اٹھارویں ترمیم کے خلاف سازش سقوط ڈھاکہ کی غلطی دہرانے کے مترادف ہے : میاں افتخار

اٹھارویں ترمیم کے خلاف سازش سقوط ڈھاکہ کی غلطی دہرانے کے مترادف ہے : میاں ...

  

پبی ( نمائندہ پاکستان ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ اٹھارویں ترمیم اے این پی اور پیپلزپارٹی کے دور حکومت کا کارنامہ ہے اور آئین و قانون کے ذریعے اس ترمیم کی صورت میں ہم ملک میں خاموش انقلاب لے کر آئے ہیں جو حکومت کیلئے گلے کی ہڈی بن گئی ہے۔باچا خان مرکز میں مختلف اضلاع سے آئے پارٹی وفود سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ملک کی بقا اور جمہوریت کی بالادستی کیلئے اٹھارویں ترمیم ایک ہتھیار ہے اور اگر اس وقت یہ انقلاب نہ آتا تو ملک دو لخت بھی ہو سکتا تھا، انہوں نے کہا کہ اس ترمیم کے ذریعے چھوٹے صوبوں کو ان کے حقوق دیئے گئے جس سے ان میں پائی جانے والی احساس محرومی ختم ہوئی جو موجودہ حکومت سے ہضم نہیں ہو رہی، در حقیقت اسٹیبلشمنٹ نے اٹھارویں ترمیم ختم کرنے کیلئے عمران خان کو اقتدار تک پہنچایا ، انہوں نے اس امر پر افسوس کا اظہار کیا کہ کبھی عدلیہ اور کبھی حکومتی وزراء کی جانب سے اٹھارویں ترمیم کے خلاف سازشی بیانات سامنے آ رہے ہیں تاہم دیکھنا یہ ہے کہ ان کے پیچھے وہ کون سے محرکات ہیں جنہوں نے اٹھارویں ترمیم کے خلاف بیان بازی کی ڈیوٹی سپرد کی ہوئی ہے، میاں افتخار حسین نے کہا کہ صحت اور تعلیم سمیت مختلف محکمے صوبائی خود مختاری کے تحت صوبوں کو حوالہ کئے گئے ہیں لیکن بدقسمتی سے وفاقی حکومت صوبائی محکموں میں مداخلت کر کے آئینی خلاف ورزیوں کی مرتکب ہو رہی ہے، انہوں نے کہا کہ ہم نے چھوٹے صوبوں کو مضبوط کر کے ملک کو مضبوط کیا لہٰذا وفاق چھوٹی قومیتوں کے حقوق پر ڈاکہ ڈال کر خود کو طاقتور بنانے کی غلطی سے گریز کرے، انہوں نے کہا کہ اٹھارویں ترمیم کی روح کے منافی بیانات سے پورے ملک کے عوام کو صدمہ پہنچ رہاہے اور اس قسم کے بیانات سے فیڈریشن کو کمزور کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے،انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت صوبوں کو کمزور کر کے طاقتور بننے کی خوش فہمی میں نہ رہے ، این ایف سی ایوارڈ اور صوبوں کے مالی امور میں مداخلت کی گئی توایک بار پھر سقوط ڈھاکہ کی یاد یازہ ہو جائے گی،انہوں نے کہا کہ اگر آج پارلیمنٹ کے فیصلوں کو بے توقیر کیا گیا تو پارلیمانی فیصلوں میں مداخلت کی گئی تو مستقبل میں دیگر اداروں کا مستقبل بھی خطرے میں ہو گا اورتمام اداروں کی ایکدوسرے کے معاملات میں مداخلت کی روایت پڑ جائے گی جو ملک کی یکجہتی اور جمہوریت کی بقا کیلئے نیک شگون نہیں

مزید :

کراچی صفحہ اول -