عمران خان کا متبادل شہباز شریف مگر کیسے؟

عمران خان کا متبادل شہباز شریف مگر کیسے؟
عمران خان کا متبادل شہباز شریف مگر کیسے؟

  

احتساب عدالت لاہور میں پیشی کے موقع پر شہباز شریف کے پھر چرچے ہوئے، کچھ انہوں نے خود بھی موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے احتساب عدالت کی اجازت سے لاہور میں ویسٹ مینجمنٹ کے معاملات پر گفتگو کی اور فرمایا کہ انہوں نے اپنے دور میں ایک سو سات ارب روپے کی بچت کی اور لاہور کو شیشے کی طرح صاف بھی رکھا۔ یاد رہے کہ آج کل لاہور میں صفائی کے معاملات دگرگوں ہیں اور پنجاب حکومت کوشش کر رہی ہے کہ لاہور کو کچرا گھر بننے سے بچائے۔ چونکہ پنجاب حکومت نے نزلہ شہباز شریف کی حکومت پر گرایا تھا کہ اس نے ترک کمپنیوں سے مہنگے معاہدے کئے جس کی وجہ سے موجودہ حکومت نے ان کے ساتھ مزید کنٹریکٹ کرنے سے انکار کر دیا اور بیک اپ نظام نہ ہونے کی وجہ سے صورت حال خراب ہوئی۔ ویسے اس میں تو کوئی شک نہیں کہ شہباز شریف نے کم از کم لاہور کو ایک آئیڈیل شہر بنا کر رکھا ہوا تھا۔ کراچی والے لاہور کی مثالیں دیتے تھے کہ کتنا صاف ستھرا دارالحکومت ہے۔

اب عثمان بزدار کے دورِ حکومت میں یہ دن بھی دیکھنے پڑے کہ لاہوری یہ کہتے پائے گئے کہ لاہور کو کچرے کے لحاظ سے کراچی بنا دیا گیا ہے۔ شہباز شریف میں ایک صفت ضرور تھی کہ وہ فوری فیصلے کرنے کی صلاحیت رکھتے تھے۔ معاملات کو ٹالتے نہیں تھے، یہی وجہ ہے کہ مسائل پیدا ہونے سے پہلے ہی ختم ہو جاتے تھے۔ اب یہ بات کتنی بڑی حماقت کے زمرے میں شمار کی جائے گی کہ پنجاب حکومت کو جب معلوم تھاکہ وہ ترک کمپنی سے معاہدہ ختم کرنے جا رہی ہے تو اس نے قبل از وقت متبادل انتظامات کیوں نہیں کئے، صوبائی وزیر اسلم اقبال جو متبادل نظام کے انچارج بنائے گئے ہیں بتا رہے تھے کہ معاہدے کی رو سے کمپنی کو اپنی تمام گاڑیاں اور سامان حکومت کے حوالے کرنا تھا، جو اس نے نہیں کیا، جس کے باعث یہ صورتِ حال پیدا ہوئی۔ کیا پنجاب حکومت اتنی بے خبر یا بے بس تھی  کہ اس کے دارالحکومت میں ایک کمپنی معاہدے سے مکر جائے اور گاڑیاں تک  نہ دے پھر اس کا  تو ایک ماہ پہلے نکالنا چاہئے تھا۔ کورونا وباء کے دنوں میں اہل لاہور  کو جس اذیت اور بدبودار ماحول میں رہنا پڑا  اس کا ذمہ دار کون ہے؟

اسی پیشی کے موقع پر مریم نواز نے اپنے چچا شہباز شریف سے احتساب عدالت میں ملاقات بھی کی ان کا یہ بیان سیاسی حوالے سے قابل غور ہے کہ عمران خان شہباز شریف کو انتقام کا نشانہ اس لئے بنا رہے ہیں کہ وہ انہیں اپنا متبادل سمجھتے ہیں۔ مریم نواز کی اس بات نے بہت سے شکوک و شبہات بھی دور کر دیئے ہیں۔ مثلاً یہ کہا جاتا ہے کہ مریم نواز شہباز فیملی کو پیچھے دھکیل کر خود آگے آنا چاہتی ہیں، وہ مسلم لیگ (ن) پر قبضہ کرنے کا منصوبہ رکھتی ہیں تاکہ جماعت کو نواز شریف خاندان کی سیاسی وارث بنا  سکیں، مگر احتساب عدالت میں شہباز شریف سے ملاقات کے بعد ان کا یہ کہنا کہ عمران خان کا متبادل شہباز شریف ہیں اس سارے معاملے کو غلط ثابت کرتا ہے۔

