سراج الحق، لیاقت بلوچ، پروفیسر ابراہیم، نیا امیدوار کون ہو گا؟

سراج الحق، لیاقت بلوچ، پروفیسر ابراہیم، نیا امیدوار کون ہو گا؟
 سراج الحق، لیاقت بلوچ، پروفیسر ابراہیم، نیا امیدوار کون ہو گا؟

  

امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق اپنی امارات کے پانچ سال مکمل کر چکے ہیں۔ جماعت اسلامی کے الیکشن کمیشن نے آئندہ پانچ سال کے لئے امیر کے انتخاب کے لئے مرکزی شوریٰ کے مرد خواتین، 90ارکان نے41ہزار ارکان جماعت اسلامی کی رہنمائی کے لئے تین ناموں کا بذریعہ خفیہ بیلٹ انتخاب مکمل کر لیا ہے۔ جماعت اسلامی پاکستان کے امیر کے لئے مُلک بھر کے ارکان وہ مرد ہوں یا خواتین۔ سراج الحق، لیاقت بلوچ، پروفیسر ابراہیم میں سے ایک کو یا مُلک بھر سے کسی بھی رکن کو، جس کو موزوں سمجھتے ہیں ووٹ دے سکیں گے۔

نئے امیر کے لئے آنے والے ناموں میں پروفیسر ابراہیم جو جماعت اسلامی پاکستان کے اس وقت نائب امیر ہیں، صوبہ خیبرپختونخوا کے امیر رہ چکے ہیں، سینیٹر کی حیثیت سے خدمات انجام دے چکے ہیں، امیر کے انتخاب کے لئے سراج الحق اور لیاقت بلوچ کا نام غیر متوقع نہیں ہے، مگر پروفیسر ابراہیم صاحب کا نام بہت سے حلقوں کے لئے سرپرائز ہے، جن ناموں کی توقع کی جا رہی تھی،ان میں سراج الحق اور لیاقت بلوچ دو نام کنفرم تھے۔ البتہ ان کے ساتھ مرکزی نائب امیر راشد نسیم،امیر صوبہ پنجاب وسطی امیر العظیم، امیر کراچی حافظ نعیم الرحمن،امیر خیبرپختونخوا مشتاق خان کے ناموں میں سے ایک نام کی امید کی جا رہی تھی۔

سراج الحق، لیاقت بلوچ، پروفیسر ابراہیم میں سے ارکان کس کا انتخاب کرتے ہیں، اس میں بھی دو رائے نظر نہیں آ رہیں۔اختلاف رائے رکھنے والے بھی سراج الحق کو ایک موقع پھر دینے کے حق میں نظر آ رہے ہیں۔ ایک بڑا حلقہ جو لیاقت بلوچ کے نام اور کام سے متاثر چلا آ رہا ہے، وہ امیر کے لئے تین ناموں میں ان کا نام شامل کرنا چاہتا ہے، مگر مرکزی امیر کے لئے ان کی دوبارہ ترجیح سراج الحق ہی نظر آتی ہے۔

البتہ 2018ء کے انتخاب میں جماعت اسلامی کی عبرت ناک اور شرم ناک شکست کے بعد جماعت اسلامی کے ارکان و کارکنان میں پائے جانے والے اضطراب کے بعد ملک کے طول و عرض میں منعقد ہونے والے ارکان کے اجتماع میں امیر جماعت اسلامی کی شرکت نے تنظیم کے اندر سے اٹھتا ہوا طوفان انتہائی بردباری کے ساتھ تلخ سوالات کے جواب ٹھنڈے انداز میں دے کر عارضی طور پر روک دیا ہے۔ البتہ گزشتہ پانچ سال کی امیر جماعت اسلامی کی تنظیمی، دعوتی، تربیتی و سیاسی مصروفیات کو آئندہ کے لئے بڑے چیلنج کے طور پر سوالات کا پرچہ نئے امیر کے لئے جاری کر دیا ہے۔ گزشتہ پانچ سالہ کارکردگی کو سامنے رکھتے ہوئے نئے امیر کو اس پرچے میں اٹھائے گئے سوالات کے جواب دینا ہوں گے۔

جماعتی حلقوں میں سب سے خوش آئند بات جو قرار دی جا رہی ہے وہ ہے کہ جماعت اسلامی کی قیادت کی طرف سے غلطیوں کا اعتراف اور اپنے اصل کی طرف آنے کا عزم۔ سراج الحق اگر دوبارہ امیر بنتے ہیں تو ان کو سب سے پہلے اِس بات کا جائزہ لینا ہو گا کہ مینارِ پاکستان تلے کارکنان سے لئے گئے حلف پر عمل درآمد میں کون سی قوتیں حائل رہیں،جنہوں نے انہیں تنظیم میں کسی قسم کی تبدیلی نہیں کرنے دی،انہیں جماعتی اداروں سے دور رکھا، اتحادی سیاست سے تائب ہونے کے باوجود اپنے نشان، منشور، اپنے جھنڈے کے ساتھ میدانِ عمل میں آنے سے روکتے ہوئے دوبارہ زبردستی اتحادی سیاست کے سمندر میں دھکیل دیا۔

