شہر قائد کچرے کا ڈھیر ،تعلیمی ادارے تباہ ہوگئے،انیس قائم خانی

شہر قائد کچرے کا ڈھیر ،تعلیمی ادارے تباہ ہوگئے،انیس قائم خانی

  

کراچی(اسٹاف رپورٹر )پاک سر زمین پارٹی کے صدر انیس قائم خانی نے پی ایس 94 کے مرکزی الیکشن آفس میں عوامی وفود سے ملاقات کرتے ہوئے کہا کہ افسوس کی بات ہے کہ کراچی کے 70 لاکھ لوگ کم گنے گئے، شہر کچرے کا ڈھیر بن گیا، تعلیمی ادارے تباہ ہوگئے، اسپتالوں میں دوائیں غائب ہیں، سڑکوں کا برا حال ہے، لوگوں کو پینے کا پانی میسر نہیں لیکن جب شہر کے دعوے دار منتخب عوامی نمائندے وزیراعظم عمران خان سے ملاقات کرتے ہیں تو عوامی مسائل کے بجائے اپنے دفاتر کھلوانے کو اپنی ترجیحات میں فوقیت دیتے ہیں۔ کیا ایم کیو ایم کے دفاتر کھلنے سے شہریوں کو درپیش مسائل حل ہو جائیں گے، 70 لاکھ لاپتہ لوگ مل جائیں گے؟ پاکستان تحریک انصاف اور ایم کیو ایم نے اپنی انتخابی مہم میں جو وعدے عوام سے کیئے تھے جن کے نتیجے میں عوام نے انہیں ووٹ دے کر اسمبلیوں میں پہنچایا ہے وہ وعدے کون پورے کرے گا؟ ایم کیو ایم نے پوری انتخابی مہم مردم شماری میں کم گنے گئے لوگوں پر چلائی لیکن کل کی ترجیحات میں مردم شماری میں 70 لاکھ لاپتہ لوگوں پر وزیراعظم سے انکا موقف کیوں نہیں مانگا گیا؟۔ انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف نے بھی اہلیان کراچی سے تبدیلی کا وعدہ کیا تھا لیکن اب ہر وعدہ یاد دلانے پر اٹھارویں ترمیم کا جواب دے کر خود کو بری الزمہ قرار دے رہے ہیں۔ ایسی صورتحال میں کراچی کے لوگوں میں احساس محرومی تیزی سے بڑھ رہی ہے یہاں لاکھوں لوگ بے روزگار کر دیئے گئے، انفراسٹرکچر اور کاروبار تباہ کر دیا گیا لیکن اعوانوں میں کراچی کی نمائندگی کرنے والا کوئی نہیں ہے جو یہاں کے مسائل پر بات کرے اور انکے ازالے کی عملی کوشش کرتا دکھائی دے۔ انہوں نے کہا کہ اپنی زندگیاں ایم کیو ایم کے لیے وقف کر دیں تھیں ہم سے زیادہ ایم کیو ایم کے لیے مر مٹنے والا کوئی نہیں تھا لیکن وہاں سے میری قوم کے بچوں اور شہر کے لوگوں کے لیے خیر نہیں پھیل رہی تھی بلکہ شر پھیلنے لگا تھا۔ اس لیے پہلے خود برائی سے علیحدہ ہوئے پھر اپنی زمہ داری سمجھتے ہوئے علیحدہ شناخت سے پارٹی بنائی تاکہ اپنی آخرت سنوار سکیں اور اپنے صلاحیت رکھنے والے نوجوانوں کو اختیار دے کر قوم کے مسائل حل کریں۔ سید مصطفی کمال نے جو راستہ دکھایا ہے اس کے علاوہ پاکستان اور کراچی کی ترقی ممکن نہیں کیونکہ وہ اس شہر کو چلا چکے ہیں اور یوسی سے لیکر ملک کے اعلی ترین اعوان سینیٹ کا حصہ بھی رہ چکے ہیں، ہمیں انکے تجربے سے فائدہ اٹھا کر اپنی آنے والی نسلوں کے مستقبل کو سنوارنے کے لیے پاک سر زمین پارٹی کے پلیٹ فارم پر متحد ہونا ہوگا۔

مزید :

راولپنڈی صفحہ آخر -