ضلع مہمند میں طویل لوڈ شیڈنگ کے خلاف دوسرے روز بھی احتجاجی مظاہرے

ضلع مہمند میں طویل لوڈ شیڈنگ کے خلاف دوسرے روز بھی احتجاجی مظاہرے

  

مہمند (نمائندہ پاکستان) ضلع مہمند میں طویل لوڈشیڈنگ کے خلاف دوسرے روزبھی احتجاجی مظاہرے جاری۔ کمالی حلیمزئی کے عوام نے مظاہرے کے دوران غازی بیگ کے مقام پر مین پشاور ٹو باجوڑ شاہراہ پر دھرنا دیا۔ مظاہرین نے ایک گھنٹے تک میں شاہراہ کو ہر قسم ٹریفک کیلئے بند رکھا۔ واپڈا اہلکار تمام لائنوں سے ڈبل سورس کو ختم کریں۔ مظاہرین کا مطالبہ۔ تفصیلات کے مطابق قبائلی ضلع مہمند میں دوسرے روز بھی طویل اور ظالمانہ لوڈ شیڈنگ کے خلاف احتجاجی مظاہرے جاری رہے۔ جمعرات کے روز تحصیل حلیمزئی کمالی کے رہائیشوں نے بجلی کی ناروا لوڈ شیڈنگ کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا۔ مظاہرین نے بجلی کی ظالمانہ لوڈ شیڈنگ کے خاتمے، بجلی لائنوں سے ڈبل سورس کا خاتمہ، ماربل اور سٹیل کارخانوں کیلئے الگ کمرشل لائن کا قیام، تمام فیڈروں پر یکساں لوڈ شیڈنگ اور علاقے میں یوریا سمیت تمام کھاد سے پابندی کے خاتمے کے مطالبات کئے۔ مظاہرین نے غازی بیگ بازار کے مقام پر پشاور ٹو باجوڑ شاہراہ پر دھرنا دیا۔ مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے سلمان خان، سابقہ پرنسپل سعید حسین اور جہانگیر خان نے کہا کہ کمالی حلیمزئی کے عوام کے ساتھ سوتیلی ماں جیسا سلوک بند کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ کمالی حلیمزئی میں بجلی کی ناروا لوڈ شیڈنگ کا سلسلہ کئی ہفتوں سے جاری ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ تمام لائنوں سے ڈبل سورس مکمل طور پر کاٹ دی جائے۔ تمام فیڈروں پر یکساں لوڈ شیڈنگ کرائی جائے۔ ماربل اور سٹیل فیکٹریوں کیلئے کمرشل لائن شروع کیا جائے۔ تاکہ لوڈ شیڈنگ میں کمی آجائے۔انہوں نے واپڈا اہلکاروں پر الزام لگایا کہ وہ رشوت کے ذریعے لوڈ منیجمنٹ کے نام پر فیڈروں پر یکساں لوڈ شیڈنگ نہیں کرا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ طویل لوڈشیڈنگ کی وجہ سے علاقے میں پینے کے پانی ناپید ہو چکی ہے۔ تحصیلدار حلیمزئی رحمان گل اور خاصہ دار میجر جان محمد کی یقین دہانی پر مظاہرین پر امن طور پر منتشر ہو گئے۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -