کیا روسی افواج اخلاق باختہ ہیں؟ 

کیا روسی افواج اخلاق باختہ ہیں؟ 
کیا روسی افواج اخلاق باختہ ہیں؟ 

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

خیرسون (Kherson) جنوبی یوکرین میں ایک بڑا شہر ہے۔ 13جنوری 2023ء کے ”دی نیویارک ٹائمز“ کے بین الاقوامی ایڈیشن کے لئے ایک خاتون رپورٹر نے وہاں سے اپنے اخبار کو جو سٹوری فائل کی ہے اور جو صفحہ اول پر رنگین تصاویر کے ساتھ شائع کی گئی ہے، اِس کے اولین دوپیراگرافوں کا ترجمہ حسبِ ذیل ہے:
”یہ ایک 26 سالہ یوکرینی خاتون مس اولا (Olha) کی نظر بندی کا آٹھواں یا نواں دن تھا۔ اِسے ایک میز کے ساتھ باندھا ہوا تھااور وہ کمر تک برہنہ تھی۔ اِس سے پوچھ گچھ کرنے والا ایک روسی آفیسر 15منٹ تک اِس کو غلظ گالیوں سے نوازتا رہا اور پھر ایک جیکٹ اِس کے اوپر پھینک کر باہر سے سات لمبے تڑنگے مشٹنڈوں کو اندر بلایا اور خود کمرے سے باہر نکل گیا۔وہ خوف کے مارے کانپے جا رہی تھی کہ جانے اب اُس کے ساتھ مزید کیا سلوک کیا جائے گا۔۔۔ پھر جو ہوا وہ ناگفتنی ہے“۔
”کئی ہفتوں بعد یوکرین کی پراسیکیوٹر جنرل نے مس اولا کو اپنے دفتر میں بلایا اور اِس کے ساتھ جو بیتی اِس کی تفصیل ریکارڈ کرنے لگی۔ دورانِ تفتیش اِس سے جبری برہنہ کرنے اور اِس کی آبرو ریزی کی تفصیل سُن کر اِسے یقین ہو گیا کہ روسی افواج جنسی ہراسگی اور ریپ کو ایک جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہی ہیں۔ یہ 33سالہ پراسیکیوٹر جنرل، کیف ریجن، خیر سون ریجن اور ڈونسک ریجن میں جہاں کہیں بھی گئی  اِس کو معلوم ہوا کہ یہ ”ہتھیار“ روسیوں کی طرف سے بڑی ’فراوانی‘ سے استعمال کیا جا رہا ہے اور اب جبکہ ڈونسک ریجن میں نئے روسی آرمی کمانڈر کو تعینات کر دیا گیا ہے تو جنگی جرائم میں جنسی ہراسگی کا ہتھیار اور بھی شدت اور کثرت سے استعمال کیا جائے گا“۔

یہ ایک طویل باتصویر رپورٹ ہے جس میں زیادتی کا شکار ہونے والی خواتین کے نام، عمریں اور تصویریں دی گئی ہیں۔ اِسے پڑھ کر قاری کو ایک گونہ کراہت اور روسی افواج کی سنگدلی اور اخلاقی بے راہ روی سے شدید نفرت ہونے لگتی ہے۔۔۔ اور یہی اِس طرح کی سٹوریوں کا مقصد ہوتا ہے۔۔۔ جب سے روس۔ یوکرین جنگ شروع ہوئی ہے، روسی کمانڈروں کی ہمہ جہت اخلاق باختگی کو اِس طرح نمایاں کرنے پر مغربی میڈیا نے کمرکَس لی ہے!
ایک پرانی عسکری کہاوت ہے کہ:
”جنگ میں پہلی موت ”نسوانی عصمت“ کی ہوتی ہے“۔ اِس میں شک نہیں کہ اِس کہاوت کے ثبوت ہر بڑی چھوٹی جنگ میں دیکھنے اور سننے کو ملتے ہیں۔ روزِ آفرینش سے آج تک اِس کرۂ ارض پر جتنی بھی جنگیں لڑی گئی ہیں اِن میں اِس بربریت کے یہ شواہد بار بار سامنے آئے ہیں لیکن اِن میں ایک استنثاء بھی ہے۔ یہ استنثائی مدت آنحضورؐ کے دور  سے شروع ہوتی ہے اور دورِ عباسیہ کے وسطانی برسوں تک (12ویں صدی عیسوی تک) چلی جاتی ہے۔ قرآن حکیم میں کئی سورتوں میں اِسی موضوع پر ایک مفصل تبصرہ کرکے اِس کا علاج بتا دیا گیا ہے۔ 12ویں صدی عیسوی کے بعد منگولوں کے حملے شروع ہوئے تو اِن میں بھی نسوانی عصمت کا لحاظ موجود تھا۔ یہ لحاظ تورۂ چنگیز خانی میں بھی درج ہے۔ منگولوں نے اِس پر من و عن عمل کیا۔ وہ جنگ میں عورتوں اور بچوں کے قتلِ عام کے تو عادی تھے لیکن خواتین کے خلاف جنسی زیادتی کے ثبوت اگر کہیں ہوں بھی تو وہ بہت ہی کم تعداد میں تھے۔۔۔ منگولوں کا قبولِ اسلام  اور اِن کے صنم خانے سے کعبے کے پاسبان مل جانے کی زمانی عجلت میں یہ عنصر بھی شامل تھا کہ منگول افواج جب کسی ملک پر قبضہ کرتی تھیں تو وہاں کی نسوانی آبادی کی عصمتیں تاراج نہیں کرتی تھیں۔

