شدید سردی اور گیس کا بحران!

شدید سردی اور گیس کا بحران!

  

پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے احتجاج کیا،ان کا کہنا تھا کہ سندھ قدرتی گیس پیدا کرتا،لیکن اس کے شہری گیس سے محروم ہیں۔بلاول بھٹو زرداری کا یہ شکوہ اپنی جگہ، تاہم گیس کی نایابی یا کمیابی کی صورتِ حال یہ ہے کہ کراچی سے لے کر پشاور تک کے صارفین دہائی دے رہے ہیں۔حکومت نے صنعتوں کو گیس دینا بند کر دی اس کے باوجود گھروں میں اول تو گیس آتی نہیں اور جہاں آ رہی ہے وہاں ”پریشر“ اتنا کم ہوتا ہے کہ روٹی نہیں پکائی جا سکتی، کراچی کے علاوہ لاہور، راولپنڈی اور پشاور کے شہری بھی پریشان ہیں، کھانا پکانا اور کھانا مشکل ہو چکا، کبھی کبھی گیس آتی ہے تو اس کے وقت کا علم نہیں ہوتا۔وزارت قدرتی پیداوار کا یہ دعویٰ بھی غلط ثابت ہو گیا کہ گھریلو صارفین اولیت کے حامل ہیں اور ان کو گیس دی جاتی رہے گی، کئی شہروں میں مظاہرے بھی ہوئے ہیں، شہریوں کے مطابق گیس نہیں آ رہی،لیکن بل چلے آ رہے ہیں اور ناقابل ِ برداشت ہیں۔مظاہرہ کرنے والوں کا کہنا ہے کہ جن گھروں میں چولہے نہیں جلتے وہاں گیزر کیسے کام کریں گے۔ یوں شدید سردی میں گرم پانی بھی دستیاب نہیں۔ مارکیٹ میں ایل پی جی بھی مہنگی ہے، بعض گھرانے اس گیس کے عارضی چولہے لا کر سالن بنانے پر مجبور ہو گئے ہیں۔ اس سے بہتر تھا کہ حکومت لوڈشیڈنگ کا موزوں شیڈول بنا لیتی تاکہ عوام کو علم ہوتا کہ ان کے علاقے میں گیس کب اور کتنے وقت کے لئے ہو گی،اس طرح لوگ اپنے اوقات کار ہی تبدیل کر لیتے،لیکن یہاں تو سب کو سہولت دینے کا اعلان کیا جاتا ہے لیکن گیس کسی کو نہیں ملتی، آج گیس کا جو بحران ہے اس کی مثال ماضی میں نہیں ملتی۔ دوسری طرف بجلی بھی مہنگی اور مزید مہنگی کی جا رہی ہے۔یوں لوگ کھانے پکانے کے لئے بجلی کے ہیٹر یا گیزر بھی استعمال کرنہیں پاتے اور یہ حقیت ہے کہ لوگ پریشانی سے دوچار ہیں،کورونا کی پریشانی کے ساتھ یہ تکلیف زیادہ محسوس ہو رہی ہے۔ ایل این جی کی درآمد میں تاخیر بھی ایک سبب ہے۔ وزیراعظم کو خود نوٹس لینا چاہئے کہ لوگوں کے چولہے تو نہ بجھیں۔

مزید :

رائے -اداریہ -