طوفانی رات کا سفر

طوفانی رات کا سفر
طوفانی رات کا سفر

  

دو ہفتے سے زیادہ کا عرصہ ہو گیا ہے، لیکن وہ طوفان رات کا سفر نہیں بھولتا۔ واشنگٹن ڈاﺅن ٹاﺅن کے برابر سے گزر کر میری لینڈ سے ورجینیا کی ریاست میں جانے کا تو ہفتے دو ہفتے میں اتفاق ہوتا رہتا ہے، لیکن مغرب کی جانب پنسلوینیا کی ریاست میں جانا میرے لئے بہت غیر معمولی بات ہے۔ نیو یارک جائیں تو پنسلوینیا راستے میں ضرور آتا ہے، لیکن کبھی ادھر سے خا ص طور پر پنسلوینیا کا سفر نہیں کیا اور اب جب سفر کرنے کا ایک بہانہ میسر آیا تو اتنا معلوم تھا کہ یہ یقینا ایک دلچسپ ایڈونچر ہو گی، لیکن اپنے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ یہ ایڈونچر ایک طوفانی بارش میں بدل جائے گی اور اسی طوفان میں سے گزر کر رات کا سفر کر کے گھر واپس آنا پڑے گا۔

بزم سخن والے ناصر جمیل ہمیشہ اپنی ادبی مجلسوں میں یا د کرتے ہیں اور اگر مشاعرہ ہو تو پھر بھی مجھے وہاں اپنا کلام سنانے کی دعوت دیتے ہیں۔ مَیں کبھی نہ جاتا، لیکن میری خواہش ہوتی ہے کہ اُن کے سالانہ مشاعرے کو مس نہ کروں۔ اُن کی ای میل آئی اور مَیں نے فوراً ہاں کر دی، لیکن بعد میں غور کیا کہ اس بار یہ سالانہ مشاعرہ ورجینیا میں نہیں، بلکہ پنسلوینیا کے دارالحکومت ہیرس برگ میں ہو رہا ہے اور وقت بھی رات کا ہے۔ سو میل سے زائد کے فاصلے پر ایک اجنبی ریاست میں رات کی تقریب میں شرکت کیسے ہو گی؟

یہ مشاعرہ دراصل ایک تین روزہ سالانہ جلسے کی پہلی رات کو ہو رہا تھا۔ یہ جلسہ کن کا تھا یہ مَیں بعد میں بتاﺅں گا، لیکن مجھے یقین تھا کہ اس میں میرے تعلق والے بہت سے قافلے جائیں گے۔ آخر جہلم کے چودھری کام آئے۔ قریبی ٹاﺅن سلور سپرنگ سے علاقے کے معروف سوشل ورکر اور رئیل سٹیٹ کے بزنس مین عبدالقادر چودھری نے فون کر کے ایک وقت بتایا اورکہا کہ”میاں صاحب! مقررہ وقت پر اپنا بستہ تیار رکھیں، ایک گاڑی آپ کو گھر سے اُٹھا لے گی اور پھر راستے میں مَیں بھی مل جاﺅں گا“۔ میرے جلسے میں جانے کی خبر نشر ہو چکی تھی، فون پر آفرز آنے لگیں۔ جرمن ٹاﺅن سے میرے بہت پیارے دوست ڈینٹیسٹ ڈاکٹر وقار چودھری نے دعوت دی کہ وہ اپنی فیملی کے ساتھ جا رہے ہیں اگر بندوبست نہیں ہے، تو مَیں آ جاتا ہوں اور پھر ہیرس برگ میں میرے ساتھ ہی ہوٹل میں ٹھہر جائیں۔ مَیں نے شکریہ ادا کرتے ہوئے جہلم کے اس دوسرے چودھری کو بتایا کہ اُن کے ہی ”گھر آئیں“۔ عبدالقادر چودھری نے جانے کا بندوبست بھی کر رکھا ہے اور وہاں ہالی ڈے اِن ہوٹل میں اپنے ساتھ بکنگ بھی کرا رکھی ہے۔ اس طرح ہم بڑے امن سکون کے ساتھ ہیرس برگ پہنچ گئے۔ اس اہم تجارتی اور صنعتی شہر کے مرکز میں واقع ایک تجارتی نمائش کا مرکز ”ایکسپو ٹریڈ شو سنٹر“ جہاں یہ جلسہ ہو رہا تھا اتنا بڑا تھا کہ اس کی پارکنگ سے مرکزی دروازے تک پہنچنے کے لئے آٹو رکشا کی شٹل سروس چل رہی تھی، اندر ڈائننگ ہال میں مہمانوں کی خاطر تواضع کے لئے مسلسل روایتی دیسی ولائتی کھانوں کے علاوہ چائے کافی پانی اور سنیک کا اہتمام تھا۔