عرب افواج بھی 632ء کے بعد جب جزیرہ نمائے عرب سے نکل کر چاردانگ عالم میں پھیلیں تو اِن کے مسلم کمانڈروں کا حکم تھا کہ مفتوحہ علاقوں کی جنگی بیوگان کو حبالہء عقد میں لا کر اِن کو وہی حقوق دیئے جائیں جن کے احکام، قرآنِ حکیم میں درج ہیں۔۔۔برصغیر کی مغل افواج کی رگوں میں بھی چونکہ منگولوں کا خون تھا اِس لئے وہ بھی کسی بڑے یا چھوٹے پیمانے پر جنسی بدعنوانی کا شکار نہ ہوئیں لیکن جب مغلوں کو زوال آیا تو نئے فاتحین (برطانوی افواج) نے اِس روایت کو توڑ دیا۔ اِس موضوع پر خود برطانوی مورخین نے بہت سی کتابیں لکھی ہیں۔ دونوں عالمی جنگوں (1914ء تا 1918ء اور 1939ء تا 1945ء) میں برطانوی فوجیوں کو عین حالتِ جنگ میں بھی مختلف محاذوں پر ”خواتین سپلائی“ کے موضوع کو لاجسٹک سپورٹ میں شامل کیا گیا ہے۔
جہاں تک اِن جنگوں میں یورپی محاذ، روسی محاذ اور افریقی محاذ کا تعلق ہے تو وہاں خواتین کی عصمت دری کو ایک عسکری کلچر سمجھ کر اِس کے جبرواکراہ سے صرفِ نظر کیا گیا ہے۔ ذرا اِن عالمی جنگوں میں مارے جانے والے اور زخمی ہونے والے سولجرز اور سویلین کی تعداد کا مطالعہ کریں اور ساتھ ہی جنسی بے راہ روی کے کثرتِ استعمال کے اعداد و شمار پر بھی نظر ڈالیں تو آپ کی آنکھیں کھل جائیں گی۔

یہ امریکی آج یوکرین میں روسی افواج کی جنسی زیادتیوں کو بڑے تسلسل سے یوں پیش کررہے ہیں جیسے اِن کی اپنی چادر بے داغ اور سفید براّق ہو!۔۔۔ دونوں عالمی جنگوں میں یہ امریکی جہاں جہاں بھی گئے، زناء کاری اور بدقماشی کی ایک داستان چھوڑ آئے۔ 1945ء میں جب دوسری عالمی جنگ ختم ہوئی تو امریکی ٹروپس اِن ہاری ہوئی اقوام (جرمن اور جاپانی) کی سرزمین پر ہزاروں کی تعداد میں آج بھی موجود ہیں۔ امریکی ٹروپس کی جنسی زیادتیوں کی اُس تاریخ سے ایک عالم واقف ہے جو وہ جاپان، جنوبی کوریا اور جرمنی میں وہاں کی خواتین پر روا رکھتی رہی ہیں۔ بالخصوص جاپان نے تو بارہا اِس زیادتی کے خلاف آواز اٹھائی ہے۔ یہ معاملہ اقوام متحدہ اور سیکیورٹی کونسل تک گیا ہے لیکن کچھ بھی نہیں ہوا، پرنالہ وہیں کا وہیں ہے۔
دوسری عالمی جنگ میں یوکرین، روس کا حصہ تھا، اِس کے ہزاروں لاکھوں سپاہی اور آفیسرز روسی فوج کی طرف سے جرمن افواج کے خلاف لڑتے رہے اور پھر جب  8مئی 1945ء کو یہ جنگ ختم ہوئی تو سب سے پہلے مشرق کی طرف سے روسی افواج برلن میں داخل ہوئیں۔ مغربی افواج (امریکی اور برطانوی وغیرہ) تو برلن میں روسی افواج کے داخل ہونے کے کئی روز بعد داخل ہوئیں۔ اِن روسی فاتح افواج میں یوکرینی ٹروپس بھی ہزاروں کی تعداد میں تھے۔اُنہوں نے جرمن خواتین کی عصمتیں جس طرح تارتار کیں،اِس کی تفاصیل آپ کو اُن درجنوں کتابوں میں مل جائیں گی جو جنگ کے اختتام کے بعد  کے ایک دو عشروں میں لکھی گئیں۔ اِن کو پڑھ کر آنکھیں کھل جاتی ہیں کہ برلن اور دوسرے جرمن  شہروں میں اِن فاتح اتحادیوں (روسی، یوکرینی، فرانسیسی، امریکی اور برطانوی) نے کیا کیا گُل کھلائے  لیکن۔۔۔ جو سورج طلوع ہوتا ہے اِسے نصف النہار تک پہنچنے کے بعد بھی آخر  غروب تو ہونا ہوتا ہے!۔۔۔

امریکی میڈیا میں آج روسی افواج کے خلاف جو پراپیگنڈہ کیا جا رہا ہے اور اِسے بین الاقوامی سطح پر نشر اور شائع کیا جا رہا ہے، وہ اِن اتحادیوں کا پرانا عسکری حربہ ہے۔ آج کا قاری اب اتنا باخبر ہو چکا ہے کہ وہ اِس قسم کے بے بنیاد الزامات کو حقیقت کی کسوٹی پر پرکھنے میں دیر نہیں لگاتا۔
امریکہ اور یورپ، یوکرین کو آج جو اسلحی امداد پہنچا رہے ہیں وہ بھی خاصی چشم کشا ہے اور اِس کا ذکر ہم انشاء اللہ اگلے کسی کالم میں کریں گے!

مزید :

رائے -کالم -