کثرت ذکر الٰہی

کثرت ذکر الٰہی

  

ذکر کثیر

قرآن مجید میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے واذکر ربک کثیرا اللہ کا ذکر بہت کثرت سے کریں ۱ور رات دن ذکر کرتا چلا جا۔ صبح شام۔ جیسے انگریزی میں کہتے ہیںRound the Clock یعنی ہر لمحہ۔ دن کی دو انتہائیں ہیں‘ صبح اور شام۔ اسی طرح رات کی بھی دونوں انتہائیں ہیں‘ صبح اور شام۔ جب رات دن کی دونوں انتہاؤں کا ذکر آتا ہے تو مراد ہوتا ہے کہ رات دن‘ ہر لمحہ‘ ہر آن ذکر الٰہی کرتے رہیے۔

ذکر دوام

نبی کی ایک نگاہ ایمان لانے والے کو شرف صحابیت سے سرفراز کر دیتی ہے اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے خشوع و خضوع‘ ان کے رکوع و سجود اور ان کے ذکر الٰہی کی کیفیت بیان کرتے ہوئے قرآن کریم نے فرمایا کہ ’’ ان کے کھال سے لے کر نہاں خانہ دل تک ہر ذرہ بدن اللہ کا ذکر کرنے لگ جاتا ہے‘‘ ہر باڈی سیل ذاکرہو جاتا ہے۔ اگر نبی کی ایک نگاہ سے بندہ مومن کے وجود کا ہر ذرہ ذاکر ہو جاتا ہے تو خود نبی کس درجے کا ذکر کرتا ہو گا! انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام جو لباس استعمال کرتے ہیں وہ لباس ذاکر ہو جاتا ہے، جو جوتا استعمال فرماتے ہیں اس کے سارے اجزا ذاکر ہو جاتے ہیں، جس زمین پر قدم رکھتے ہیں وہ زمین ذاکر ہو جاتی ہے‘ جس چیز کو چھو لیتے ہیں وہ ذاکر ہو جاتی ہے، جس جانور پرسواری کر لیتے ہیں اس کے بدن کا ہر جزوذاکر ہو جاتا ہے، گویا انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام کے وجود کا ہر ذرہ نہ صرف یہ کہ ہر لمحہ ہر آن ذاکر ہوتا ہے، بلکہ وہ ذاکر گر ہوتے ہیں کہ جسے دیکھ لیں، جسے چھو لیں، جہاں قدم رکھ دیں، اسے ذاکر بنا دیتے ہیں۔ اللہ آج بھی اگر کسی کو دل کی نگاہ دے دے تو جہاں جہاں نبی کریمؐ مکہ مکرمہ کی گلیوں میں نکلے یا جہاں جہاں آپؐ نے سفر فرمایا، جہاں جہاں صحراؤں میں قدم مبارک رکھا‘ آج بھی وہ قطعہ زمین اس طرح نظر آتا ہے جیسے آسمان پر چاند دکھائی دیتا ہے، جن راستوں سے حضورؐ گزرے وہ فضائیں حد نگاہ تک منور نظر آتی ہیں۔

یہ کمال تو محمد رسولؐ اللہ کا تھا کہ جہاں تشریف لے گئے وہاں کے پتھروں کو بھی درود پڑھنا نصیب ہو گیا، درختوں کو بھی صلوٰۃ و سلام پڑھنا نصیب ہو گیا۔ یعنی انبیاء علیھم الصلوٰۃ والسلام کا وجود پاک ذاکر گر ہوتا ہے۔ اس کے بعد پھر نبی علیہ الصلوٰۃ والسلام کو حکم ہو رہا ہے واذکر ربک کثیرا اور کثرت سے اللہ کا ذکر کر۔ اس کا مطلب ہے کہ کتنا بھی ذکر کیا جائے‘ ذکر میں ساری عمر صرف کردیں پھر بھی وہ کثرت ذکر ابھی باقی ہے جو مذکور کی شان کے مطابق ہے۔ اللہ کی کوئی حد نہیں۔ اس کی عظمت ’’اس کی شان‘‘ اس کی ذات کی کوئی حد نہیں۔ اس کے ذکر کی بھی کوئی حد نہیں ہے۔

