چیف جسٹس ثاقب نثار 40ہزار مقدمات سپریم کورٹ میں زیر التواء چھوڑ گئے

چیف جسٹس ثاقب نثار 40ہزار مقدمات سپریم کورٹ میں زیر التواء چھوڑ گئے

  

لاہور(سعید چودھری )سپریم کورٹ کے آج ریٹائر ہونے والے چیف جسٹس میاں ثاقب نثار سپریم کورٹ میں 40ہزار987سے زائد مقدمات زیرالتواء چھوڑ کرگئے ہیں جبکہ ملک بھر کی عدالتوں میں19لاکھ سے زائد مقدمات فیصلہ طلب پڑے ہیں،جو عدالتی تاریخ کا ریکارڈ ہے ۔جسٹس میاں ثاقب نثار کے دور کے آخر ی ایام میں سپریم کورٹ میں دائر ہونے والے مقدمات اور نمٹائے جانے والے مقدمات کے درمیان فرق 100فیصد سے بھی زیادہ رہا۔دسمبر کے آخری 15روز میں سپریم کورٹ میں 880مقدمات دائر ہوئے جن میں سے صرف414نمٹائے جاسکے۔دائر اورنمٹائے جانے والے مقدمات میں اتنا فرق اس سے پہلے کبھی دیکھنے میں نہیں آیا۔جسٹس میاں ثاقب نثار کے دور کوایک طرف عدالتی فعالیت کے حوالے سے بعض عوامی حلقوں میں پذیرائی حاصل ہوئی تو دوسری طرف قانونی اور وکلاء کے حلقوں میں زیرالتواء مقدمات کے اضافہ کی بنا پر اسے تنقید کا نشانہ بنایاجاتارہا۔وہ خود تسلیم کرچکے ہیں کہ زیرالتواء مقدمات نمٹانے کے حوالے سے وہ خاطر خواہ کردارادانہیں کرسکے۔قانونی حلقوں کا خیال ہے کہ ملکی عدالتوں میں انصاف کی فوری فراہمی کے لئے وہ کوئی پالیسی وضع کرنے میں ناکام رہے ،آئین کے آرٹیکل 184(3)کے تحت ازخود نوٹس کیسوں کے حوالے سے بھی ان پر تنقید ہوئی ،حتیٰ کہ سپریم کورٹ کے دو ججوں مسٹر جسٹس قاضی فائزعیسیٰ اور مسٹر جسٹس سید منصور علی شاہ نے ان کے خلاف عدالتی فیصلہ جاری کیا،ان فاضل ججوں نے اپنے عدالتی فیصلے میں نہ صرف بطور چیف جسٹس ان کے بنچ توڑنے اوربنانے کے انتظامی اقدام کو کالعدم کیا بلکہ یہ بھی قراردیا کہ ان کے اس اقدام سے عدلیہ کی ساکھ کونقصان پہنچا۔جسٹس منصور علی شاہ نے ان کے اعزاز میں فل کورٹ ریفرنس میں بھی شرکت نہیں کی۔ان کے دور میں پاکستان بھر کی اعلیٰ اور ماتحت عدالتوں میں زیرالتواء مقدمات کی تعداد19لاکھ سے تجاوز کرگئی ۔ملک کی پانچوں ہائی کورٹس میں اس وقت 2لاکھ 98ہزار 142سے زائد مقدمات زیرالتواء ہیں جبکہ ملک بھر کی ماتحت عدالتوں میں15لاکھ 20ہزار485 سے زائدمقدمات فیصلے کے منتظر ہیں۔صرف پنجاب میں 11لاکھ 68ہزار782،صوبہ سندھ میں 96ہزار301، خیبر پختونخوا میں 2لاکھ4ہزار456،بلوچستان میں12ہزار977اور اسلام آباد کی ماتحت عدالتوں میں37ہزار969مقدمات زیرالتواء ہیں۔عدالت نمبر ایک میں چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کے رویہ سے وکلاء اور سائلین نالاں نظر آتے تھے ۔انہوں نے 31 دسمبر 2016 ء کو عدالت عظمی کے چیف جسٹس کاعہدہ سنبھالنے کے بعد220ازخودنوٹس لئے ،انہوں نے پاناما لیکس کیس کی سماعت کے لئے بنچ تشکیل دیا لیکن اس کا حصہ نہ بنے ۔بحیثیت چیف جسٹس انہوں نے سب سے پہلا نوٹس شاہ زیب قتل کیس کے ملزم شاہ رخ جتوئی کی رہائی پرلیا تھا،انہوں نے نئے ڈیمز کی تعمیر کے لئے فنڈ بھی قائم کیا جس میں اب تک 10ارب روپے کے قریب رقم اکٹھی ہوچکی ہے،جسٹس ثاقب نثار نے بیرون ملک پاکستانیوں کے بینک اکاؤنٹس،جائیدادوں،ججز اور سرکاری افسران کی دوہری شہریت،گنے کی قیمتوں،سرکاری گاڑیوں کا ذاتی استعمال،وکلا ء کی جعلی ڈگریوں، مارخور کی نسل کے خاتمے،بڑھتی ہوئی آبادی،پینے کے پانی کی قلت،زیر زمین پانی کے کمرشل استعمال،لاہور میں بل بورڈزہٹانے،ہسپتالوں میں سہولتوں کے فقدان اور سرکاری ہسپتالوں میں کمی اور آرمی پبلک سکول انکوائری کمیشن پربھی ازخود نوٹس لئے۔