گل پلازہ آتشزدگی کا المناک سانحہ، سندھ حکومت کی غفلت اور ناکامی کا منہ بولتا ثبوت

گل پلازہ آتشزدگی کا المناک سانحہ، سندھ حکومت کی غفلت اور ناکامی کا منہ بولتا ...
گل پلازہ آتشزدگی کا المناک سانحہ، سندھ حکومت کی غفلت اور ناکامی کا منہ بولتا ثبوت
سورس: Screen Grab

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

کراچی کے تجارتی اور شہری زندگی کے دل ایم اے جناح روڈ پر واقع گل پلازہ میں ہفتے کی رات لگنے والی آگ نے شہر کے تمام حفاظتی دعوؤں کو خاک میں ملا دیا۔ یہ کوئی معمولی حادثہ نہیں تھا بلکہ ایک ایسا المیہ تھا جس نے انسانی جانوں، دکانداروں کے خواب اور اربوں روپے کے تجارتی سرمایہ کو یکجا راکھ میں تبدیل کر دیا۔ اس سانحے نے ایک بار پھر ثابت کر دیا کہ سندھ حکومت کی ”تیاری“ صرف کاغذی بیانات تک محدود ہے اور کراچی کی شہری انتظامیہ کی ”کارکردگی“ عوام کی زندگی کے ساتھ کھیلنے کے مترادف ہے۔

گل پلازہ میں آتشزدگی رات 9:45 سے 10:15 کے درمیان شروع ہوئی اور 1200 سے زائد دکانیں جل گئیں۔ گل پلازہ کی آگ پر قابو پانے کے لیے فائر بریگیڈ کی 22 گاڑیاں، 10 واٹر باؤزرز اور 4 اسنارکل گاڑیاں شامل کی گئیں، مگر ابتدائی گھنٹوں میں پانی کی کمی اور ریسکیو اہلکاروں کی محدود رسائی انسانی جانوں کے ضیاع کی اہم وجہ بنی۔ ریسکیو 1122 کی رپورٹ کے مطابق ابتدائی مراحل میں عمارت میں داخل ہونا انتہائی دشوار تھا۔ فائر بریگیڈ اور ریسکیو 1122 کی محدود رسائی اور پانی کی کمی نے انسانی جانوں کے ضیاع کو ناگزیر بنا دیا۔

چھ افراد جاں بحق اور درجنوں زخمی ہوئے، جن میں ریسکیو اہلکار بھی شامل تھے۔ فائر فائٹر فرقان علی نے اپنی جان قربان کی، مگر یہ قربانی صرف حکومتی ناکامی کو چھپانے کے لیے کافی نہیں تھی۔

کراچی کے شہری اور تجارتی حلقے برسوں سے یہ بات دہراتے آئے ہیں کہ شہر میں فائر سیفٹی کے نام پر کوئی عملی اقدامات نہیں کیے جاتے۔ 2009 میں جیل روڈ کے ”چیز اپ“ اسٹور میں لگنے والی آگ، 2011 میں گلشنِ اقبال صنعتی گودام کی تباہی اور 2013 میں صدر مارکیٹ میں ہونے والی آگ اس بات کی واضح مثالیں ہیں کہ سندھ حکومت ہر حادثے کے بعد ”احتیاطی بیانات“ جاری کرتی ہے، مگر عملی اقدامات کبھی نظر نہیں آتے۔

گل پلازہ میں ریسکیو اور کولنگ کے عمل میں تاخیر، فائر فائٹر فرقان علی کی قربانی اور دکانداروں کی شدید مشکلات اس بات کا ثبوت ہیں کہ حکومتی ادارے صرف حادثے کے بعد ردِعمل دکھاتے ہیں، پہلے سے تیاری نہیں کرتے۔ شہریوں اور تجارتی برادری کی شکایات واضح کرتی ہیں کہ ابتدائی امداد میں ناکامی انسانی اور مالی نقصان میں اضافہ کرتی ہے۔ یہ حکومت کے دعوؤں اور زمینی حقیقت کے درمیان ایک تلخ تضاد ہے۔

گل پلازہ سانحے نے کراچی کی شہری حکومت کی مکمل ناکامی کو بے نقاب کر دیا۔ شہر میں نہ تو نئے فائر اسٹیشنز بنائے گئے، نہ پرانے اسٹیشنز کو اپ گریڈ کیا گیا، نہ ہی فائر فائٹرز کی تربیت یا واجبات میں کوئی بہتری آئی۔ شہریوں کی زندگیاں اور اربوں روپے کی تجارتی سرمایہ کاری خطرے میں پڑ گئی، اور ہر حادثے کے بعد صرف افسوس اور دعائیں دی گئیں۔

