'براڈ شیٹ کا کیس این آر او کی رقم ہے' حماد اظہر کا سینیٹ میں اظہار خیال 

'براڈ شیٹ کا کیس این آر او کی رقم ہے' حماد اظہر کا سینیٹ میں اظہار خیال 
'براڈ شیٹ کا کیس این آر او کی رقم ہے' حماد اظہر کا سینیٹ میں اظہار خیال 
سورس:   File

  

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)وفاقی وزیر صنعت و پیداوار حماداظہر نے کہا ہے کہ براڈ شیٹ کا کیس این آر او کی رقم ہے، براڈ شیٹ کا معاہدہ یہ تھا کہ جتنی پراپرٹی کی نشاندہی ہوگی اس میں سے 20 فیصد کاوے مساوی کو دینی تھی، یہ این آر او کرنے کا معاہدہ ہے جس کا خمیازہ قوم بھگت رہی ہے، پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن نے مشرف کے ساتھ این آر او کیا تھا۔

حماد اظہر نے سینیٹ میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ادارہ شماریات کے مطابق پنجاب میں 20 کلو آٹے کی بوری 860 جبکہ سندھ میں آٹے کی بوری 1100 کی ہے، آٹے کا بحران آیا، صوبائی حکومتوں نے اس پر کام کیا، اکتوبر نومبر تک سندھ نے جو 12 لاکھ ٹن آٹا لیا ہوا تھا وہ ریلیز کرنے سے انکار کیا، سندھ حکومت نے بروقت گندم کی ریلیز نہیں کی، سندھ حکومت کی نااہلی تھی یا دانستہ طور پر ایسا کیا گیا، گنے کا 170روپے ریٹ چل رہا تھا کسان کو 130روپے سے زیادہ ریٹ نہیں دیا جا رہا تھا، تحریک انصاف کے دور میں 230 کے حساب سے گنے کی ادائیگی کی گئی۔

انہوں نے کہا کہ ای سی سی کے آئندہ اجلاس میں پانچ لاکھ ٹن چینی ایمپورٹ کرنے کی درخواست کی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ ن لیگ کی پالیسی کے باعث ڈالرز کا ریٹ بڑھنے سے قرض پر زیادہ بوجھ پڑا، اگر گزشتہ حکومت کے قرضوں پر سود نہ دینا پڑے تو وفاقی حکومت کے اخراجات آمدن سے کم ہیں، کورونا کے لاک ڈاون سے جو بے روزگاری ہوئی ہم بے شمار پیکجز لے کر آئے، مستقبل کے اندر جو مہینے آ رہے ہے ان میں زیادہ روزگار کے مواقع فراہم کرنے پر کام کر رہے ہیں۔

سینیٹ میں پیپلزپارٹی کے اراکین نے حماد اظہر کی تقریر کے دوران شور شرابہ بھی کیا۔

مزید :

قومی -