یہ نظام کب بدلے گا ؟؟

یہ نظام کب بدلے گا ؟؟
یہ نظام کب بدلے گا ؟؟

  

پاکستان جیسے استحصال زدہ معاشرے میں تبدیلی ناگزیر ہے۔ جب تک پاکستان میں تبدیلی نہیں آتی ہمارا معیار زندگی بہتر نہیں ہو سکتا۔پاکستانی سوسائٹی ایک منتشر الخیال سوسائٹی کا روپ دھار چکی ہے۔قومی وحدت کے بکھر جانے کے بعد سب سے اوّلین ضرورت تو یہی ہے کہ ہم بحیثیت قوم ٹکڑوں ،گروہوں اور تفرقوں سے نکل کر قومی وحدت اپنائیں۔مفاد ،پرستی موقعہ پرستی نے ہمیں اپنی ذات کا اثیر بنا رکھا ہے۔ کیا عوام کیا خواص ہر ایک اپنے اپنے مفادات میں الجھے ھوئے ہیں۔جبکہ قومیت،وطنیت اور دینیت کے جذبات صرف وقتی ،حادثاتی نعروں تک محدود ہیں۔جب کوئی جماعت یا قیادت اپنا کوئی مفاد چاہتی ھے ایک منظم انداز میں قوم کو ابھار کر ایک ھنگامہ برپا کر کے پھر اپنا مفاد حاصل کرلینے کے بعد پھر سب اپنے دھندوں میں مشغول ہو جاتے ہیں ہمارا ملک قوم اور دین و مذہب سے بس اتنا سا تعلق باقی رہ گیا ہے۔

پورے ملک میں سوائے چند ایک گنے چنے لوگوں کے کوئی اس منتشر معاشرے اور اس ظالمانہ نظام سے نجات کا کوئی راستہ نہیں دکھا رہا۔گزشتہ چند سالوں میں ملکی سطح پر آنے والی کچھ نمایاں تبدیلیوں میں سے ایک تبدیلی یہ ضرور آئی ہے کہ اب عامتہ الناس اس نظام پر سوال اٹھانا شروع ہو گئے ہیں۔اور قومی سطح کے دانشور ،صحافی،اور اینکر حضرات بھی کھل کر اس نظام کے خلاف بولنے لگے ہیں۔

یہ درست ھے کہ فکری اعتبار پر تبدیلی کی طرف ہم ایک قدم ضرور آگے بڑھے ہیں کہ ہماری قوم کی مجموعی ذہانت ،دانشور،صحافی ،اینکرز اور شعراء حضرات اب کھل کر نظام کو ڈسکس کرنے لگے ہیں۔بیشک فکری تحریک ہی کسی بڑی تبدیلی کا پیش خیمہ ثابت ہوتی ہے۔تبدیلی کے نام پر وجود میں آنے والی ہماری موجودہ حکومت کو اس نظام نے پھانس پھونس کر بندھ گلی میں دھکیل دیا ہے۔موجودہ نظام شاید اسے اپنی کامیابی سمجھے درحقیقت یہ اس نظام کی بدترین ناکامی کا نقطہ آغاز ثابت ہو گا۔ کہ موجودہ حکمران تبدیلی نظام کا نعرہ لے کر آئے اور قوم نے بھی ایک آخری موقعہ کے طور پر نظام کے اندر رہ کر نظام کو آزمانے کی یہ آخری کوشش کی ہے۔اس کے بعد اب شاید عوام اب کسی اور دیگر فریب میں مبتلا نہ ہو۔اور اس حکومت کی ناکامی کے بعد اب سسٹم کے پاس کوئی اور ایسی شخصیت بھی نہیں جسے بطور ھیرو پیش کر کے نظام کچھ وقت مزید حاصل کر سکے۔سیاسی جماعتوں میں سے یہ واحد اور آخری جماعت تحریک انصاف تھی جسے نظام نے اپنے دفاع کے لئے استعمال کر لیا۔جبکہ مذہبی جماعتوں میں جماعت اسلامی سے خادم رضوی صاحب تک کے پاس بھی ملک اور قوم کے لئے کوئی ایجنڈا نہیں اور نہ ہی قوم انہیں قبول کرنے کے لئے تیار ہے۔اب لامحالہ آئندہ دور میں ریاست کی تمام مقتدر قوتوں کو باھم مل کر تبدیلی نظام کی طرف بڑھنا ہو گا جس میں نمایاں کردار سپریم کورٹ آف پاکستان کو ادا کرنا ہو گا۔ 

قوم اب مارشل لاء کی بجائے عدلیہ کی طرف دیکھے گی اور دیکھ رہی ھے۔ تین بڑے مارشل لاء کی ناکامی کے بعد اب جس طرح اہل سیاست سے عوام اکتا چکی ہے اسی طرح فوجی آمریت سے بھی بیزار ہے۔وطن عزیز میں پرامن تبدیلی کا آخری آپشن سپریم کورٹ آف پاکستان کا کردار باقی بچ گیا ھے۔بصورت دیگر اللہ نہ کرے موجودہ حکومت کی ناکامی کی صورت میں آگے بہت مشکل دور شروع ہو جائے گا جو تمام اداروں کے لئے چیلنج ایبل ہو گا۔

آخر میں ضرور کہوں گا کہ طاہرالقادری کا وہ نعرہ سیاست نہیں ریاست بچاو اور چہرے نہیں نظام بدلو ہی درحقیقت ہماری قومی و ملی بقاء کا ضامن تھا اور ہے۔موجودہ حکمرانوں کے پاس حکومت تو ہے مگر اختیار نہیں ورنہ یہ موقعہ تھا پرامن تبدیلی کی بنیاد نظام کے اندر رہ کر رکھی جا سکتی تھی۔مگر افسوس کے اس نظام کی مضبوط گرفت، کپتان خان کا آہنی عزم بھی نہ توڑ سکا۔اور ملکی حالات اس نئی قیادت اور حکومت کے باوجود بھی پہلے سے زیادہ گھمبیر ہوتے جا رہے ہیں۔مہنگائی،غربت ،بیروزگاری ،انرجی کرائیسس ،جیسے مسائل قومی معیشت کی ابتر حالت اس حکومت کے لئے بھی درد سر بنے ہوئے ہیں۔ان مسائل کو حل کرنا ہی حکومت کی قابلیت کا امتحان ہے۔

۔

نوٹ: یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارہ کا اتفاق کرنا ضروری نہیں ہے ۔

مزید :

بلاگ -