ذکر کی اقسام

بہت سے احباب کا یہ گمان ہوتا ہے کہ ہم عبادت کرتے ہیں تویہ ذکر ہے، تسبیح پڑھتے ہیں تو یہ ذکر ہے۔ ذکر کے مختلف درجات ہیں۔ صرف عبادت ہی ذکر نہیں ہے، بلکہ دُنیا کا جو کام بھی شریعت کے مطابق کیا جائے وہ ذکر الٰہی ہے،وہ عملی ذکر ہے اور اس میں اللہ کی یاد موجود ہے۔ یہ کام ایسے کیوں کر رہے ہو، یہ اللہ کا حکم ہے اللہ کے رسولؐ کا حکم ہے۔ اس میں ذکر موجود ہے اور یہ عملی ذکر ہے۔ کوئی بات جو اس اعتبار سے سچی اور کھری کی جائے کہ چونکہ اللہ اور اللہ کے نبیؐ کا حکم ہے سچ بولو لہٰذا میں سچی بات کر رہا ہوں تو وہ ذکر الٰہی ہے، اس کے ساتھ اللہ کی یاد موجود ہے، اللہ کے نبیؐ کی یاد موجود ہے۔ پھر کوئی تلاوت کرے، تسبیحات پڑھے، سارا دن اسم ربانی پڑھتا رہے یہ ذکر الٰہی ہے، لیکن یہ ذکر لسانی ہے۔ ایک ذکر وہ حال ہے کہ آپ جو کام بھی کرتے ہیں‘ جس حال میں بھی اللہ کو یاد کرتے ہیں، وہ عملی ذکر ہے۔ زبان سے نیک بات کہتے ہیں یا تلاوت کرتے ہیں یا تسبیح پڑھتے ہیں، یہ ذکر لسانی ہے، لیکن نہ حال ہمیشہ رہتا ہے اور نہ زبان ہر وقت چلتی ہے۔ عمل بھی ہر وقت نہیں ہوتا‘ عمل منقطع ہو جاتا ہے۔ آپ سارا دن کام کرتے ہیں‘ رات کو سو جائیں گے تو عمل منقطع ہو جائے گا۔ زبان سے آپ کتنا ذکر کرتے رہیں، لیکن زبان خاموش ہو جائے گی تو ذکر منقطع ہو جائے گا۔ ذکر کثیر نہ عمل سے ہو سکتا ہے،نہ لسان سے ہو سکتا ہے۔ تیسرا ذکر ہے ذکر قلبی، دل ذاکر ہو جائے، دل میں یاد رچ بس جائے اور دنیا کا کوئی بھی کام کر رہے ہوں لیکن دل یاد اللہ سے غافل نہ رہے۔ اس کے لئے پنجابی کا ایک محاورہ ہے: ہتھ کار وَل دل یار وَل۔

ذکر خفی قلبی

آپ کوئی کام بھی کر رہے ہوں، دل اللہ اللہ کر رہا ہو۔ آپ بات کر رہے ہوں دل اللہ اللہ کر رہا ہو۔ آپ کھانا کھا رہے ہوں دل اللہ اللہ کر رہا ہو۔ آپ سو جائیں دل اللہ اللہ کر رہا ہو۔ آپ جاگیں تو پتہ چلے دل ذاکر تھا، سینے میں دھڑک کر باہر آنا چاہتا ہے۔ آپ سوتے رہیں لیکن ذکر قلبی نصیب ہو جائے تو وہ چلتا رہے گا۔ بندہ مر جائے‘ قبر میں چلا جائے‘ مٹی کے نیچے اُتر جائے، لیکن دل اللہ اللہ کرتا رہے تو ایک حد تک ذکر کثیر کے معنی کو پالیتا ہے یعنی کسی نہ کسی حد تک کثرت ذکر میں داخل ہو جاتا ہے۔ عملی ذکر کثیر نہیں ہو سکتا، عمل میں انقطاع آتا ہے۔ لسانی ذکر ذکر کثیر نہیں ہو سکتا کہ اس میں انقطاع آتا ہے۔ زبان بند ہوتی ہے، لیکن جب قلب ذاکر ہو جاتا ہے‘ ذکر خفی قلبی نصیب ہو جاتا ہے تو وہ ذکر دوام ہو تا ہے۔ دل دھڑکنا چھوڑ جائے، لیکن ذکر کرنا نہیں چھوڑتا۔ موت آ جائے‘ دل کی دھڑکن بند ہو جائے لیکن اگر ذاکر ہے تو ذکر نہیں چھوڑتا۔ اس کے اندر جو لطیفہ ربانی ہے وہ ذکر کرتا ہی رہتا ہے۔ وہ قبر میں بھی کرتا رہتا ہے، حتیٰ کہ قلب ذاکر سے قبور ذاکر ہو جایا کرتی ہیں۔ کثرت ذکر کی بات جب بھی آتی ہے سوائے ذکر قلبی کے اس مفہوم کو پورا نہیں کیا جا سکتا۔