وہ شہباز شریف کو اپنے والد نوازشریف کی طرح اپنا قائد مانتی ہیں اور ان کی سیاسی بصیرت و تجربے کو مسلم لیگ (ن) کا اثاثہ سمجھتی ہیں اس وقت پورے سیاسی منظر نامے پر اگر کوئی شخص معاملات کو سلجھا سکتا ہے تو وہ شہباز شریف ہی ہیں انہوں نے اپنی شخصیت اور سیاست کو کسی انتہا پسندی کا شکار نہیں ہونے دیا۔ اسٹیبلشمنٹ کے لئے بھی شہباز شریف کے سوا ایسا کوئی وژن نہیں جس سے وہ اس ڈیڈلاک کا خاتمہ کر سکے جو اس وقت قومی سطح پر نظر آتا ہے اور رفتہ رفتہ ایک بڑے تصادم اور ایک بڑے انتشار کی طرف بڑھ رہا ہے۔ نیب کے کیسز کا کوئی اعتبار نہیں، کب دائر ہوں اور کب ختم ہو جائیں، پہلے بھی یہی شہباز شریف نیب کے شکنجے میں آئے احد چیمہ بھی ان کے ساتھ پکڑے گئے، مگر ہوا کیا، خود نیب نے کیسز بند کر دیئے، شاید اسی لئے مریم نواز نے کہا ہے کہ عمران خان شہباز شریف کو باہر نہیں دیکھنا چاہتے کیونکہ وہ سمجھتے ہیں شہباز شریف اسمبلی کے اندر سے بھی ان کا متبادل ثابت ہو سکتے ہیں۔

یہ حقیقت تسلیم کرنی پڑے گی کہ شہباز شریف نے اپنی سیاست کو بڑے محتاط طریق ے آگے بڑھایا ہے۔ آج ان کے سیاسی حریف بھی تسلیم کرتے ہیں کہ شہباز شریف کی طرز سیاست نوازشریف سے مختلف ہے، عمران خان کو ان کے متبادل ہونے کا خطرہ اس وجہ سے بھی ہو سکتا ہے کہ شہباز شریف آج بھی اسٹیبلشمنٹ کو قابل قبول ہیں۔ انہوں نے کبھی بھی اپنے بیانیئے کو فوج یا اسٹیبلشمنٹ کے خلاف نہیں جانے دیا کہا جاتا ہے کہ انہوں نے نیب  کو گرفتاری اس لئے دی کہ وہ پی ڈی ایم کے اس بیانیئے کی حمائت نہیں کرنا چاہتے تھے، جس میں قومی اداروں کو وزیر اعظم کی بجائے نشانہ بنایا جاتا ہے۔ انہوں نے خود کو ایک نیوٹرل پوزیشن میں رکھا ہوا ہے۔

اس پوزیشن میں رہتے ہوئے بھی اگر ان کے خلاف نیب کی کارروائیاں جاری ہیں تو اس کا مطلب یہی ہو سکتا ہے کہ کوئی ایسا ہے جو نہیں چاہتا کہ شہباز شریف باہر رہ کر سیاسی کشیدگی کو کم کرنے میں اپنا کردار ادا کریں یا دوسرے لفظوں میں اسٹیبلشمنٹ کے لئے متبادل سوچنے کا ایک راستہ ثابت ہوں۔ شہباز شریف بلحاظ عہدہ پارلیمینٹ میں نمبر ٹو ہیں یعنی دو ہی عہدے اہم ہوتے ہیں، ایک وزیراعظم یعنی قائد ایوان اور دوسرا قائد حزب اختلاف، شہباز شریف اگر آئے ہوتے تو قومی اسمبلی میں جمہوریت کے لئے اہم کردار ادا کر سکتے تھے۔ لیکن انہیں گرفتار کر لیا گیا اس وقت معتدل مزاج سیاستدان کوئی  نظر نہیں آتا سب نے تنقید کے نشتر تیز کئے ہوئے ہیں گزشتہ دنوں محمد علی درانی نے شہباز شریف سے جیل میں ملاقات کی تو حکومت سے زیادہ اپوزیشن کی طرف سے اس پر تشویش کا اظہار کیا گیا اس کا مطلب ہے شہباز شریف میں اتنی صلاحیت ہے کہ وہ اپوزیشن کی تحریک کو بھی متاثر کر  سکتے ہیں۔

مریم نواز نے شہباز شریف کو عمران خان کا متبادل کہہ کر ایک ایسے آپشن کی نشاندہی کر دی ہے جس کے بارے میں مقتدر طاقتیں شاید پہلے ہی غور کر رہی ہوں۔ابھی کل ہی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ ہم حکومت کی تبدیلی آئینی اور جمہوری طریقے سے چاہتے ہیں ہم ایوان میں تحریک عدم اعتماد بھی لا سکتے ہیں ان کی اس بات کو مریم نواز کے اس بیان سے ملا کر پڑھا جائے کہ عمران خان کا متبادل شہباز شریف ہیں تو یہ گتھی سلجھ جاتی ہے کہ ایوان کے اندر سے تبدیلی کیسے ممکن ہو گی؟ پورے سیاسی منظر نامے پر شہباز شریف ہی وہ شخص ہیں جنہوں نے شریف فیملی سے ہونے کے باوجود خود کو اس بیانیئے سے علیحدہ رکھا ہوا ہے جو نواز شریف کی وجہ سے مسلم لیگ (ن) اپنائے ہوئے ہے۔ سیاسی بساط پر ایک معمولی سی غلطی یا اچھی چال پورا کھیل بدل دیتی ہے، دیکھتے ہیں ان میں سے کون سی چال مستقبل میں سامنے آتی ہے۔

مزید :

رائے -کالم -