مذہبی جماعتوں کے احتجاج پر پشاور میں خواتین کی سائیکل ریلی منسوخ

مذہبی جماعتوں کے احتجاج پر پشاور میں خواتین کی سائیکل ریلی منسوخ
مذہبی جماعتوں کے احتجاج پر پشاور میں خواتین کی سائیکل ریلی منسوخ

  

پشاور(ڈیلی پاکستان آن لائن)پشاور میں مذہبی جماعتوں کی جانب سے احتجاج کی کال کے بعد  کل ( ہفتہ کے روز ہونے والی) خواتین کی سائیکل ریلی منسوخ کردی گئی ،پشاور میں نجی تنظیم کی جانب سے حیات آباد میں خواتین کی سائیکل ریلی کے انعقاد کا اعلان کیا گیا تھا، ریلی 19 جنوری کو حیات آباد سے شروع ہونا تھی تاہم مذیبی جماعتوں کی جانب سے احتجاج کی کال پر سائیکل ریلی منسوخ کردی گئی۔

نجی ٹی وی کے مطابق  خواتین کی سائیکل ریلی کے حوالے  سےمجلس علما حیات آباد اور جمعیت علما اسلام کا مشترکہ اجلاس  ہوا جس  کی صدارت مولانا رفیع اللہ قاسمی نے کی۔اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ 19 جنوری کی صبح نو بجے باغ ناران حیات  میں خواتین سائکل ریس کیخلاف احتجاج کیا جائے گا۔علما نے سائیکل ریلی کو فحاشی قرار دیتے ہوئے حکومت سے اسے روکنے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ بصورت دیگر سخت ردعمل ظاہر کیا جائے گا۔شرکا کا کہنا تھا کہ خواتین سائیکل ریلی فحاشی کی جانب پہلا قدم ہے جس کے خلاف وہ بھرپور آواز اٹھائیں گے اور کسی بھی صورت شہر میں عریانیت اور فحاشی عام نہیں ہونے دیں گے۔جمعیت علمائے اسلام کے ساتھ جماعت اسلامی کی جانب سے بھی ریلی کے انعقاد کے خلاف احتجاج کی کال دی گئی ہے ۔مذیبی جماعتوں کے سخت رد عمل کے بعد  منتظمین نے خواتین کی سائیکل ریلی منسوخ کرنے کا اعلان کردیا ہے،منتظمین سائیکل ریلی میں 30 سے زیادہ خواتین سائیکلسٹ کی شرکت کی توقع کر رہے تھے جن میں اقلیتی کمیونٹی اور خواجہ سرا بھی شامل تھے۔دوسری طرف امریکی خبر رساں ادارے سے سائیکل ریلی کا انعقاد کرنے والی غیر سرکاری تنظیم ’’زمونگ جوند‘‘ کی سینیر ممبر وفاء وزیر نے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ سائیکل ریلی  کا مقصد خواتین کے لئے ایک مثبت سرگرمی فراہم کرنے کے ساتھ دہشت گردی سے متاثرہ صوبے خیبر پختون خوا کا عالمی سطح پر امیج بہتر بنانا تھا،اس ریلی میں 30 سے 35 کے قریب سائیکلسٹ  حصہ لینے والی تھیں جس میں اقلیتی برادری کی خواتین سمیت خواجہ سراؤں کی شرکت بھی متوقع تھی۔انہوں نے کہا کہ مذہبی جماعتوں نے اس ریلی کو روکنے کے لئے احتجاج کی کال دی تھی جس کے باعث ریلی کو ملتوی کرنا پڑا۔دوسری جانب ایس پی کینٹ وسیم ریاض کا کہنا ہے کہ نجی تنظیم نے ریلی کے لئے نا تو ان سے رابطہ کیا اور ناہی این او سی کے لئے کوئی درخواست دی تھی۔

مزید :

علاقائی -خیبرپختون خواہ -پشاور -