وقت کی آزمائش میں صرف مضبوط فیصلے ہی باقی رہتے ہیں،خورشید قصوری

وقت کی آزمائش میں صرف مضبوط فیصلے ہی باقی رہتے ہیں،خورشید قصوری

  

لاہور ( خصوصی رپورٹ) پاکستان کے سابق وزیرخارجہ خورشیدمحمود قصوری نے جسٹس آصف سعید خان کھوسہ کو ملک کے نئے چیف جسٹس کا عہدہ سنبھالنے پر مبارکباد دیتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ وہ عدالتی اور صوابدیدی اختیارات کے استعمال میں احتیاط کا مظاہرہ کرتے ہوئے عدلیہ میں درستگی کا عمل یقینی بنا کر اچھی مثال قائم کریں گے۔ نئے چیف جسٹس کے نام لکھے گئے اپنے ایک کھلے خط میں خورشیدمحمود قصوری نے اس توقع کا اظہار بھی کیا کہ جسٹس آصف سعید خان کھوسہ عدلیہ کے وقار کی بحالی اور تیزترین انصاف کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے بامقصد عدالتی اصلاحات کریں گے۔ انہوں نے اپنے خط میں کہاہے کہ پاکستانی عدلیہ میں ایک شاندار میراث آپ کی منتظر ہے اور یہ یاد رکھا جانا چاہیے کہ وقت کی آزمائش میں صرف مضبوط فیصلے ہی باقی رہتے ہیں۔چھ صفحات پر مشتمل اپنے تفصیلی خط میں سابق وزیرخارجہ نے تاریخی حوالے دے کر جسٹس ثاقب نثار اور جسٹس افتخار محمد چودھری کے دور میں عدلیہ کے اختیارات کے بے لگام استعمال، ججز کے میڈیا میں رہنے کی خواہش اور توہین عدالت کے قانون کے بے دریغ استعمال کے حوالے سے محتاط طرزعمل اپنانے کا مشورہ دیا ہے۔خط میں انہوں نے کہا کہ جسٹس افتخار محمدچودھری مسائل کے حل کیلئے بامقصد عدالتی اصلاحات کرنے میں ناکام رہے جبکہ جسٹس ثاقب نثار کو ملنے والی میڈیا کوریج پاکستانی وزیراعظم کو ملنے والی کوریج سے بھی زیادہ تھی۔عدالتی فیصلوں کے معاشی معاملات پر اثرات کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے مثال دی کہ عدالتی فیصلے کے نتیجے میں ٹیلی فون کارڈز پر ٹیکسوں کی چھوٹ کے ’’پاپولر‘‘ فیصلے سے حکومت کے ریونیو میں کمی ہوئی اور یہ اقدام بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے ساتھ قرضوں کے حصول کیلیے ہونے والے مذاکرات میں حکومت کی پوزیشن کو کمزور کرنے کا باعث بھی بنا ۔ اس طرح ریکوڈک اوررینٹل پاور پلانٹس کے حوالے سے آنے والے عدالتی فیصلوں کو بھی ثالثی کے بین الاقوامی اداروں نے نظرانداز کردیا اور پاکستان کو بھاری ہرجانے کا سامنا کرنا پڑا ۔ انہوں نے سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کی طرف سے بزرگ صحافی حسین نقی کی تضحیک کرنے ،غیرقانونی عمل کی نشاندہی کرنے والے سینئر قانون دان کو جسٹس ثاقب نثار کی طرف سے یہ کہنا کہ ’’جو ہم کہتے ہیں وہی قانون ہے‘‘ اور لوگوں کو فیصلے سے پہلے ہی چور قرار دے دینے اور سینئر وکلاء کو ان کے مؤکل کی وکالت سے باز رہنے کے مشورے دینا مناسب طرزعمل نہیں تھا۔ سابق وزیرخارجہ نے اپنے خط میں صحت کے شعبے میں سرمایہ کاری کرنے والے اس بزنس مین کا حوالہ بھی دیا جو جسٹس ثاقب نثار کے ساتھ ایک نامناسب ٹاکرے کے بعد پاکستان ہی چھوڑ کر چلا گیا۔ خورشید محمود قصوری کا کہنا تھا کہ انتظامیہ کی زیادتیوں کو روکنے کے لیے آئینی حدود کے اندر رہتے ہوئے عدالتی نظرثانی کا عمل یقینی طور پر انصاف کے تقاضوں کے عین مطابق ہے لیکن حکومت کے دیگر شعبوں /اداروں کی قیمت پر عدالتی طاقت میں اضافے کے لیے اس کا مسلسل اور بے لگام استعمال نامناسب ہے۔ سابق وزیرخارجہ کا کہنا تھا سپریم کورٹ کی طرف سے کسی مسئلے پر صوابدیدی اختیارات کو استعمال کرکے ازخود نوٹس لینے سے اگرچہ وقتی طور پر تو اس مسئلے کی اہمیت اجاگر ہوجاتی ہے لیکن یہ عمل مسائل کو مستقل طور پر حل کرنے میں مددگار ثابت نہیں ہوتا بلکہ بعض اوقات تو اس سے صورتحال اور بھی خراب ہوجاتی ہے کیونکہ جج صاحبان گورننس کے مختلف شعبوں کے ماہر نہیں ہوتے اور ان کی مہارت قانون کے شعبے میں ہوتی ہے ۔ اس بات کو سمجھنے کے لیے انسان کا سقراط یا بقراط ہونا ضروری نہیں کہ جو فیصلے جلدبازی میں اور بغیر مناسب سوچ بچار کے اضطراری کیفیت میں کیے جائیں وہ نہ تو زیادہ یاد رکھے جائیں گے اور نہ ہی زیادہ فعال ثابت ہوں گے۔ خورشید قصوری نے یاد دلایا سابق چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کے دور میں سینئر سرکاری افسران کی طرف سے مسلسل ایسی شکایات ملتی رہی تھیں کہ ان افسران کے کاموں میں چیف جسٹس کی طرف سے مداخلت کی جارہی تھی یہ ایک ایسی صورتحال تھی جس کی نظیر جسٹس (ر) افتخار چودھری سے پہلے کسی اور چیف جسٹس کے دورمیں کم ہی دیکھنے میں آتی تھی۔اس طرح ’’میڈیا ٹرائل‘‘ ان کے دورمیں مستقل طور پر ایک شکایت کی صورت میں سامنے آتا رہا۔ اسی طرح جسٹس ثاقب نثار بھی ہفتے کے ساتوں دن چوبیس گھنٹے پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا میں خبروں کی سرخیوں میں رہتے۔ شاید یہ بات کہنا غلط نہ ہوگا کہ جسٹس ثاقب نثار کو ملنے والی کوریج پاکستان کے وزیراعظم عمران خان کو ملنے والی کوریج سے بھی زیادہ تھی۔ ایسے لگتا تھا جیسے انتظامیہ اور پارلیمینٹ کی کوئی وقعت ہی نہیں ہے۔اب تو نوبت یہاں پہنچ گئی ہے کہ حکومت مہمند ڈیم کے افتتاح کی تاریخ متعین کرنے کا اختیار بھی نہیں رکھتی یہ صورتحال کسی بھی آئینی جمہوریت کی رو کے منافی ہے۔ ’’جسٹس افتخار محمد چودھری عام سائلین کے مسائل کے حل کے لیے بامقصد عدالتی اصلاحات کرنے میں ناکام رہے۔ ان کے اپنے بیٹے کے خلاف بھی الزامات سامنے آئے اس ساری صورت حال کی وجہ سے ان کی اپنی ساکھ تو متاثر ہوئی ہی تھی لیکن بدقسمتی سے اس سے عدلیہ کے وقار کو بھی ٹھیس پہنچی۔دوسری طرف اس صورتحال کا موازنہ چیف جسٹس ثاقب نثار کی سیاسی ،معاشی اور آئینی معاملات میں حد سے بڑھتی ہوئی فعالیت سے کیا جائے تو صورتحال کو سمجھنے کے لیے ان کا اپنا اعترافی بیان ہی کافی ہے۔ جس میں انہوں نے خود تسلیم کیا ہے کہ وہ مقدمات کے بروقت فیصلوں کو یقینی بنانے کے حوالے سے ’’اپنے ہی گھر کو ٹھیک کرنے میں ناکام رہے ہیں۔‘‘ خورشیدمحمود قصوری کا کہنا تھا کہ ’’کاش وہ اس مسئلے کے حل کے لیے بھی اتنے ہی متحرک ہوتے جتنا کہ وہ سیاسی، معاشی اور دیگر امور کی طرف متحرک تھے۔‘‘

خورشید قصوری خط

مزید :

صفحہ آخر -