وہ نوازشریف کی تاحیات نااہلی اور انہیں مسلم لیگ (ن )کی صدارت سے ہٹانے کا کیس سننے والے بنچ کے سربراہ تھے ،انہوں نے انسانی حقوق کے حوالے سے جن دیگر معاملات پر ازخود نوٹس لے کر سماعت کی ،ان میں سانحہ ماڈل ٹاؤن کی انکوائری کے لئے نئی جے آئی ٹی تشکیل دینے ،کھوکھر برادران کے مبینہ قبضوں ،سرکاری اراضی واگزارکرانے ،طیفی بٹ، پاکستان کڈنی اینڈلیور ٹرانسپلانٹ کیس ، لاہور میں کرسچن ہسپتال میں سہولیات کی عدم فراہمی، لاہو ر وکلاء کی جانب سے پولیس اہلکار پر تشدد،کراچی میں بچی امل عمر کی پولیس فائرنگ سے ہلاکت، ایم پی اے ندیم عباس باراکی پولیس پر فائرنگ ، شمالی علاقہ کی پہاڑی نانگا پربت پر غیر قانونی پی آئی اے کی فلائٹ ،اسلام آ باد کی کچی آبادیوں کی حالت زار، نابینا افراد کے لئے ملازمتوں میں کوٹہ اور حقوق ، جعلی اکاؤنٹس ، سروسز ہسپتال لفٹ کی خرابی کا معاملہ، کراچی میں عمران شاہ پی ٹی آئی ایم پی اے کا شہری پر تشدد ،خواجہ سراؤں کے شناختی کا اجرا ء ، سرکاری رہائش گاہوں کا غیر قانونی استعمال ،جیلوں میں قیدیوں کو سہولیات کی عدم دستیابی اور علاج کامعاملہ ، کراچی ودیگر شہری علاقوں میں کوئلہ ڈمپ آلودگی ، نیو اسلام آباد ائر پورٹ پر بارش کا پانی کھڑا ہونے سے متعلق کیس،ملک بھر میں غیر قانونی بل بورڈ ،جلا پورجٹاں ایڈز بحالی کے نام پر ہسپتالوں کی لوٹ مار،پیمز ہسپتال میں 321غیر قانونی بھرتیاں، 20پروجیکٹس کیس، ایئر بلو حادثہ کے متاثرین کومعاوضہ کی ادائیگی، میڈیا پرسنز سیلری کیس، تیل گیس بجلی پر اضافی ٹیکس ،کوئٹہ چرچ دھماکہ ،واجبات ادائیگی توہین عدالت کیس، ضلع خاران بلوچستان میں 6 مزدور وں کی ہلاکت کے معاملے پرازخود نوٹس، موبائل کارڈز پر زائد ٹیکس کی کٹوتی ،آرمی پبلک سکول معاملے کی جوڈیشنل انکوائری،شرجیل میمن اور شاہ رخ جتوئی کو جیل میں وی آئی پی پروٹوکول او ر ہسپتال منتقلی ،کراچی نقیب اللہ قتل ، کراچی پولیس کے جعلی مقابلہ میں شہری کا قتل ،8 سالہ کوثر قتل کیس،ڈبہ بند دودھ ، تعلیمی اداروں میں منشیات سپلائی ، زنیب زیادتی قتل کیس، پی آئی اے پائلٹس جعلی ڈگریاں، پولڑی فیڈ ، غیر قانونی شادی ہالز ، مہنگی ادویات ، غیر معیاری تفتیش اور پراسیکیوشن ، قبائلی علاقوں کے غیر فعال ٹربیونلز اور کورٹس ،صاف پانی فراہمی ،کٹاس راج مندر میں پانی کی کمی، پشین روڈ توسیع منصوبہ میں درختوں کی کٹائی ، ہاؤسنگ سوسائٹیوں کا فرانز ک آڈٹ ، پالیمنٹرین ، ججز ، بیورو کریٹس دوہری شہریت کیس،غیر شفاف میڈیا اشتہارات کیس،شوگر ملز مالکان ،عدلیہ مخالف تقاریر کیس، لگژری گاڑیوں کا غیر قانونی استعمال ، غیر متعلقہ افراد کوپولیس سیکیورٹی کی فراہمی ، ای سی پی ملازمتوں پر پابندی ، یوسف سلیم بلائنڈ سول جج ، سید توقیر شاہ بطور ایمبسڈر ڈبلیو ٹی اومیں لگانے کا کیس، ہزارہ برادری کوئٹہ کلنگ ، شیخ زید ہسپتال لاہو ر میں لیور ٹرانسپلانٹ مشین کی تنصیب ،بحریہ ٹاؤن ،ایس پی گوندل کی فوری ٹرانسفر کامعاملہ ، آئی جی اسلام آباد کاتبادلہ اور اعظم سواتی ، نجی سکولوں کی جانب سے زائد فیسوں کی وصولی وغیر ہ جیسے مقدمات شامل ہیں ۔

مقدمات/ زیرالتواء

مزید :

صفحہ اول -