بے خبر ہیں کہ ان معاشرتی خرابیوں کو گناہ ہی نہیں سمجھتے۔

اسلام کی ساری معاشرتی تعلیمات کی بنیاد آنحضرتؐ کے ارشاد پر ہے:’’مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں‘‘۔اسلام کی ساری معاشرتی تعلیمات اسی بنیادی اصول کے گرد گھومتی ہیں کہ ہر مسلمان اپنے ہر ہر قول و فعل میں اس بات کی احتیاط رکھے کہ اس کی کسی نقل و حرکت یا کسی انداز و ادا سے کسی دوسرے کو کسی بھی قسم کی جسمانی،ذہنی، نفسیاتی یا مالی تکلیف نہ پہنچے۔

آنحضرتؐ کے دِل میں دوسروں کو تکلیف سے بچانے کی کس قدر اہمیت تھی؟ اس کا اندازہ اِس بات سے لگایئے کہ آپؐ ایک مرتبہ جمعہ کے دن خطبہ دے رہے تھے، اتنے میں آپؐ نے دیکھا کہ ایک صاحب اگلی صفوں تک پہنچنے کے لئے لوگوں کی گردنیں پھلانگتے ہوئے آگے بڑھ رہے ہیں۔ آپؐ نے یہ منظر دیکھ کر خطبہ روک دیا اور اُن صاحب سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا:’’بیٹھ جاؤ، تم نے لوگوں کو اذیت پہنچائی ہے‘‘۔

مسجد حرام میں طواف کرتے ہوئے حجر اسود کو بوسہ دینا بہت اجر و ثواب رکھتا ہے اور احادیث میں اس کی نجانے کتنی فضیلتیں بیان کی گئی ہیں،لیکن ساتھ ہی تاکید یہ ہے کہ اس فضیلت کے حصول کی کوشش اسی صورت میں کرنی چاہئے جب اس سے کسی دوسرے کو تکلیف نہ پہنچے،چنانچہ دھکم پیل اور دھینگا مشتی کر کے حجر اسود تک پہنچنے کی کوشش کرنا نہ صرف یہ کہ ثواب نہیں ہے،بلکہ اس سے اُلٹا گناہ ہونے کا اندیشہ ہے۔

اگر کسی شخص کو تمام عمر حجر اسود کا بوسہ نہ مل سکے تو ان شاء اللہ اس سے یہ باز پُرس نہیں ہو گی کہ تم نے حجر اسود کا بوسہ کیوں نہ لیا؟لیکن اگر بوسہ لینے کے لئے کسی کمزور شخص کو دھکا دے کر تکلیف پہنچا دی تو یہ ایسا گناہ ہے، جس کی معافی اُس وقت تک نہیں ہو سکتی جب تک وہ شخص معاف نہ کر دے۔

غرض اسلام نے اپنی تعلیمات میں قدم قدم پر اس بات کا خیال رکھا ہے کہ ایک انسان دوسرے کے لئے تکلیف کا باعث نہ بنے۔اسلام کی بیشتر معاشرتی تعلیمات اسی محور کے گرد گھومتی ہیں،جس کا خلاصہ یہ ہے کہ ؂

تمام عمر اسی احتیاط میں گزری

یہ آشیاں کسی شاخِ چمن پہ بار نہ ہو

(بشکریہ۔۔۔ ماہنامہ انوار معراج، ساہیوال)

مزید :

ایڈیشن 1 -