قرآن کریم میں ذکر کا حکم ہے اور سب سے زیادہ جو حکم براہِ راست یا بالواسطہ دیا گیا وہ ذکر کا ہے، لیکن قرآن کریم نے ذکر پر کسی طریقے کی کوئی پابندی نہیں لگائی۔ جیسے نماز ہے۔ نماز کے طریقے کی پابندی ہے، وقت کی پابندی ہے، رکعت کی پابندی ہے، رکوع و سجود کی پابندی ہے، فاتحہ شریف پڑھنے کی پابندی ہے، ہر حرکت پہ تکبیر کہنے کی پابندی ہے، بہت سی پابندیاں ہیں اور طریقہ کار بھی مقرر ہے۔ روزے کا وقت، مہینہ مقرر ہے، افطار و سحر کے قواعد و ضوابط ہیں۔ حج کا وقت، دن اور ارکان بھی مقرر ہیں۔ سب عبادات کے اوقات مقرر ہیں، لیکن ذکر کے لئے کوئی طریقہ، کوئی خاص وقت مقرر نہیں ہے، صرف کثرت ذکر کا حکم ہے۔ جتنے سلاسل ذکر ہیں اور وہ جس طرح سے بھی ذکر کرتے ہیں‘ اگر ان میں کوئی خلاف شریعت عمل ہو گا تو اس کی اجازت نہیں ہو گی۔ شرعی حدود کے اندر کوئی بیٹھ کر کرتا ہے‘ لیٹ کر، حرکت سے،آنکھیں بند کر کے یا آنکھیں کھول کے کرتا ہے، ایک کرتا ہے یا پچاس مل کر کرتے ہیں، جو کام بھی شریعت کے اندر کرنا جائز ہے اس کے مطابق ذکر کے سارے طریقے اور سلیقے جائز ہیں۔ فرق یہ ہے کہ ہر ایک شیخ کی اپنی تحقیق ہے، ہر سلسلے کا اپنا طریقہ ہے، جس طرح انہوں نے زیادہ مفید سمجھا، اس طریقے کو انہوں نے اپنا لیا اور اس طریقے سے انہیں برکات و انوارات نصیب ہوتی ہیں۔ لہٰذا ذکر کا حکم مطلق ہے، اس کا کوئی طریقہ نہ اللہ نے مقرر فرمایا نہ اللہ کے رسولؐ نے مقرر فرمایا اور نہ کوئی آج پابند کر سکتا ہے۔ ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ جس طرح ہم ذکر کرتے ہیں یہ صحیح ہے اور جس طرح دوسرے کرتے ہیں وہ غلط ہے، جس طرح جس کا جی چاہے، لیکن ایک پابندی ہے کہ ذکر کے نام پر کوئی کام خلاف شریعت کرنے کا کوئی جواز نہیں ہے۔ شرعی حدود کے اندر کوئی جس طرح ذکر کرتا ہے، وہ سب جائز ہے۔ اگر کسی کو اس کی لذت نصیب ہو جائے تو سب سوالوں کے جواب مل جاتے ہیں، چونکہ جو کچھ اس سے نصیب ہوتا ہے وہ کیفیات ہیں اور کیفیات محسوس تو کی جا سکتی ہیں‘ لکھنے پڑھنے میں نہیں آتیں۔ کیفیات کے لئے کوئی لفظ وضع نہیں کیا گیا کہ وہ لکھ کر بتا دے۔ کیفیات صرف محسوس کی جا سکتی ہیں اور یہ انہی کا کام ہے جنہیں اللہ نصیب کر دے۔ میری تو دُعا ہے کہ اللہ تمام مسلمانوں کو نصیب کرے۔ آمین!

مزید :

ایڈیشن 1 -