ظلم وزیادتی کا نوٹس لیکر انصاف دلایا جائے ،فضل اکبر

ظلم وزیادتی کا نوٹس لیکر انصاف دلایا جائے ،فضل اکبر

  

شیرگڑھ (نامہ نگار) جلالہ کے غریب محنت کش فضل اکبر نے اپنی بیوی کے ہمراہ ایس ایچ او شیرگڑھ عجب خان کی خود دستی اور ظلم کے خلاف شیرگڑھ پریس کلب پہنچ گئے انہوں نے اپنی بیوی کی موجودگی میں میڈیا کو بتایا کہ میں بھٹہ میں مزدورہوں گزشتہ روز میں اور میری بیوی مردان اپنے رشتہ داروں کے ہاں گئے تھے کہ اس دوران جلالہ میں ہمارے ہمسائے کے بچوں فواد عرف فہد کا میرے بیٹے اکبر علی کے ساتھ لڑائی ہوئی فواد عرف فہد نے پولیس میں رپورٹ درج کرائی جب ہم مردان سے گھر پہنچ گئے تو ہم صلح کے لئے ہمسایوں کے ہاں گئے اور صلح کی بات چیت چل رہی تھی کہ اس اثناء میں ایس ایچ او شیرگڑھ عجب خان نے پولیس پارٹی کے ہمراہ بغیر لیڈیز پولیس کے میرے گھر میں داخل ہوگئے اور میرے بیٹے کو مارنا پیٹناشروع کیا جب دوڑ کر میں اور میری بیوی ان کے قریب پہنچ گئے اور بیٹے کو بچانے کے لئے ان کی منت سماجت شروع کی تو پولیس اور ایس ایچ او نے مجھے اور میری بیوی کو بھی مارا پیٹا ننگی گالیاں دی اور میری بیوی کا چہرہ پستول کے بٹ سے مارا جس پر اس ضرب کی نشان موجود ہے انہوں نے کہاکہ پولیس نے میرے بیٹے کو مارا پیٹا اور گھسیٹ کر پولیس تھانہ لے گیا اور دو گھنٹے تک حوالات میں آویزاں رکھاایس ایچ او عجب خان نے پولیس پارٹی کے ہمراہ چادر اور چار دیواری کا تقدس کو بری طرح پامال کیا میری باپردہ بیوی کے سر کی چادر کو ان کے سر سے اتار دیا جو انتہائی درجے بد تہذیبی اور بد اخلاقی کا فعل ہے انہوں نے وزیراعظم پاکستان عمران خان، وزیراعلیٰ کے پی کے محمود خان، وفاقی وزیر مملکت علی محمد خان ،آئی جی پی کے پی کے اور ڈی آئی جی مردان سے ایس ایچ او عجب خان کے خلاف سخت ایکشن لینے اور واقعہ کی غیر جانبدارانہ انکوائری کا پرزور مطالبہ کیا اور کہاکہ میں غریب مزدور ہوں میری کوئی رسائی نہیں اگر میرے ،میرے بیوی اور بچے کے ساتھ ایس ایچ او عجب خان کے ظلم اور زبردستی کا حکومت وقت اور پولیس کے اعلیٰ افسران نے نوٹس نہ لیا تو قیامت کے روز ان کے گریبان اور میرے ہاتھ ہوں گے کیونکہ اللہ کے سوا اس دنیا میں میرا اور میرے خاندان کا کوئی پوچھنے والا نہیں

مزید :

پشاورصفحہ آخر -