سومو ٹو کا استعمال کم سے کم کرونگا : نامز د چیف جسٹس ، ججوں کا کام انتہائی مشکل ، ضابطہ اخلاق میں رہتے ہوئے کام کیا، عدلیہ میں کرپشن انصاف کا قتل ہے : سبکدوش چیف جسٹس

سومو ٹو کا استعمال کم سے کم کرونگا : نامز د چیف جسٹس ، ججوں کا کام انتہائی مشکل ...

  

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر، مانیٹرنگ ڈیسک ،آئی این پی) نامزد چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا ہے کہ از خود نوٹس کا استعمال صرف وہاں ہو گا جہاں کوئی دوسرا حل نہ ہو،صدر مملکت کی سربراہی میں حکومت اور تمام اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مل کر چارٹر آف گورننس بننا چاہیے،بطور چیف جسٹس انصاف کی بلا تعطل فراہمی یقینی بناؤں گا، فوجی عدالتوں میں سویلین کا ٹرائل ساری دنیا میں غلط سمجھا جاتا ہے،چیف جسٹس ثاقب نثار کی انسانی حقوق سے متعلق خدمات یاد رکھی جائیں گی،فوج اور حساس اداروں کا سویلین معاملات میں کوئی دخل نہیں ہونا چاہیے، مقننہ کا کام صرف قانون سازی سے ترقیاتی فنڈز دینا نہیں۔جمعرات کو چیف جسٹس ثاقب نثار کے اعزاز میں فل کورٹ ریفرنس کا انعقاد کیا گیا، فل کورٹ ریفرنس سے خطاب کرتے ہوئے نامزد چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ چیف جسٹس ثاقب نثار کے ساتھ 20سال سے ہوں، ہم جڑواں بچوں کی طرح ہیں جو الگ ہو گئے، چیف جسٹس نے مشکل حالات میں عدالت چلائی، چیف جسٹس ثاقب نثار کی انسانی حقوق سے متعلق خدمات یاد رکھی جائیں گی، بطور چیف جسٹس انصاف کی بلا تعطل فراہمی یقینی بناؤں گا،زیر التواء مقدمات کے جلد فیصلوں کی کوشش کی جائے گی، چیف جسٹس کی طرح میں بھی ڈیم تعمیر کرنا چاہتا ہوں، میں بھی ملک کا قرضہ اتارنا چاہتا ہوں، برسوں سے زیر التواء مقدمات کا قرض اتاروں گا، 3ہزار ججز 19لاکھ زیر التواء مقدمات نہیں نمٹا سکتے، جعلی گواہوں اور مقدمات کے خلاف بھی ڈیم بنانا چاہتا ہوں، ہائیکورٹ کو حدود کے اندر رہ کر اختیارات استعمال کرنے چاہئیں، سوموٹو کا استعمال کم سے کم کروں گا، سوموٹو کا استعمال وہاں ہو گا جہاں کوئی دوسرا حل نہ ہو، مقدمات کا غیر ضروری التواء روکنے کیلئے جدید آلات کا استعمال کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ کوشش کریں کہ سول عدالتوں میں جلد مقدمات پر فیصلے ہوں، فوجی عدالتوں میں سویلین کا ٹرائل ساری دنیا میں غلط سمجھا جاتا ہے، کہا جاتا ہے کہ فوجی عدالتوں میں جلد فیصلے ہوئے ہیں، حکومت اور تمام سٹیک ہولڈرز کو بیٹھ کر ایک چارٹر آف گورننس بنانا چاہیے، صدر مملکت کی سربراہی میں چارٹر آف گورننس بنانا وقت کی ضرورت ہے،فوج اور حساس اداروں کا سویلین معاملات میں کوئی دخل نہیں ہونا چاہیے، مقننہ کا کام صرف قانون سازی سے ترقیاتی فنڈز دینا نہیں،مقننہ کا کام ٹرانسفر اور پوسٹنگ کرنا بھی نہیں ہے۔

نامزد چیف جسٹس

اسلام آباد(سٹاف رپورٹر ، مانیٹرنگ ڈیسک آ ئی این پی)چیف جسٹس پاکستان کے منصب سے سبکدوش ہونے والے جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا ہے کہ انہوں نے آئین میں تعین کردہ حق زندگی، تعلیم اور صحت کے مسائل حل کرنے کی کوشش کی اور ججز کے ضابطہ اخلاق کے اندر رہتے ہوئے کام کیا۔جمعرات کو چیف جسٹس پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار کی مدت ملازمت پوری ہونے پر سپریم کورٹ میں ان کے اعزاز میں فل کورٹ ریفرنس کا انعقاد کیا گیا جس میں عدالتِ عظمی کے 17 میں سے 16 جج صاحبان نے شرکت کی۔فل کورٹ ریفرنس سے چیف جسٹس پاکستان کے منصب پر بیٹھنے والے جسٹس آصف سعید کھوسہ اور سبکدوش ہونے والے چیف جسٹس ثاقب نثار نے بھی خطاب کیا۔جسٹس میاں ثاقب نثار نے بطور چیف جسٹس پاکستان فل کورٹ ریفرنس سے اپنے آخری خطاب میں عدالتِ عظمی کے اہم فیصلوں پر روشنی ڈالی۔انہوں نے کہا کہ اس عدالت نے کئی معرکتہ الآرا فیصلے دیے، سب سے پہلے گلگت بلتستان کا فیصلہ ہے، دوسرا مسئلہ عدالت نے آبادی میں اضافے کا اٹھایا، بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو ووٹ کا حق دیا۔جسٹس میاں ثاقب نثار کا کہنا تھاکہ عدالت نے ملک میں پانی کی کمی کا نوٹس لیا اور پوری قوم نے پانی کے لیے عطیات دیے، پسے ہوئے لوگوں کے حقوق کے لیے کام کیا اور ہر شخص کو عزت سے زندگی گزارنے کا حق دیا، نجی اسپتالوں کی فیسوں پر نوٹس لیا، خواجہ سراں کو شناختی کارڈ جاری کرنے کے معاملے کا نوٹس لیا، عدالت نے طیبہ سمیت گھروں میں کام کرنے والے بچوں کا بھی نوٹس لیا۔انہوں نے مزید کہا کہ آئین میں تعین کردہ حق زندگی، تعلیم اور صحت کے مسائل حل کرنے کی کوشش کی اور ججز کے ضابطہ اخلاق کے اندر رہتے ہوئے کام کیا۔جسٹس میاں ثاقب نثار کا کہنا تھا کہ ججوں کا کام انتہائی مشکل ہے، عدلیہ میں کرپشن انصاف کا قتل ہے، میرے لیے اعزاز کی بات ہے کہ میں نے ملک کے لیے کام کیا۔سبکدوش ہونے والے چیف جسٹس نے کہا کہ لوگوں نے جو عزت دی اس کو لوٹانے کی کوشش کی۔واضح رہے کہ جسٹس میاں ثاقب نثار 31 دسمبر 2016 کو چیف جسٹس پاکستان کے منصب پر فائز ہوئے، ان کے دور میں عدالتِ عظمی نے انتہائی اہم نوعیت کے فیصلے دیے جن کے ملک کی سیاست پر بھی گہرے اثرات پڑے۔

جسٹس ثاقب نثار

مزید :

صفحہ اول -