انٹر افغان ڈائیلاگ مسئلہ کے حل کیلئے ضروری ہیں ، پاکستان نے امریکہ مذاکرات میں مدد کی : دفتر خارجہ

انٹر افغان ڈائیلاگ مسئلہ کے حل کیلئے ضروری ہیں ، پاکستان نے امریکہ مذاکرات ...

  

اسلام آباد(سٹاف رپورٹر )ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر محمد فیصل کا کہنا ہے پاکستان نے امریکہ اور طالبان کی مذاکرات میں مدد کی، انٹرا افغان ڈا ئیلاگ مسئلے کے حل کیلئے ضروری ہیں، بھارت کا افغانستان میں کوئی کردار نہیں ، مقبوضہ کشمیر میں بھارتی جارحیت ،ایل او سی پراشتعال انگیز یو ں کا سلسلہ بھی جاری ہے،جہاں بھارتی افواج نہتے معصوم شہریوں کو نشانہ بناتی ہیں، پاکستان کسی بھی جارحیت کا منہ توڑ جواب دے گا، و ز یر اعظم عمران خان قطر کے امیر کی دعوت پر 21جنوری کو قطر کے دو روزہ دورے پر روانہ ہونگے جبکہ سعودی و لی عہد محمد بن سلمان فروری میں پاکستان کا دورہ کریں گے، جمعرات کو ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر محمد فیصل نے ہفتہ وار بریفنگ دیتے ہوئے کہا پاکستان بھارت کیساتھ تمام مسا ئل پر مذاکرات کا کہتا ہے، بھارت مذاکرات سے بھاگ رہا ہے۔بھارتی ڈرونز کی پاکستانی حدود کی خلاف ورزی کی سخت مذمت کر تے ہوئے ترجمان کا کہنا تھا پاکستانی فورسز متحرک اور ہوشیار ہیں، بھارت کے دونوں ڈرونز مار گرائے ہیں، سرجیکل اسٹرائیک ڈرامہ ہے، بھارتی میڈیا بھی نفی کر چکا ہے۔ لیزا کرٹس کا دورہ پا کستان افغان مفاہمتی عمل کے حوالے سے ہے، پاکستان نے طالبان امریکہ براہ راست مذاکرات کیلئے سہو لت فراہم کی ہے۔

دفتر خارجہ

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر ) افغانستان میں مفاہمتی عمل کیلئے امریکہ کے نمائندہ خصوصی زلمے خلیل زاد نے وفد کے ہمراہ دفترخارجہ میں سیکر ٹر ی خارجہ تہمینہ جنجوعہ کیساتھ ملاقات کی۔ ترجمان دفترخارجہ ڈاکٹر محمد فیصل کے مطابق زلمے خلیل زاد نے دورہ پاکستان پہنچنے کے بعدوزارت خارجہ میں سیکرٹری خارجہ تہمینہ جنجوعہ کے ساتھ ملاقات کے دوران افغان مفاہمتی عمل سے متعلق بات چیت کی۔ اس سلسلے میں ابوظہبی میں ہو نیوالے حالیہ مذاکرات کے بعد افغان مفاہمتی عمل پر ہونے والی پیش رفت پر تبادلہ خیال کیا۔ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق زلمے خلیل زاد کے دورے کا مقصد افغانستان میں فوجی انخلا اور افغان طالبان سے بات چیت پر مشاورت ہے۔ملاقاتوں میں پاک امریکہ تعلقات، افغا ن امن عمل، بارڈرمینجمنٹ اورافغان طالبان سے مذاکرات پر تبادلہ خیال ہوگا۔ترجمان امریکی سفارتخانہ کے مطابق زلمے خلیل زاد کا دورہ ایک سے چار روزہ ہوسکتا ہے، وہ پاکستان سے افغان طالبان کو مذاکرات پر رضا مند کرنے کیلئے درخواست کریں گے۔

مزید :

صفحہ اول -