چمگادڑ اور چینی سائنسدان، کورونا وائرس سے دو سال پرانی ویڈیو سامنے آگئی، دیکھ کر لوگ پریشان ہوگئے

چمگادڑ اور چینی سائنسدان، کورونا وائرس سے دو سال پرانی ویڈیو سامنے آگئی، ...
چمگادڑ اور چینی سائنسدان، کورونا وائرس سے دو سال پرانی ویڈیو سامنے آگئی، دیکھ کر لوگ پریشان ہوگئے
سورس:   Screengrab

  

بیجنگ(مانیٹرنگ ڈیسک) کورونا وائرس کی وباءپھیلنے کے بعدسے چینی شہرووہان میں واقع لیبارٹری ’ووہان انسٹیٹیوٹ آف ویرالوجی‘ کانام بار بار آ رہا ہے اورالزام عائد کیا جا رہا ہے کہ کورونا وائرس ممکنہ طور پر اسی لیبارٹری سے کسی طرح لیک ہوکر ووہان شہر میں پھیلا۔ اب اس لیبارٹری کی ایک ایسی ویڈیو سامنے آ گئی ہے کہ دیکھ کر دنیا پریشان ہو گئی۔ ڈیلی سٹار کے مطابق یہ ویڈیو کورونا وائرس کی وباءپھیلنے سے 2سال پہلے کی ہے جس میں ووہان انسٹیٹیوٹ آف ویرالوجی کے سائنسدانوں کو انتہائی بے احتیاطی کے ساتھ چمگادڑوں کو پکڑتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق انہی چمگادڑوں میں کورونا وائرس پایا جاتا ہے اور انہی سے کسی طرح انسانوں میں پھیلا۔ اس ویڈیو میں چین کی معروف سائنسدان شی ژینگ لی کو اپنی ٹیم کے ہمراہ دیکھا جا سکتا ہے جو چمگادڑوں اور کورونا وائرسز پر تحقیق کے حوالے سے شہرت رکھتی ہیں اور اسی مناسبت سے انہیں ’چمگادڑ خاتون‘ (Batwoma)کے لقب سے بھی پکارا جاتا ہے۔ ویڈیو میں سائنسدان ننگے ہاتھوں سے چمگادڑوں کو پکڑے ہوتے ہیں۔کچھ سائنسدانوں نے چمگادڑوں سے لیے گئے سیمپل بغیر کسی احتیاطی تدبیر کے ہاتھوں میں اٹھا رکھے ہوتے ہیں۔ان میں سے کچھ سائنسدانوں نے پورے حفاظتی سوٹ پہن رکھے ہوتے ہیں لیکن بعض نے آدھی آستین والی شرٹس پہن رکھی ہوتی ہیںا ور ان کے چہرے پر فیس ماسک بھی نہیں ہوتے۔

مزید :

بین الاقوامی -کورونا وائرس -