ہم جب سکول میں داخل ہوئے

ہم جب سکول میں داخل ہوئے
ہم جب سکول میں داخل ہوئے

  

یہ جو ہماری اور ہماری طرح کے دوسرے کالم نگار حضرات کی تحریروں میں خود نوشت داستانوں کی جھلکیاں پڑھنے کو ملتی ہیں تو ان کہانیوں کی پشت پر ایک مارل بھی ہوتا ہے جو اس ضرب المثل کی یاد دِلاتا ہے کہ ایک خربوزہ دوسرے خربوزے کو دیکھ کر رنگ پکڑتا ہے۔ہم نے بھی اپنی کھیتی باڑی کے دور میں خربوزوں کے کئی کھیت کاشت کئے۔ ماضی ئ قریب میں عارف والے کے خربوزوں کا بڑا شہرہ سننے کو  ملا جو خوشبودار بھی تھے اور خوش ذائقہ بھی لیکن جو خربوزے ہمارے اپنے کھیت میں کاشت کئے جاتے تھے ان کا رنگ و بو کچھ زیادہ تحسین و آفرین کا سزاوار نہ تھا،حالانکہ عارفوالا اور پاک پتن کے درمیان صرف چند میل کا فاصلہ ہے اور ہماری جوانی کے زمانے میں لفظ ”خربوزہ“ کی جو تقطیع کی جاتی تھی اس کے معانی عجیب و غریب نکلتے تھے جن کو آج ناگفتنی بھی کہا جا سکتا ہے۔

خبر نہیں خربوزہ کھانے والے ”خر“ تھے یا ”خر“ خربوزہ کھاتے تھے۔

ہمارا تعلق سوسائٹی کی جس کلاس سے تھا اسے زیادہ سے زیادہ ”مڈل کلاس“ کہا جا سکتا ہے، ”اپر مڈل“ نہیں۔ مَیں خدا کا شکر بجا  لاتا ہوں کہ آج اَپر مڈل کلاس میں شمار ہوتا ہوں۔ یہ پروموشن بھی رحمت ِ ایزدی کی خاص دین ہے۔ وہ خدا جب کسی کی پرسش کرتا ہے اور خیر خیریت دریافت کرتا ہے تو اس کا پائے سخن درمیان میں دکھائی نہیں دیتا۔کس منہ سے اس کا شکر ادا کروں؟

شکرِ خدائے را کہ تواند شمار کرد؟

یا کیست آنکہ شکر یکے از ہزار کرد؟

14اگست1947ء کو جب پاکستان معرضِ وجود میں آیا تو ہم نے پرائمری سکول میں جانا شروع  ہی کیا تھا، تعلیمی سال یکم اپریل سے شروع ہوتا تھا۔ ابھی چند روز ہی سکول گئے تھے کہ شہر میں ہنگامے شروع ہو گئے۔ ہمارے محلے میں ایک مسجد، ایک مندر اور ایک گوردوارہ بھی تھا۔ ان تینوں عبادت گاہوں کا درمیانی فاصلہ زیادہ سے زیادہ ایک فرلانگ (220گز یا 200میٹر) ہو گا۔گوردوارہ تو ہمارے دروازے سے50قدم کی دوری پر تھا۔ شام ہوتے ہی مسجد سے اذان کی آواز آتی تو گوردوارے کے باہر ایک لمبی سی داڑھی والا شخص منہ سے ایک گھوگھو بجاتا نظر آتا۔ ہم مسجد کی طرف بھاگتے تو وہ سنکھ بجا بجا کر گال پُھلاتا دکھائی دیتا۔واپسی پر گوردوارہ کے باہر بچوں کی بھیڑ جمع ہوتی جو پرشاد لینے کے لئے ایک دوسرے پر ٹوٹے پڑتے۔ ہم ذرا شرافت کا مظاہرہ کیا کرتے اور ہجوم کے باہر کھڑے ہو جاتے تو وہ سنکھ بجانے والا سکھ خود ایک کاغذ پر پرشاد ڈالتا اور کہتا:”او کل پُتر؟ چکھو ذرا کہ  حلوہ مٹھا اے یا پھکا؟“……ہم آگے بڑھتے تو گوردوارے کے اندر ایک سفید ریش بوڑھا سکھ ایک بہت بڑی کتاب اپنے سامنے رکھ کر اس پر انگلی پھیرتا نظر آتا۔اس کی پشت پر ایک نوجوان لڑکا ہاتھ میں مور چھل پکڑے سفید داڑھی والے بابا کے سر پر دائیں بائیں لہراتا تو  ہم حیران ہوتے کہ بابا جی کو ہر وقت اتنی گرمی کیوں لگتی ہے۔

