ڈبلیو ایس ایس سی کوہاٹ کی سالانہ کارکردگی رپورٹ جاری

ڈبلیو ایس ایس سی کوہاٹ کی سالانہ کارکردگی رپورٹ جاری

  

کوہاٹ (بیورو رپورٹ) واٹر اینڈ سینیٹیشن سروسزکمپنی کوہاٹ نے 2018کی سالانہ کارکردگی رپورٹ جاری کردی ہے،ڈبلیو ایس ایس سی کوہاٹ کے کمپلینٹ سیل میں ابھی تک 4600 کے قریب شکایات موصول ہوچکی ہیں جن میں98 فیصد شکایات حل کی جاچکی ہی۔، 2017۔18کے دوران کمپنی نے 54 ہزار ٹن گندماحول دوست طریقے سے تلف کیا جس میں عیدالاضحی کے موقع پر تین دن کے دوران 2200 ٹن گند کو ٹھکانے لگایا گیا۔ سٹاف اور مشینری کی کمی کی وجہ سے ادارے کواکثرباہر سے مشینری کرائے پر لینی پڑتی ہے۔پانی کی ترسیل کی مد میں ابھی تک ڈبلیو ایس ایس سی کوہاٹ نے 12 کلومیٹر زنگ آلود اور ٹوٹی پائپ لائنز تر جیحاتی بنیادوں پر تبدیل کی ہے اور رواں سال عوامی شکایات اور درخواست کو مد نظر رکھتے ہوئے کے ڈی اے اور ٹی ایم ای کے قریبی علاقوں میں 12 کلومیٹر پائپ لائن تبدیل کی جائیں گی۔2018 میں پانی کے غیر قانونی کنکشنز کے خلاف ادارے نے کاروائی عمل میں لاتے ہوئے 1100سے ذیاد ہ کنکشنز کاٹے اور بہت سے کنکشنز کو رجسڑر بھی کیا۔ترجمان واٹر اینڈ سینی ٹیشن سروسزکمپنی کوہاٹ کے مطابق ڈبلیو ایس ایس سی کوہاٹ کم وسا ئل کے باو جو د کوہاٹ شہر کو صاف ستھرا رکھنے کے لئے اپنی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں جس میں روزانہ کی بنیاد پر صفائی ستھرائی اور پانی کی ترسیل کا کام شا مل ہے صوبائی حکومت نے ٹی ایم اے کوہاٹ سے اختیارات لے کر ڈبلیو ایس ایس سی کوہاٹ کو سونپ دیئے کہ شہر کے مخصوص شہری علاقوں میں صفائی اور پانی کی فراہمی کا کام اب یہ ادارہ سر انجا م دے گا اور ٹی ایم اے اور کے ڈی اے ادارے کو ہر سال ترقیاتی فنڈ مہیا کرے گا جس میں2017-18 میں کے ڈی اے نے ابھی تک ادارے کو کسی قسم کاڈیویلپمنٹل فنڈمہیانہیں کیا، ڈبلیو ایس ایس سی کوہاٹ کے کمپلینٹ سیل میں ابھی تک4600 کے قریب شکایات موصول ہوچکی ہیں جن میں98 فیصد شکایات حل کی جاچکی ہیں اور جوشکایات ابھی تک حل نہیں ہوئی اس کی وجہ ڈیویلپمنٹل فنڈ کی کمی ہے۔اس کے علاوہ سو شل میڈیا پر موصول ہونے والی شکایات کو روزانہ کی بنیاد پر حل کیا جا تا ہے۔ اسی طرح جو لوگ ڈبلیو ایس ایس سی کے دفتر آکر خود شکایات درج کراتے ہیں ان کی شکایات کا بھی ازالہ کیا جاتا ہے۔ڈبلیو ایس ایس سی کوہاٹ نے2018میں بیرونی ذرائع سے حاصل کئے جانے والے فنڈ سے تین نئے ٹیوب ویلز کا افتتاح کیا واٹر سپلائی، سیوریج اور پبلک ہیلتھ کی مد میں ادارے نے بہت سے پی سی ون تیا ر رکھے ہوئے ہیں جو کہ صرف فنڈ کی کمی کے باعث ابھی تک التوا ء کاشکار ہیں۔ترجمان کے مطابق ڈبلیو ایس ایس سی کوہاٹ کو فنڈز کی کمی کے علاوہ سٹاف کی کمی کا بھی سامناہے ادارے کے پاس 271کے قریب صفائی کا عملہ ہے جن میں سپروائزرز اور ڈرائیورز بھی شامل ہیں۔ کے ڈی اے کا علاقہ دو فیززاور 28 سیکٹرز پر مشتمل ہے اور اتنے بڑے علاقے کے لئے ادارے کے پاس صرف 36 لوگوں کا عملہ ہے جن میں نالیوں کی صفائی کے8 ملازمین بھی شامل ہیں۔ اسی طرح کے ڈی اے کے اٹھائیس سیکٹرز کے لئے28 سوئپرز ہیں جوکہ بہت ہی کم ہیں اسی وجہ سے سٹاف کو شفٹس میں کا م کرنا پڑتا ہے۔صوبائی حکومت کی طرف سے ابھی تک سینیٹیشن سٹاف کی بھرتی پر عائد پابندی برقرار ہے جس کی وجہ سے ادارے کو مشکلات کا سامنا ہے۔ صفائی اورپانی کی ترسیل کے ساتھ ساتھ ڈبلیو ایس ایس سی کوہاٹ عوام میں صفائی کے حوالے سے شعور اجاگر کرنے کے لئے بھی اپنی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔ وقتاًفوقتاً ادارے کی جانب سے صفائی مہم اور واکس کا اہتمام کیا جاتا ہے جن میں بڑی تعداد میں سکول،کالج کے طلباء اور مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد شرکت کرتے ہیں۔ ڈبلیو ایس ایس سی کوہاٹ پچھلے دو سال سے اپنے کام اور سروسز اور خاص طور پر عیدالاضحی کے موقع پر صفائی کے حوالے سے عوام کے دلوں میں جگہ بنا چکاہے لیکن اگر فنڈز کی کمی کی یہی صورتحال رہی تو ادارہ بہت سی مشکلات میں گر سکتاہے۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -