انتخابات میں غیر ملکی مداخلت اور فنڈنگ

انتخابات میں غیر ملکی مداخلت اور فنڈنگ
انتخابات میں غیر ملکی مداخلت اور فنڈنگ

  

فارن فنڈنگ کیس کا تعلق پاکستان کے مستقبل اور سلامتی سے ہے۔ یہ جاننا بہت ضروری ہے کہ کیا غیر ممالک ہماری سیاست اور انتخابات پر اثر انداز ہوتے ہیں یا نہیں؟ اور یہ بھی جاننا بہت اہم ہے کہ کیا پاکستان میں غیر ملکی مفادات کی نگہبانی کے لئے حکومت سازی ہوتی یا نہیں؟

پچھلے پچاس ساٹھ سالوں میں امریکی ایجنسی سی آئی اے، برطانوی ایجنسی ایم آئی 6، اسرائیلی ایجنسی موساد اور اس کے علاوہ روس (پہلے سوویت یونین)، چین، بھارت،سعودی عرب اور ایران وغیرہ کے مختلف ملکوں کے انتخابات پر اثر انداز ہونے اور فنڈنگ کرنے کے بارے میں سینکڑوں کتابیں لکھی گئی ہیں۔ اللہ نہ کرے پاکستان کے دشمن ہماری سیاست، انتخابات اور حکومتوں پر اثر انداز ہوں۔ لیکن اگر ایسا ہونے کا ذرا سا بھی شائبہ ہو تو اسے فوراً دور کرلینا چاہئے۔ پاکستان تحریک انصاف کے خلاف فارن فنڈنگ کیس 2014 سے چل رہا ہے لیکن شیطان کی آنت کی طرح ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہا۔کیس کی غیر معمولی طوالت کے خلاف اپوزیشن (PDM) نے 19 جنوری کو الیکشن کمیشن کے دفتر کے سامنے احتجاج کرنے کا اعلان کیا ہے۔

میاں نواز شریف نے بھی ایک ویڈیو پیغام کے ذریعہ فارن فنڈنگ کیس کی حساسیت کے علاوہ اداروں کے مبینہ کردار پر روشنی ڈالی ہے۔ ان کے ویڈیو پیغام سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ مسلم لیگ (ن) اپنے موقف پر ڈٹ کر کھڑی اور کوئی لچک دکھانے کے لئے تیار نہیں ہے۔کیس دائر کرتے وقت تحریک انصاف کے بانی رکن اکبر ایس بابر نے سوچا ہوگا کہ سال چھ مہینے میں فیصلہ ہو جائے گا لیکن وہ شائد یہ بھول گئے کہ پاکستان میں انصاف کے حصول میں کئی نسلیں در بدر کی ٹھوکریں کھاتی ہیں۔ 

فارن فنڈنگ کوئی سادہ معاملہ نہیں ہوتا کیونکہ امریکہ، روس، بھارت یا اسرائیل وغیرہ جب کسی ملک کے الیکشن میں کروڑوں ڈالر سیکرٹ فنڈز کی مد میں دیتے ہیں تو اس کے عوض جیت کر حکومت بنانے والے صدر یا وزیر اعظم سے حسب منشا کام بھی لیتے ہیں۔ گویا فارن فنڈنگ محض مالی بدعنوانی نہیں بلکہ اس کا تعلق سیکورٹی اور پالیسی امور سے بھی جڑا ہوتا ہے۔ انتخابات میں غیر ملکی مداخلت اور فنڈنگ کی تاریخ دو سو سال سے بھی زیادہ پرانی ہے۔ امریکہ کی تاریخ میں 1796 کا الیکشن تاریخی اہمیت رکھتا ہے جو دو سپر ہیوی ویٹس‘ ریپبلکن پارٹی کے تھامس جیفرسن اور فیڈرل پارٹی کے جان ایڈمز کے درمیان ہوا تھا۔ فرانسیسی حکومت نے نہ صرف اعلانیہ تھامس جیفرسن کی حمائت کی تھی بلکہ فرانسیسی سرمایہ کاروں نے پانی کی طرح پیسہ بہایا اور امریکہ میں فرانسیسی سفیر پیری ایدت نے کھلم کھلا انتخابی مہم بھی چلائی، لیکن تھامس جیفرسن یہ الیکشن پھر بھی ہار گئے تھے۔ اسی طرح 1960 کے امریکی الیکشن میں سوویت صدر نکیتا خروشیف نے ڈیموکریٹ امیدوار جا ن ایف کینیڈی کے ساتھ پس پردہ تعاون کرکے انہیں ریپبلکن امیدوار رچرڈ نکسن کے خلاف الیکشن جیتنے میں مدد کی تھی۔ بعد میں جان ایف کینیڈی نے ایک موقع پر اعتراف بھی کیا کہ خروشیف نے ان کی مدد کی تھی، اور اس کے بعد وہ قتل ہو گئے۔ یہ سارا قصہ اس وقت امریکہ میں سوویت سفیر اولیگ ٹریانووسکی نے ایک انٹرویو میں بتایا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا 2016 کا الیکشن جیتنے میں روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کی مدد بھی بتائی جاتی ہے۔ امریکہ خود بھی مختلف ملکوں (دنیا بھر میں) کے انتخابات میں مداخلت اور فنڈنگ کرتا رہا ہے۔ مثال کے طور پر دوسری عالمی جنگ کے بعد امریکی صدر ہیری ٹرومین نے اٹلی کے الیکشن میں کمیونسٹ پارٹی کے مقابلہ میں دائیں بازو کی پارٹی کو الیکشن جیتنے میں مدد دی اور اسے سوویٹ بلاک میں جانے سے روکا۔اسی طرح 1952 کے ایرانی الیکشن میں قوم پرست راہنما محمد مصدق اور 1955 کے انڈونیشین الیکشن میں صدر محمد سوئیکارنوکی پارٹی کو ہرانے کے لئے امریکی سی آئی اے نے بے دریغ سرمایہ خرچ کیا۔یہ مثالیں دیگ سے چند دانے چکھنے جیسی ہیں، ورنہ فہرست تو بہت طویل ہے،درجنوں ملکوں کے سینکڑوں انتخابات میں غیر ملکی مداخلت یا فارن فنڈنگ ہوئی۔ ظاہر ہے فارن فنڈنگ کسی ملک کے قومی مفاد اور سلامتی پر نقب لگانے کے لئے ہوتی ہے، اس لئے اس کا بے نقاب ہونا ملک کی بقا کے لئے انتہائی اہم ہوتا ہے۔  

پاکستان کے مستقبل اور سلامتی کے لئے میاں نواز شریف کا فارن فنڈنگ کے حوالہ سے ویڈیو پیغا م انتہائی اہم ہے۔یہ واقعی بہت تشویش کی بات ہے کہ ملکی سلامتی سے جڑا ایک انتہائی اہم ترین مقدمہ کیوں چھ سال سے الیکشن کمیشن میں لٹکا ہوا ہے۔ یقینا ان تمام ذمہ داروں کے خلاف تحقیقات ہونی چاہئے اورسپریم کورٹ کو نوٹس لینا چاہئے کہ کیوں اس کیس کو کھڈے لائن لگایا گیا ہے۔ کیا چھ سال سے فارن فنڈنگ کیس اس لئے کھڈے لائن لگا ہوا ہے کیونکہ یہ تحریک انصاف اور عمران خان کے خلاف ہے؟ میاں نواز شریف نے بتایا کہ اس عرصہ کے دوران مقدمہ کی 70 سے زائد سماعتیں ہو چکی ہیں اور تحریک انصاف مختلف حیلوں اور بہانوں سے اس کیس کی سماعت کو 30 بار ملتوی کرا چکی ہے جس کے لئے اس نے 8 بار اپنے وکلا تبدیل کئے اور 20 بار عدالت کے احکامات کو ردی کی ٹوکری میں ڈالنے کے علاوہ اعلی عدالتوں میں چھ پٹیشنز بھی دائر کیں۔الیکشن کمیشن نے مارچ 2018 میں سکروٹنی کمیٹی بنائی تھی جس نے ایک ماہ میں رپورٹ دینا تھی لیکن اب اس کو بھی تین سال ہونے والے ہیں۔

خود الیکشن کمیشن نے اکتوبر 2019 میں لکھا کہ یہ کیس قانون کی پامالی کی بدترین مثال ہے لیکن نہ جانے وہ کون سے نادیدہ ہاتھ ہیں جو فارن فنڈنگ کیس کو منطقی انجا م تک جانے سے روک رہے ہیں۔ ظاہر ہے کچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہو رہی ہے۔ سٹیٹ بینک بھی الیکشن کمیشن کو اپنی رپورٹ میں بتا چکا ہے کہ تحریک انصاف نے اپنے 23 فارن فنڈنگ اکاؤنٹس میں سے 15 چھپائے تھے۔وزیر اعظم عمران خان کی طرف سے فارن فنڈنگ کا ملبہ مبینہ طور پر ایجنٹوں پر ڈالنا ایک غیر مناسب بات ہے کیونکہ وہ ایجنٹ نہیں بلکہ امریکہ میں تحریک انصاف کے نام پر رجسٹرڈ دو کمپنیاں ہیں جہاں سے یہ فنڈنگ ہوئی۔وقت آ گیا ہے کہ اگر اب بھی دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی نہ کیا گیا تو پاکستان آگے جانے کی بجائے ایک صدی پیچھے چلا جائے گا۔ 

مزید :

رائے -کالم -