ڈیم سے متعلق بیان پرخوشی ہوئی ، چیف جسٹس سے درخواست ہے کہ ذاتی پسند اورناپسند فیصلوں پر غالب نہ آئے:خرم دستگیر

ڈیم سے متعلق بیان پرخوشی ہوئی ، چیف جسٹس سے درخواست ہے کہ ذاتی پسند اورناپسند ...
ڈیم سے متعلق بیان پرخوشی ہوئی ، چیف جسٹس سے درخواست ہے کہ ذاتی پسند اورناپسند فیصلوں پر غالب نہ آئے:خرم دستگیر

  

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) مسلم لیگ ن کے رہنما خرم دستگیرنے کہاہے کہ میری چیف جسٹس کو درخواست ہے کہ ذاتی پسند اورناپسند فیصلوں پر غالب نہ آئے،نئے چیف جسٹس کا ڈیم سے متعلق بیان سن کر بڑی خوشی ہوئی ہے۔

جیونیوز کے پروگرام ”رپورٹ کارڈ“ میں گفتگو کرتے ہوئے خرم دستگیر نے کہا کہ نئے چیف جسٹس کا ڈیم سے متعلق بیان سن کر بڑی خوشی ہوئی ہے ، عدلیہ کاکام یہی ہے کہ پاکستان کا ایک غریب شہری جواپنی درخواست لیکر عدالت میں جاتاہے اس کے ساتھ سول عدالت میں کیا ہوتا ہے ؟انہوں نے کہا کہ بحث کرلینی چاہئے ، یہ ہماری افواج کے سربراہ بھی کہتے رہے ہیں کہ بحث کرلیں لیکن اس سے پارلیمان آہستہ آہستہ کمزور ہوتی جائیگی ۔

انہوں نے کہا کہ پہلے عدلیہ اپنا کام کرلے اور جب عام شہریوں کو عدالتوں سے ریلیف ملنا شروع ہوجائے تو پھر بحث کرلی جائے ۔انہوں نے کہا کہ کھوسہ صاحب ایسی تجاویز دیں جن پر قانون سازی کی جاسکے ،ایک دندان ساز کتنابھی قابل ہو لیکن وہ دل کی سرجری کر نہیں سکتا ، یہ کام وہی کرسکے گا جس کا کام ہے ۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی ادارے پر تنقید کرنے سے پہلے اپنے آ پ کوٹھیک کرنا چاہئے ، چیف جسٹس عوام کو انصاف کی ڈلیوری ضروری بنائیں ، میری چیف جسٹس کو درخواست ہے کہ ذاتی پسند اورناپسند فیصلوں پر غالب نہ آئے ۔

مزید :

قومی -