گل پلازہ کوئی عام مارکیٹ نہیں بلکہ شہر کے بڑے ہول سیل اور ریٹیل مراکز میں سے ایک تھا۔ آج سینکڑوں دکاندار اپنی زندگی بھر کی کمائی جلتے دیکھ کر بے بس ہیں۔ اگر 2009 میں جیل روڈ حادثے کے بعد مؤثر حفاظتی اقدامات کیے جاتے تو گل پلازہ جیسے سانحات ٹل سکتے تھے، مگر سندھ حکومت کی طویل المدتی غفلت نے انسانی جانوں اور سرمایہ کو خطرے میں ڈال دیا۔

اس المناک حادثے نے ثابت کر دیا ہے کہ بلاول بھٹو زرداری کے ایوانِ صدر میں پیش کیے گئے اعداد و شمار حقیقت سے بہت دور ہیں۔ کراچی میں حفاظت، ضابطہ بندی اور شہری نظم و نسق کی صورتِ حال ایسی ہے کہ جب شہر مدد کے لیے پکارتا ہے تو کوئی سننے والا نہیں ہوتا۔ فائر رسک الاؤنس نہ دینا، واجبات کی عدم ادائیگی اور ناقص انتظامات انسانی جانوں کے لیے سنگین خطرہ ہیں۔

گل پلازہ کے سانحے کے بعد دکاندار اور شہری شدید غم و غصے میں ہیں۔ عوام میں یہ سوال پیدا ہو رہا ہے کہ کیا کراچی میں حفاظتی انتظامات کبھی عملی طور پر نافذ ہوں گے یا ہر بار انسانی جانوں کی قیمت پر یہ شہر ”سبق سیکھنے“ کی مشق کرتا رہے گا؟

یہ سانحہ سندھ حکومت کی طویل المدتی ناکامی اور شہری انتظامیہ کی بے عملی کا زندہ ثبوت ہے۔ پچھلے پندرہ سالوں میں متعدد بڑے حادثات — جیل روڈ 2009، گلشنِ اقبال 2011، صدر مارکیٹ 2013 اور دیگر صنعتی علاقے 2015 تا 2017 — پیش آئے، لیکن ہر بار ردِعمل سست، غیر منظم اور ناکافی رہا۔ نتیجتاً انسانی جانیں ضائع ہوئیں اور اربوں روپے کا تجارتی سرمایہ تباہ ہوا۔

گل پلازہ سانحہ یہ واضح کر گیا کہ کراچی میں حکومت صرف دعوے کرتی ہے، عملی اقدامات نہیں۔ شہری، دکاندار اور صحافی سب اس غفلت کے خلاف غصے میں ہیں۔ مستقبل میں اگر سندھ حکومت اور شہری انتظامیہ نے فوری اور سخت اقدامات نہ کیے تو ہر حادثہ ایک اور المیہ ثابت ہو گا۔

فائر سیفٹی قوانین پر سختی، ریسکیو اسٹیشنز کی اپ گریڈیشن اور شہری آگاہی کے عملی پروگرام وہ ابتدائی اقدامات ہیں جو انسانی جانیں اور تجارتی سرمایہ بچا سکتے ہیں۔ گل پلازہ کی آگ کراچی کے شہری اور تجارتی حلقوں کے لیے ایک تلخ اور المناک یاد دہانی ہے کہ سندھ حکومت اور شہری انتظامیہ کی ناکامی انسانی جانوں اور خوابوں کے لیے کتنی مہلک ثابت ہو سکتی ہے۔

یہ شہر ہر بار اپنی لاپرواہی کی قیمت ادا کرتا ہے، اور گل پلازہ صرف ایک اور سانحہ ہے جس نے عوام کی آنکھیں کھول دی ہیں۔ اس سانحے نے یہ بھی واضح کر دیا کہ اگر حفاظتی اقدامات، ریسکیو تیاری اور فائر سیفٹی قوانین پر وقت پر عمل کیا گیا ہوتا تو انسانی جانوں اور مالی نقصان سے بچا جا سکتا تھا۔

مستقبل میں ضروری ہے کہ سندھ حکومت اور کراچی کی شہری انتظامیہ مکمل طور پر الرٹ رہیں، ہر تجارتی اور صنعتی مرکز میں فائر سیفٹی قوانین نافذ کریں، ریسکیو اداروں کی تربیت اور آلات کو جدید بنایا جائے اور شہری آگاہی کے پروگرام مسلسل جاری رکھے جائیں، ورنہ گل پلازہ جیسے سانحات ایک نہ ختم ہونے والی داستان کی صورت میں دہراتے رہیں گے اور ہر بار اس کی قیمت انسانی جانوں کی صورت میں ادا کی جائے گی۔

نوٹ: یہ مصنف کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں 

مزید :

بلاگ -