جماعت اسلامی کی تنظیم کو تحریک میں بدلنا، ملکی سرحدوں کو درپیش نظریاتی خطرات سے نبرد آزما ہونا، نئے امیر کے لئے نیا نہیں ہو گا،کیونکہ جماعت اسلامی ایک ایسی نظریاتی تحریک ہے،جس نے ماضی میں سوشلزم، فرقہ واریت، قوم پرستی، امریکی مداخلت، بھارتی مظالم کے خلاف سینہ سپر ہو کر قوم کی حقیقی رہنمائی کی ہے۔ اب دوبارہ امیر جماعت اسلامی کو علم اٹھانا ہو گا۔ جماعتی تشخص جو اتحادی سیاست کی نذر ہو چکا ہے،اس کی بحالی کے ساتھ ٹھیکوں پر دیئے گئے جماعت کے قیمتی اثاثے،جو اداروں کی شکل میں موجود ہیں یا مساجد، ان کو کمیٹیوں کے رحم و کرم پر چھوڑنے کی بجائے امیر جماعت کو اپنی نگرانی میں لانا ہو گا تاکہ کارکن سازی شروع ہو سکے۔

جماعتی کارکنان کے اندر جو تنظیمی تبدیلی کی لہر گزشتہ پانچ سال سے اُٹھ رہی ہے، اس کو اب شاید نئے امیر دبا نہ سکیں، دوبارہ اگر ایسا ہو گیا تو تاریخ معاف نہیں کرے گی۔ لیاقت بلوچ جیسی سیاسی، تنظیمی، بصیرت کی حامل شخصیت کو میدان عمل میں لانے، ان کے وسیع تجربے اور دور اندیشی سے فائدہ اٹھانے کی ضرورت ہے۔سیکرٹری جنرل کے لئے راشد نسیم اور امیر العظیم ، میاں مقصود احمد، اظہر اقبال حسن جیسی شخصیات کو موقع دینا چاہئے۔

ایک بات جس کی جماعتی کارکنان میں یکسوئی پائی جا رہی ہے وہ یہ ہے کہ اب نئے امیر سراج الحق ہوں یا لیاقت بلوچ یا پروفیسر ابراہیم سب کے لئے ایک چیلنج یکساں ہے وہ ہے، ’’اب نہیں تو کبھی نہیں‘‘! نئے امیر جماعت اسلامی کے لئے تین نام فائنل ہونے کے بعد فوری طور پر خفیہ رائے شماری کے لئے بیلٹ جاری ہو رہے ہیں، فروری میں جمہوری عمل مکمل ہونے جا رہا ہے، مارچ میں نئے امیر کا اعلان ہو گا،9اپریل سے پہلے پہلے نئے امیر کو حلف اٹھانا ہے۔ باوثوق ذرائع سے پتہ چلا ہے جماعت اسلامی کی مرکزی شوریٰ کے تین روزہ طویل اجلاس میں خود احتسابی سمیت مستقبل کے لئے بھی بڑے فیصلے ہوئے ہیں جن میں سب سے اہم اور بڑا فیصلہ اتحادی سیاست سے توبہ اور جماعت کی نظریاتی اساس کی دوبارہ بیداری ہے، بلدیاتی کونسلر سے چیئرمین یونین کونسل تک اور رکن اسمبلی سے سینیٹر تک کی نشست کے حصول کے لئے جماعت اسلامی اپنے نشان اور منشور کے ساتھ میدانِ عمل میں آئے گی۔

اس کے لئے ملک گیر ورکر کنونشن کا آغاز کیا جا رہا ہے۔ایک کارکن نے تحریری طور پر مجھے لکھا ہے، جماعت اسلامی کے امیر کے لئے کسی بھی الیکشن میں حصہ لینے پر پابندی لگنی چاہئے، وہ صوبائی اسمبلی کا الیکشن ہو یا قومی اسمبلی کا۔ اسی کارکن کا کہنا ہے۔ جماعت اسلامی کے موجودہ امیر جیسے سینیٹر ہیں۔ اگر ایسا موقع ملے تو بننا چاہئے ورنہ جماعت اسلامی کے امیر کو اپنی جماعت اسلامی کے لئے کام کرنا چاہئے،۔ اس کی ڈوبتی تنظیمی ناؤ، دم توڑتے ادارے، مسجدوں، مدرسوں اور کارکنان سے ٹوٹا تعلق بحال کرنے پر ساری توجہ دینی چاہئے۔ جماعتی منشور کے چوتھے نکتے کو چوتھے نمبر پر ہی رکھنا چاہئے، جب امیر کا عمل ایک ہو گا تو کارکنان بھی خودبخود اندر باہر سے ایک ہوتے جائیں گے۔

مزید :

رائے -کالم -