یہ جلسہ ایک خاص عقیدے کی کمیونٹی کا تھا اور مَیں دراصل اس جلسے میں نہیں، بلکہ اس مقام پر منعقد ہونے والے مشاعرے میں شرکت کے لئے آیا تھا۔ جلسہ گاہ میں جانے کا موقع تو نہ ملا، لیکن سپیکر پر تقریروں کی آوازیں آ رہی تھیں، جلسہ گاہ سے منسلک تجارتی اور سماجی اداروں کی نمائش گاہ کا چکر ضرور لگایا۔ یہاں سوشل ورک کرنے والے اداروں کے مخلص اور انتھک محنتی عہدیداروں سے مل کر احساس ہوا کہ دُنیا کا نظام ہی شاید اس لئے چل رہا ہے کہ اس میں کسی لالچ اور منافع کی خواہش سے بے نیاز ہو کر سماج کی حقیقی خدمت کرنے والے ادارے اور افراد موجود ہیں۔

 Humanity First امریکہ کا ایک نامور فلاحی ادارہ ہے، جو دُنیا کے مختلف ممالک میں سماجی خدمات کے منصوبوں پر عمل کر رہا ہے، جس کی تفصیل کے لئے ایک الگ کالم کی ضرورت ہے۔ اس کے ڈائریکٹرآف فنڈریزنگ فتح یوشمس نے اپنے ادارے کے بارے میں مو¿ثر بریفنگ دی۔ اس کمیونٹی کے قومی ترجمان حارث ظفرملے۔نیوجرسی کے نوجوان ڈاکٹر کاشف چودھری سے ملاقات تو اب اچھی خاصی دوستی میں تبدیل ہوچکی ہے،جو اس کمیونٹی کے نیو جرسی چیپٹر میں ڈائریکٹر پبلک افیئرز کے طور پر کام بھی کررہے ہیں۔

یہیں پر اپنی صحافت کے ابتدائی دنوں کے لاہور کے دوست مبارک احمد بھی اتفاق سے مل گئے جو اس وقت نوائے وقت کے ایک سرگرم فوٹوگرافر تھے اور آج کل امریکہ کی ریاست جارجیا میں رہتے ہیں۔ان سے پرانی یادیں تازہ کیں اور ساتھ میں ان کی زندگی میں وارد ہونے والے دُکھ بھرے قصے بھی سنے۔ان ساری وارداتوں سے گزرنے کے بعد چار بیٹیوں کے باپ مبارک اب اپنی سب سے بڑی بیٹی کے پاس مطمئن اور آسودہ زندگی گزار رہے ہیں۔

مشاعرے میںمَیں نے مختلف غزلوں سے منتخب کئے گئے کچھ اشعار کے علاوہ ایک آزاد نظم سنائی ،جس کے ایک سٹینزے میں جب ایک طوفان کا حال بیان کر رہا تھا تو مجھے چنداں خبر نہ تھی کہ سچ مچ کا ایک اور طوفان اسی رات راستے میں پیش آنے والا ہے۔طوفان سے متعلق لائنیں کچھ اس طرح تھیں کہ

”یکایک یہ طوفاں کہاں سے اُٹھاہے،

جس نے میرا پورا وجود لرزا دیا ہے

میرے گرد کرب سے چیختی ہواﺅں کا شور بڑھ رہا ہے

جو میرے دل سے گلاب چہرے اڑا کر لئے جارہی ہیں“

مشاعرہ ختم ہوا۔ دوستوں نے بتایا کہ ہوٹل میں رہائش کا انتظام ہے۔ایک گاڑی اسی رات واپس جارہی تھی ۔مَیں نے اُن کے ساتھ واپسی کا پروگرام بنا لیا کہ میری سب سے چھوٹی بیٹی بسما اور میری بیگم گھر میں میرے منتظر تھے اور ان کی طرف سے رات باہر ٹھہرنے کی چھٹی نہیں ملی تھی۔باہر نکل کر گاڑی میں بیٹھے تو بارش ہورہی تھی،ابھی سفر شروع ہی ہوا تھا کہ یہ بارش طوفان میں تبدیل ہوگئی۔کڑکتی بجلیوں، تیزہواﺅں کے جھکڑ اور موسلا دھار سے بھی کئی قدم آگے کی بارش میں گاڑی محتاط انداز سے رواں دواں تھی۔بسما درختوں کے جڑ سے اکھڑ کر سڑکوں اور عمارتوں پر گرنے اور بجلی کی بندش کی خبریں سنا رہی تھی اور ہمارے بارے میں فکر مند ہورہی تھی۔

کئی سالوں کے بعد آنے والا اتنا خوفناک طوفان اسی رات ہی آنا تھا،جس رات میں ایک بجے گھر پہنچا۔ گھر میں داخل ہوکر خدا کا شکر ادا کیا۔خیر خیریت سے گھر پہنچنے کا، مبارک سے مبارک ملاقات کا اور کاشف چودھری سے پرکشف تعارف کا۔

[اظہر زمان ممتاز سینئر صحافی اورادیب ہیں اور واشنگٹن میں روزنامہ”پاکستان“ کے بیوروچیف ہیں]  ٭

مزید :

کالم -