حضرت سید اقبال احمد حسین گیلانی ؒ

حضرت سید اقبال احمد حسین گیلانی ؒ

  

ظہور کاظمی

آہ۔۔۔۔۔پیر صاحب منڈیر شریف حضرت سیّد اقبال احمدحسین گیلانی ؒ آپ سابق ایم پی اے پنجاب، معروف روحانی پیشواء،سیاسی ،سماجی اور ہر دلعز یز شخصیت تھے۔

اے سیّدِ اقبا ل اے اُمت کے سہارے

جھکتے ہیں تیرے نام پہ گردوں کے ستارے

اقبال تیرا اوج صد افلاک سے بالا

اوصاف تیرے عالم ادراک سے بالا

تو ظلِ شہنشاہِ زماں ہے شہزادے

اسلام کی تو روح رواں ہے شہزادے

تبلیغ اسلام کے سلسلے میں حضرت محبوبِ ذات سیّد احمد حسین قدس سرہ نے ہندوستان کا دورہ کیا اور لاکھوں غیر مسلموں کو مسلمان کیا۔1931ء میں حضور عالی سرکار حضرت محبوبِ ذات ؒ کے ہاں جبل پور میں بیٹا تولد ہوا جس کا نام آپ نے سیّد اقبال احمد حسین رکھا اور فرمایا کہ یہ عزتوں اور بلندیوں والا ہو گا۔ہزاروں لوگ اِس سے فیض یاب ہوں گے۔ہزاروں ضرورت مند دینی اور دُنیاوی کاموں میں فائدہ اُٹھائیں گے۔حضرت محبوبِ ذات ؒ کا یہ ارشاد بالکل سچ ثابت ہوا۔حضرت محبوبِ ذاتؒ جبل پور سے الٰہ آباد پہنچے تو آپ نے اپنے فرزندِ ارجمند سیّد اقبال احمد حسین شاہ کو قرآن اور ابتدئی تعلیم کے لئے الٰہ آباد میں داخل کروا دیا۔بعد ازاں حضور عالی سرکارؒ آبائی گاؤں منڈیر سیّداں تشریف لے آئے اور پرائمری سکول میں داخل کروادیا۔پانچویں جماعت پاس کرنے کے بعدآپ مڈل سکول قصبہ سمبڑیال میں داخل ہوئے بعد ازاں اسلامیہ ہائی سکول سے میٹرک کیا ۔اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے لئے لاہور تشریف لے گئے اور یہاں سے ڈرافٹس مین کاکورس کیا ۔اِس عرصے میں سنت نگر لاہور میں چودھری شیر محمد کے ہاں قیام پذیر رہے۔

حضرت محبوبِ ذات نے دربار شریف کاانتظام وانصرام سیّد اقبال احمد حسین شاہ کے سپرد اوائل عمر میں ہی کر دیا تھااور حکم فرمایا کہ دربار شریف کا انتظام کنٹرول کرو۔آپ کو کنٹرولر کے لقب سے نوازا۔یہی وجہہ ہے کہ دربار شریف میں سب آپ کو کنٹرولر صاحب کے نام سے پکارتے تھے۔آپ کے پدرِبزرگوار حضرت محبوبِ ذاتؒ نے ظاہراً ہر طرح کی تربیت فرمائی تمام باطنی منازل طے کروائیں۔ سرکار محبوبِ ذات ؒ کے وصال کے بعدآپ ؒ نے دربار شریف کے تمام امور کنٹرول میں رکھے،نمازوں کی امامت بھی کافی عرصہ تک کرواتے رہے۔ لوگوں کے لئے دُعا اور تعویزات لکھنے اور دینے کا سلسلہ جاری رکھاتو ذمہ داریوں میں مزید اضافہ ہوتا چلا گیا۔1965 ء میں اپنے اثر و رسوخ سے علاقے میں بجلی لانے کا بندو بست کیااُن دنوں آپ ضلع کونسل سیالکوٹ کے ممبر تھے۔1967ء میں اپنے اثر ورسوخ سے (شہر سیالکوٹ) سے تقریباً15 کلو میٹردور سے ٹیلیفون لائن منڈیر شریف تک لانے کا سہرا بھی آپ ہی کے سر ہے۔

منڈیر شریف پہنچنے کے لئے باقاعدہ سیدھا راستہ یا سڑک موجود نہیں تھی۔لوگ پگ ڈنڈیوں پہ چل کر آتے،برسات کے موسم میں چلنا دشوار توکیا ناممکن تھا۔آپ نے شدت سے احساس کیا کہ مین سڑک(سیالکوٹ وزیرآباد روڈ)سے منڈیر شریف تک پختہ سڑک ہونے سے عوام کو آمد ورفت میں آسانی ہو گی،لہٰذاآپ نے سیالکوٹ روڈ سے منڈیر شریف تک پختہ سڑک تعمیر کروائی۔جس کا عوام کو اِس قدر فائدہ ہوا ۔

صدر فیلڈ مارشل محمد ایوب خان کے دورِحکومت میں یونین کونسل روڑس کے چےئر مین بنے اِس کے بعد آپ ضلع کونسل سیالکوٹ کے ممبر منتخب ہوئے،بعدا زاں1985ء کے عام انتخابات میں آزاد حیثیت سے صوبائی اسمبلی پنجاب (پی پی 106 )کے رکن منتخب ہوئے۔ آپ نے ایم پی اے کی حیثیت سے اسمبلی میں کاشتکاروں، مزدوروں اور غریبوں کے حقوق کے لئے بلاامتیاز آواز بلند کی ۔آپ نے حلقہ انتخاب میں نمایاں ترقی کی ایک مثال قائم کی۔ اپنے حلقے میں شامل183 دیہات میں مدرسے قائم کئے ۔تعلیم کو فروغ دیا،سڑکیں تعمیر کروائیں تاکہ لوگ بآسانی بڑے شہروں، قصبوں اور منڈیوں تک جا سکیں۔صحت کے مراکز قائم کئے خواتین کے لئے سمبڑیال میں کالج قائم کیا۔اِس سے قبل جواں سال بچیوں کو علم کے لئے ڈسکہ تا سیالکوٹ جانا پڑتا تھا۔ کالج کی سہولت میسر آنے سے علاقے کے لوگ بہت مشکور اور ممنون ہوئے۔

حضرت سیّد اقبال احمد حسین قلیل مدت علالت کے بعد لاہور کے نجی ہسپتال میں جمعرات۔20 ،دسمبر کو صبح6.45 انتقال فرما گئے۔آپ کی تدفین 21دسمبر2018ء بروز جمعتہ المبارک آپؒ کے پدرِبزرگوار کے پہلو اور آپ کے برادرِ اکبرحضرت سیّد افضال احمدحسین گیلانی ؒ کے ساتھ، آپ کی وصیت کے مطابق کی گئی ۔نمازِجنازہ معروف روحانی پیشواء،سکالر اورشاعر آپ کے برادرِ حقیقی سیّد امجد علی نے پڑھائی۔آپ ؒ کے چہلم کا ختم شریف اتوار 20 جنوری کو بعد نماز ظہر آستانہ عالیہ منڈیر شریف میں منعقد ہو گا۔

مزید :

ایڈیشن 1 -