قطر، سعودی عرب صلح، امت میں خوشی کی لہر 

قطر، سعودی عرب صلح، امت میں خوشی کی لہر 
قطر، سعودی عرب صلح، امت میں خوشی کی لہر 

  

جون 2017ء میں سعودی عرب نے برادر اسلامی ملک قطر کے لئے  اپنی بری بحری اور فضائی حدود بند کرتے ہوئے بائیکاٹ کا اعلان کیا جس کے بعد خلیج تعاون کونسل (جی۔سی۔سی) کے دیگر رکن ممالک کویت،عمان،متحدہ عرب امارات اور بحرین نے بھی قطر کا بائیکاٹ کر دیا۔ سوڈان، سینی گال، مالدیپ،جبوتی، موریشس، یمن،موریطانیہ، اردن، لبیا، مصرنے بھی اس فیصلے پر عمل کرتے ہوئے قطر کا بائیکاٹ کر دیا۔الزام یہ تھا کہ قطر جی سی سی کا  رکن ہونے کے باوجود ان ممالک میں جاری حکومت مخالف سرگرمیوں میں ملوث جماعتوں اور افراد کی مدد کر رہا ہے۔ یہ بھی کہاگیا کہ قطر کے ذرائع ابلاغ جی سی سی ممالک کے خلاف منفی پروپگنڈا کر رہے ہیں، عرب ممالک کے مخالفین کو قطر میں پناہ کے علاوہ مالی معاونت اور سرپرستی بھی فراہم کی جارہی ہے۔ قطر کی قیادت نے ہمیشہ ان الزامات کی تریدکی۔ 

1981ء میں قائم ہونے والے جی سی سی اتحاد کے اس غیر معمولی اجلاس میں میزبان سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سمیت امیر قطر تمیم بن حمد آل ثانی،متحدہ عرب امارات کے وزیر اعظم محمد بن راشد، امیر کویت شیخ نواف احمد الجابر الصباح،بحرین کے شاہ محمد بن عیسیٰ آل خلیفہ، عمان کے نائب وزیر اعظم فہد بن محمود السید، اعلیٰ امریکی مشیرجارڈ کوشنر اور مصر کے وزیر خارجہ سامع شکری نے شرکت کی۔ اس کامیاب اجلاس میں ماضی کی تلخیوں کو بھلا کر آگے بڑھنے کا فیصلہ کیا گیا۔ خصوصاً متحدہ عرب امارات مصرا ور سعودی عرب کے تعلقات قطر کے ساتھ فوری طور پر بحال ہو گئے۔ اجلاس کا جاری کردہ اعلامیہ ایک سو گیارہ نکات پر مشتمل تھا جس کے مطابق رکن ممالک کسی ملک کے داخلی معاملات میں مداخلت نہیں کریں گے، مشترکہ مفادات کا تحفظ کریں گے اور ان ممالک کے خلاف ہونے والی سازشوں اور سرگرمیوں کا مل کر مقابلہ کریں گے۔ اسی طرح داخلی معاملات میں مداخلت اور ہر قسم کی دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑپھینکنے کا فیصلہ کیا گیا۔ 

 عرب لیگ، یورپی یونین، ترکی، روس امریکہ اور دیگر ممالک نے جی سی سی کے کامیاب اجلاس اور اعلامیہ کا خیر مقدم کیا تاہم اس اجلاس کے بعدایک اہم ترین اجلاس سعودی اور قطری قیادت کے درمیان الگ سے ہوا جس میں قطر کی طرف سے نائب وزیراعظم وزیر خارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمن آل ثانی، ایوان ریاست کے سربراہ شیخ سعود بن عبدالرحمن آل ثانی اور شیخ خلیفہ بن محمد بن آل ثانی جبکہ سعودی عرب کی طرف سے ولی عہد وزیر دفاع محمد بن سلمان،وزیر خارجہ فیصل بن فرحان کے علاوہ وزیر مملکت ڈاکٹر مساعد الصیبان شریک ہوئے۔ دونوں طرف کی قیادت نے سعودی عرب اور قطر کے برادرانہ تعلقات اور مشترکہ خلیجی جدو جہد کو مستحکم بنانے کا فیصلہ کیا۔

یہ اس اجلا س کی سب سے بڑی خبر تھی کیونکہ سعودی عرب، قطر تنازعہ نے دونوں ممالک کے دوستوں کو بھی امتحان میں ڈال رکھا تھا۔ بعض ممالک ان اختلافات سے فائدہ اٹھا رہے تھے۔دنیا کے امیر ترین ممالک کے درمیان صلح اور کویت بحرین و عرب امارات کے درمیان رابطوں کی بحالی اور پھر مصر کی طرف سے بھی اس پر دستخط عرب ممالک کے عوام کے لئے خوشی کی خبریں ہیں۔ عرب کی نوجوان قیادت اب سمجھ رہی ہے کہ سعودی فرماں روانے اس غیر معمولی اجلاس کو کویت کے سابق مرحوم سربراہ شیخ صباح اور عمان کے سابق مرحوم سربراہ سلطان قابوس کے نام کرکے یہ پیغام دیا ہے کہ موجودہ عرب قیادت اپنے بزرگوں کے بنائے ہوئے اس اتحاد کو ہمیشہ قائم رکھے گی۔

 امیر قطر تمیم بن حمد آل ثانی کا سعودی عرب میں خصوصی استقبال کیا گیا۔ سعودی ولی عہد بذاتِ خود ان کے استقبال کے لئے ہوائی اڈے پر موجود تھے۔ ان کے استقبالی کلمات اللہ حیہ (اللہ تعالیٰ آپ کو زندگی دے) نورت مملکنہ (آپ کے آنے سے ہماری ریاست منور ہوگئی) سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئے۔ سعودی اور قطری شہری بھی ایک دوسرے کو یہ کلمات کہتے رہے۔ اجلاس کے بعد ولی عہد محمد بن سلمان امیر قطر کو اپنی گاڑی میں بٹھا کر (العلاء) شہر کی سیر کو نکل گئے۔ دنیا کی نظر یں امیر قطراور ولی عہد سعودی عرب پر لگی ہیں کیونکہ عرب ممالک اور مشرق وسطیٰ کے عوام کی معاشی و اقتصادی ترقی، امن و استحکام، عوامی فلاح وبہود کا دارومدار ان دو شخصیا ت کے فیصلوں پر ہے پاکستان کی خارجہ پالیسی کا جہاں تک تعلق ہے تو پاکستان کے ان دونوں ممالک کے ساتھ قریبی برادرانہ تعلقات استوارہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان  بھی دونوں ممالک کے درمیان جلد صلح اور رابطوں کی بحالی کا خواہش مند تھا۔ دونوں ممالک کے درمیان دوریاں ختم کرنے کے لئے اسلام آباد بھی اپنی ہر ممکن کوشش کرتا رہا ہے۔ خلیج سربراہی اجلاس کی کامیابی پاکستان کے لئے بھی ایک نیک شگون ہے۔ پاکستانی دفتر خارجہ نے اس اجلاس کی کامیابی پر اطمینان اور خوشی کا اظہار کر تے ہوئے اس اعلامیہ کو خطے کی ترقی کے لئے سنگ میل قرار دیاہے۔ 

مزید :

رائے -کالم -