پھر گلیوں میں جلوس نکلنے شروع ہو گئے …… ”پاکستان کا مطلب کیا، لا الہ الا اللہ“ …… اور”لے  کے رہیں گے پاکستان، دینا پڑے گا پاکستان“ کے نعروں سے سارا محلہ گونج اٹھتا…… گوردوارے سے ”ست سری اکال“ اور مندر سے ”رام چندر جی کی جے“ کے نعرے بھی لگا کرتے لیکن ان میں کوئی جوش و خروش نہ تھا۔شاید ہندوؤں اور سکھوں کو معلوم ہو چکا تھا کہ پاک پتن، پاکستان کا حصہ بننے جا رہا ہے۔ شہر کے سارے سکول اپریل کے اواخر میں بند ہو چکے تھے۔ ہمیں گھر سے باہر نکلنے کی اجازت نہ تھی۔وجہ یہ تھی کہ گلی محلوں میں مار دھاڑ شروع ہو چکی تھی۔ ہندو مسلم فسادات کا آغاز ہو چکا تھا اور جوں جوں دن گزر رہے تھے، ہمارا محلہ سنسان ہوتا جا رہا تھا کہ زیادہ گھرانے ہندوؤں اور سکھوں کے تھے۔ اگست شروع ہوا تو محلے کے90فیصد گھروں کو تالے لگ گئے اور ان کے مکین نقل مکانی کر گئے۔سچی بات یہ ہے کہ ہمیں انگریزی مہینوں کے نام بھی نہیں آتے تھے۔ دیسی مہینے البتہ والدہ اور نانی اماں سے سنا کرتے تھے…… چیت، بیساکھ…… جیٹھ ……  ہاڑ…… ساون …… بھادوں وغیرہ وغیرہ۔ ہمیں یہ بھی معلوم نہ تھا کہ پاکستان کیا ہے اور ہندوستان کس بَلا کا نام ہے، گلیوں میں نعرے سُن سُن کر ہندوستان اور پاکستان کے نام یاد ہو گئے تھے۔

پھر ایک روز علی الصبح ہم چھت پر (چار پائیوں پر) لیٹے ہوئے تھے کہ گلیوں میں گویا بھونچال آ گیا۔ ہم ڈر کر بلکہ ہڑبڑا کر اُٹھے۔ ولدین نے نیچے جانے کا حکم دیا اور باہر کے دروازے کو اندر سے کنڈا لگا کر تالا لگا دیا۔ ہمارے بیڈ روم کی دو کھڑکیاں گلی میں کھلتی تھیں۔اس لئے لوگوں کے دوڑنے بھاگنے کی آوازوں کے ساتھ ساتھ کئی بے معنی سی صدائیں بھی بلند ہوئیں ……معلوم ہوا:”لوٹی پے گئی اے“…… مسلمانوں نے ہندوؤں اور سکھوں کے گھروں کے تالے توڑ دیئے اور جس کے ہاتھ جو چیز آئی وہ اٹھا کر بھاگ  اُٹھا۔ ہم کمرے کی کھڑکی کی درزوں سے دیکھ رہے تھے کہ لوگوں نے سروں پر گٹھڑیاں اٹھائی ہوئی ہیں اور ہاتھوں میں مختلف طرح کے سوٹ کیس، اٹیچی کیس اور کنستر وغیرہ پکڑے ہوئے ہیں اور ہر کوئی اپنے اپنے گھروں کو بھاگا جا رہا ہے۔آدھے لوگ خالی ہاتھ آ جا رہے ہیں۔یہ سلسلہ رات گئے تک جاری رہا۔ اگلے روز لوگوں کی بھاگ دوڑ کم ہو گئی اور تیسرے روز اِکا دُکا خلقت دکھائی دی۔اس روز دوپہر کو گھر کے دروازے کا تالا کھلا اور ہمیں باہر جانے کی اجازت مل گئی۔

عجیب ویرانی کا سماں تھا۔ میرے ایک ہندو دوست گوپال کا گھر مندر کے پاس تھا۔ مَیں سب سے پہلے اس گھر میں گیا۔ فرش پر اچار کے مرتبان بکھرے پڑے تھے، کانچ کے برتن، آئینے، بوتلیں اور کتابیں جا بجا بکھری  نظر آئیں۔ ہم نے سب سے پہلے کتابوں کو دیکھا۔ان میں سے زیادہ تر رسالے تھے جن کا نام ”جوگی“ تھا یا شاعروں کے دیوان تھے، یا ہندی رسم الخط میں کئی کتابیں فرش پر پڑی تھیں، کچھ پھٹی ہوئی اور کچھ سالم…… میرے دوست کے بڑے بھائی آنند کی کاپیاں اور کتابیں مَیں نے پہچان لی تھیں۔ ان کی بیٹھک میں آنا جاتا رہتا تھا اور گوپال کے بھائی کی لکھائی وغیرہ کو مَیں پہنچانتا تھا، گھروں کے اندر فرش پر جو اشیا بکھری ہوئی تھیں ان میں سرسوں کا تیل، دالیں، شکر، گڑ، لالٹینیں، پچکے ہوئے پیتل کے کرمنڈل، چمچے، ڈوئیاں، ادویات کی بوتلیں، ٹوٹے ہوئے چرخے، کپاس کی پُونیاں، ہاتھوں کے پنکھے، گھڑے، گھڑونجیاں، پرانے جوتے…… عجیب حسرت ناک مناظر تھے!

