جھونپڑے سے لے کر بنگلوں تک مہنگائی کے سونامی نے تباہی مچادی،سراج الحق نے’تحریک‘ چلانے کا اعلان کر دیا

جھونپڑے سے لے کر بنگلوں تک مہنگائی کے سونامی نے تباہی مچادی،سراج الحق ...
جھونپڑے سے لے کر بنگلوں تک مہنگائی کے سونامی نے تباہی مچادی،سراج الحق نے’تحریک‘ چلانے کا اعلان کر دیا

  



پشاور(ڈیلی پاکستان آن لائن)امیر جماعت ا سلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے کہاہے کہ جماعت اسلامی مہنگائی اور بے روزگاری کے خلاف تحریک چلائے گی ،اب عوام کے پاس جماعت اسلامی کے علاوہ دوسرا کوئی آپشن نہیں رہا،جماعت اسلامی چہروں کے بجائے نظام کی تبدیلی کی جدوجہد کر رہی ہے،اپوزیشن صرف جماعت اسلامی ہے باقی سب ایک چھتری تلے جمع ہیں،ادھر ادھر سے پرزے پکڑ کر بنایا گیا جہاز رن وے پر ہی کھڑا رہے گا اڑ نہیں سکتا ،قوم کے پندرہ ماہ ضائع ہو گئے حکومت ابھی تک کوئی ایک کام سنجیدگی سے نہیں کر سکی،ورلڈ بنک کی رپورٹ کے مطابق 2020 ءمیں بھی معاشی شرح نمو افریقہ کے قحط زدہ ممالک جیسی رہے گی اورعوام کوکوئی ریلیف نہیں ملےگا،احتساب بند کمروں میں نہیں ہوتا،احتساب کا نعرہ ایک مذاق بن گیاہے،احتساب کے لیے بنائے گئے ادارے پسند و ناپسند کی بنیا د پر سیاست میں ملوث ہو گئے ہیں۔

پشاور کلب کے نو منتخب عہدیداروں کے ہمراہ میٹ دی پریس پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئےسینیٹر سراج الحق نے کہاکہ حکومت نے ملک کو مسائل کی دلدل میں دھکیل دیاہے،حکومت پندرہ ماہ میں عوام کو کوئی ریلیف نہیں دے سکی ،مہنگائی اور بے روزگاری کے مارے عوام کی سمجھ میں سونامی کا اصل مطلب اب آیاہے،جھونپڑے سے لے کر بنگلوں تک مہنگائی کے سونامی نے تباہی مچادی ہے اور سفید پوش طبقہ بھی نان شبینہ کا محتاج ہوگیاہے،70 روپے کلو آٹے پر پورا ملک سناٹے میں آگیاہے اور لوگوں کے چہرے زرد پڑ گئے ہیں،وزیراعظم کہتے تھے کہ گھبرانا نہیں ، قبر میں سکون ملے گا مگر اب حکومت نے ڈیتھ سر ٹیفکیٹ کی فیس بھی تین سو سے بڑھا کر 12 سو روپے کردی ہے،لوگوں کے لیے جسم و جان کا رشتہ قائم رکھنا مشکل ہوگیا ہے،پندرہ ماہ میں حکومت کے کسی وزیر نے پہلا سچ بولا ہے کہ حکومت ناکام ہوگئی ہےاوروزرائےاعلیٰ بادشاہ بن کربیٹھےہوئےہیں۔انہوں نے کہاکہ پورا سچ یہ ہے کہ وزرائےاعلیٰ ہی نہیں  تمام حکومتی وزراءبادشاہ ہیں جنہیں عوام کی کوئی پرواہ نہیں،اب تو خود وزیر دفاع کہتے ہیں کہ حکومت صرف اپنی مدت پور ی کرنا چاہتی ہے۔ 

سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ حکومت کو ووٹ اور سپورٹ دینے والے رو رہے ہیں،حکمرانوں کا خمار اور تبدیلی کا بخار اتر چکاہے،حکومت نے ایک کروڑ نوکریاں اور پچاس لاکھ گھر دینے کا وعدہ کر کے34لاکھ لوگوں سے روزگاراوردس لاکھ سےزیادہ لوگوں سےچھت چھین لی ہے،پاکستان گندم پیداکرنےوالادنیاکاآٹھواں بڑا ملک ہےمگرعوام روٹی کےنوالےنوالےکو ترس رہے ہیں،گذشتہ ایک سال میں آٹے کی قیمت میں900روپےمن اضافہ ہوا،ڈاکٹرز اور انجینئرز ملک سے بھاگ رہے ہیں۔سینیٹر سراج الحق نےکہاکہ حکمران کہتے ہیں کہ ہم سابقہ حکومتوں کےقرضوں کےبوجھ میں دبےہوئےہیں مگرپندرہ ماہ میں حکومت چھلانگ لگا کر31ہزار ارب روپے سے42ہزارارب تک پہنچ گئی ہے،کاروبار ٹھپ ہو چکے ہیں،کراچی کی مصروف ترین بند ر گاہ ویران پڑی ہے،اب تو اخبارات اور چینلز بھی ڈاﺅن سائزنگ پر مجبور ہو گئے ہیں،جو لوگ سمجھتے تھے کہ حکومت کے سقراط و بقراط چند ماہ میں ملک کو معاشی ٹائیگر بنادیں گے،اب ان سے نجات کی دعائیں مانگ رہے ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ حکومت نے گورنر ہاؤسز کو یونیورسٹیاں بنانے،بیرونی دورے کم کرنے اور غیرملکی دوروں میں عام جہازوں میں سفر کرنے کےدعوے کیے تھے ان کاکیا بنا ؟۔انہوں نے کہاکہ کرپشن کے خاتمے کے دعوے کرنے والوں نے کرپشن میں اضافہ اور رشوت کے ریٹس بڑھا دیے ہیں،پاکستان کو مدینہ کی ریاست بنانے کے دعویداروں نے حج و عمرہ کے کرایوں میں اضافہ کر کے مدینہ جانے والوں کی مشکلات میں اضافہ کر دیاہے ۔

سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ جماعت اسلامی کراچی سے چترال تک مظلوم و محروم عوام کو منظم کرے گی ،ہم زیر زمین سرگرمیوں اور ڈرائنگ روم کی سیاست کے قائل نہیں۔انہوں نےکہاکہ چوروں کےذریعےچوری،ظالموں کےذریعے ظلم اور کرپٹ لوگوں کے ذریعے کرپشن ختم نہیں ہوسکتی ،ٹرانسپرنسی انٹر نیشنل اور پلڈاٹ سمیت قومی و عالمی اداروں اورسپریم کورٹ نےاعتراف کیاہےکہ جماعت اسلامی دیانتدار ،حقیقی جمہوری اورآئین پرپورا اترنے والی جماعت ہے،قوم آزمائے ہوؤں کو آزمانے کی بجائے ملک میں اسلامی نظام کے نفاذ کے لیے جماعت اسلامی کا ساتھ دیں۔

مزید : قومی /علاقائی /خیبرپختون خواہ /پشاور