پاکستانی صنعتکار ڈنمارک کی واٹر ٹر یٹمنٹ ٹیکنا لوجی سے استفادہ کر یں‘ بینٹی شلر

پاکستانی صنعتکار ڈنمارک کی واٹر ٹر یٹمنٹ ٹیکنا لوجی سے استفادہ کر یں‘ بینٹی ...

  

فیصل آباد ( بیورورپورٹ) جدید تقاضوں سے ہم آہنگ ہونے کیلئے ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ممالک کو باہمی رابطوں کے ذریعہ ایک دوسرے ملک کی ٹیکنالوجی سے استعفادہ کرنا چاہیے تاکہ نئے دور کے چیلنجز سے بخوبی نمٹا جاسکے، ڈنمارک سفارتخانہ اس ضمن میں اپنا کردار ادا کرنے کو تیار ہے اور ہماری کوشش ہوگی کہ پاکستان کے صنعتکار ڈنمارک کی واٹر ٹر یٹمنٹ ٹیکنا لوجی سے استفادہ کر سکیں۔ ان خیالات کا اظہار ڈنمارک سفارتخانہ کی ڈپٹی ہیڈ آف مشن مسز بینٹی شلر نے اپٹپما ہاؤس میں آل پاکستان ٹیکسٹائل پروسیسنگ ملز ایسوسی ایشن کے ایگزیکٹو ممبران خطاب کے دوران کیا۔ انہوں نے کہا کہ ڈنمارک واسا کے اشتراک سے فیصل آباد میں انڈسٹریل بالخصوص ٹیکسٹائل انڈسٹریل ویسٹ واٹر ٹر یٹمنٹ پلانٹ لگارہا ہے جس کے ذریعہ روزانہ 45 ملین گیلن ضائع شدہ پانی کاشت کاری کیلئے قابل استعمال بنایا جاسکے گا ۔ اور اس ضمن میں ایم او یو سائن ہو چکا ہے اور بہت جلد اس پر کام شروع ہوجائے گا۔ انہوں نے اپٹپما ممبران کو ڈنمارک کی کمپنیوں سے رابطہ میں معاونت فراہم کرنے کی یقین دہانی بھی کروائی۔ قبل ازیں آل پاکستان ٹیکسٹائل پروسیسنگ ملز ایسوسی ایشن کے چئیرمین انجئنیر رضوان اشرف نے ڈنمارک سفارتخانہ کی ڈپٹی ہیڈ آف مشن سے اپٹپما کا تعاوف کرواتے ہوئے کہا کہ ملک بھر میں تقریباً 400 ادارے ٹیکسٹائل پروسیسنگ کی صنعت سے وابستہ ہیں اور یہ حقیقت ہے کہ ہماری انڈسٹری میں پانی کا سب سے زیادہ استعمال ہوتا ہے جس کیلئے ہم ایکو یفر چارجز ادا کرتے ہیں

اور پانی کو کیمیکل کے مضراثرات سے پاک کرنے کیلئے ہر ادارے نے پرائمری واٹر ٹر یٹمنٹ کے لئے سیڈیمیٹیشن ٹینک بنارکھے ہیں مگر اس ضائع شدہ پانی کو دوبارہ قابل استعمال بنانے کیلئے پنجاب حکومت جدید قسم کا ایک ایسا ویسٹ واٹر ٹر یٹمنٹ پلانٹ نصب کر رہی ہے جو فیصل آباد کے ٹیکسٹائل اداروں کا فالتو پانی دوبارہ قابل استعمال بنا سکے۔ ویسے تو ہم اپنے اداروں میں سکن فرینڈلی ڈائیزاینڈ کیمیکلز استعمال کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ شہر میں موجود ڈائینگ اور پروسیسنگ ادارے اس وقت آبادیوں میں گھر چکے ہیں ، کافی عرصہ قبل انڈسٹری کا رُخ کھر ڑ یانوالہ انڈسٹریل اسٹیٹ کی طرف ہوا جبکہ مستقبل میں ایک بہت بڑا صنعتی زون فیڈمک کے تعاون سے ساہیانوالہ انڈسٹریل اسٹیٹ بننے جارہا ہے جسمیں اندرون شہر سے تمام اقسام کی انڈسٹری وہاں منتقل ہو جائے گی جس کیلئے اراضی کی الاٹمنٹ کا کام مکمل ہے جبکہ بجلی، گیس ،سیوریج اور واٹر ٹر یٹمنٹ پلانٹ و دیگر ضروریات کا کام باقی ہے۔ بیرون شہر منتقلی معاہدہ کے مطابق یو ٹیلٹی سروسز کی فراہمی اور ٹیکسٹائل پروسیسنگ انڈسٹری کی اہم ضروریات پوری کرنے کے بعد شفٹنگ کا عمل شروع ہو سکے گا۔ انہوں نے کہا سابقہ ادوار میں صنعتی سیکٹر کو انرجی جیسے مسائل کا سامنا رہا ہے جس پر قابو پانے کیلئے حکومت کے ساتھ تعاون کرتے رہے ہیں اور الحمد للہ کا فی حد تک ہم کامیاب ہو چکے ہیں۔ مجوزہ انڈسٹریل اسٹیٹ میں اندرون شہر سے مشینری کی منتقلی نہ صرف تکلیف دہ بلکہ سراسر نقصان کا باعث ہو گا اس لئے ہماری کوشش رہے گی کہ وہاں لگنے والے یونٹس میں جدید دور کی مشینری نصب کی جائے تاکہ نئے دور کے ساتھ مطابقت پیدا کی جاسکے۔ فیڈمک بورڈ کی تشکیل نو تک کیونکہ پُرانا بورڈ تحلیل ہو چکا ہے اور نیا بورڈ ہی اب فیڈمک کے معاملات کو آگے بڑھائے گا۔ اس موقعہ پر ڈائریکٹر انوائرمنٹ شوکت حیات نے ماحولیاتی آلودگی کے خاتمہ کیلئے اپٹپما اور صنعتی اداروں کے تعاون کا تذکرہ کرتے ہوئے بتایا کہ انڈسٹری کی چمنیوں سے نکلنے والے دھوئیں کو ہم ختم کر چکے ہیں اور اب ماحولیاتی آلودگی اور فوگ جیسے مسائل ٹیکسٹائل پروسیسنگ انڈسٹری کے حوالے سے نہیں رہے ۔

مزید :

کامرس -