والدہ قرآن شریف پڑھی ہوئی تھیں، خط وغیرہ بڑی مشکل سے پڑھ سکتی تھیں۔ والد میٹرک پاس تھے لیکن اُس زمانے کے میٹرک کا نصاب آج کے بی اے، ایم اے سے کم نہ تھا۔ عربی فارسی کے عالم تھے۔ ان کے دور کی انگریزی گرائمر اور کمپوزیشن کی کتابیں تو ہماری گریجوایشن تک کام آئیں۔ سب کی سب انگریزوں کی تصانیف تھیں۔ تاریخ اور جغرافیے کا نصاب بھی انگریزوں کا مرتب کردہ اور رائج کردہ تھا۔ہمارے دور میں پانچ سال سے پہلے کسی بھی بچے یا بچی کو سکول میں داخلہ نہیں ملتا تھا۔پیدائش کا سرٹیفکیٹ دکھانا لازمی تھا جو باقاعدہ میونسپل کمیٹی سے ایشو ہوتا تھا، لیکن جب پاکستان قائم ہوا تو سارے ضابطے اور قانون دھرے کے دھرے رہ گئے۔کوئی کسی سے برتھ سرٹیفکیٹ نہیں پوچھتا تھا۔ پاک پتن میں تین ہائی سکول تھے۔ ایک ہندوؤں کا جس کا نام آریہ سماج ہائی سکول تھا اور دوسرا سکھوں کا جس کا نام سناتن دھرم ہائی سکول تھا۔ مسلمانوں کا کوئی ہائی سکول نہ تھا۔ صرف گورنمنٹ ہائی سکول تھا جس میں ”ذات پات“ کی تمیز نہ تھی۔ بابا فریدؒ کی نگری کے مسلمانوں کے لئے کسی مسلم سکول کا نہ ہونا اور ہندوؤں اور سکھوں کا اپنا اپنا سکول ہونا، پورے برصغیر کے مسلمانوں کی تعلیمی حالت ِ زار کا غماز کہا جا سکتا ہے:

قیاس کن  ز  گلستانِ من، بہارِ مرا

دادا مرحوم مجھے نومبر1947ء میں گورنمنٹ ہائی سکول لے گئے۔ ہمارے لئے وسط اگست سے وسط نومبر1947ء تک کا تین ماہ کا عرصہ ایک بڑا ہی غیر یقینی کیفیات و حالات کا عبوری دور تھا۔جب میرا انٹرویو ہوا تو کلاس انچارج نے پوچھا:”اے بی سی آتی ہے؟“ مَیں نے فر فر سنا دی۔…… پھر انہوں نے کہا:”ایک سے لے کر100تک انگریزی گنتی سناؤ؟“…… مَیں ابھی19تک پہنچا تھا کہ تیسرا سوال آیا:

؟What is your name

 ہم نے تو یہ فقرہ دوسال پہلے سے سن اور اس کا جواب رٹ رکھا تھا جو  فر فر دے دیا…… مَیں نے دیکھا دادا مرحوم میری طرف دیکھ کر مسکرا رہے تھے۔…… میرے بعد سکول میں داخل ہونے والوں کی ایک لمبی قطار تھی جس میں زیادہ لوگ مہاجرین تھے۔ ماسٹر صاحب نے ایک دو کوائف اور پوچھے اور پھر کہا: Next?

وہ تو جب مَیں اگلے روز سکول گیا تو پتہ  چلا کہ مجھے کلاس ششم میں داخلہ مل چکا ہے! اور میرا سن ِ پیدائش بھی ماسٹر صاحب نے اسی حساب سے خود لکھ لیا تھا۔صرف تاریخ ِ پیدائش پوچھی تھی جو دادا جی نے21اپریل بتا دی۔یہ تاریخ ان کو اس لئے یاد تھی کہ یہ علامہ اقبالؒ کی تاریخ ِ وفات بھی تھی اور دادا جی نے اس حوالے سے فرمایا تھا: ”میرا پوتا حضرت اقبالؒ کے نقش ِ قدم پر چلے گا“……اس حوالے سے میری تاریخ ِ پیدائش21اپریل1936ء رجسٹر   داخل خارج میں درج کر دی گئی…… یعنی مَیں 5سال کی عمر میں 11 سال کا ہو گیا…… لیکن چھٹی جماعت کا اہل ثابت کرنے کے لئے کن مشکلات کا سامنا ہوا، اِس کا ذکر پھر کبھی…… انشا اللہ

مزید :

رائے -کالم -