مسلح افواج سے کیساسلوک کرنا چاہیے؟ (2)

مسلح افواج سے کیساسلوک کرنا چاہیے؟ (2)
مسلح افواج سے کیساسلوک کرنا چاہیے؟ (2)

  

 ان مثالوں سے فوج کی اعلیٰ قیادت کے اخلاقی رویوں کے افلاس کی بھی نشاندہی ہوتی ہے۔ مسلح افواج کی ٹاپ لیڈرشپ کے انہی رویوں نے بھارت کے بیورو کریٹس کو خود یہ اجازت دی کہ وہ ان پر اپنا کنٹرول کَس کے رکھیں۔آج ہماری مسلح افواج کا حال یہ ہے کہ ملک کے پالیسی ساز کلچر میں ان کا بالکل کوئی رول نہیں ۔تینوں سروسوں کے چیفس کا کوئی براہ راست رابطہ (برائے پالیسی سازی) ملک کی اعلیٰ ترین سیاسی قیادت سے نہیں۔ان کو کہا جاتا ہے کہ اگر وہ بات کریں بھی توسیکرٹری دفاع کے توسط سے کریں۔ لیکن اس کلچر میں ایک بڑی قباحت ہے۔اس میں تو کوئی شک نہیں کہ کسی بھی جمہوری ملک میں ، مسلح افواج پر سویلین کنٹرول ہونا چاہیے، لیکن اس سویلین کنٹرول کو بیورو کریٹک کنٹرول ہرگز نہیں بنانا چاہیے!

یہاں لارڈ ماﺅنٹ بیٹن کو یاد کرنا بے جا نہ ہوگا۔انہوں نے اپنے وزیراعظم پنڈت نہرو کو بھارت کے سروسز چیفس کی اہمیت پر ایک گراں قدر اور سبق آموز مشورہ دیا تھا....جب وفاقی سیکرٹریوں کی کمیٹی نے یہ سفارش حکومت کو پیش کی کہ باقی وزارتوں کی طرح، وزارتِ دفاع کے سیکرٹری کا سٹیٹس بھی تینوں سروسوں کی چیفس سے بالاتر ہونا چاہیے تو ماﺅنٹ بیٹن نے اس پر فوراً اعتراض کیا اور کہا کہ کسی بھی وفاقی سیکرٹری کو ملک کے کسی سروس چیف کے ساتھ برابری کا درجہ نہیں دیا جا سکتا،چہ جائیکہ ان کو سروس چیف سے بالاتر سٹیٹس دیا جائے۔ان کا استدلال تھا کہ سروسز چیفس ملک کی خود مختاری اور وحدت کے ذمہ دار ہوتے ہیں اور قومی سیکیورٹی کے باب میں ان کا کردار، کلیدی اہمیت کا حامل ہوتا ہے۔اس لئے ان کا سٹیٹس، ان کی ذمہ داریوں کے شایانِ شان ہونا چاہیے اور ان کو ملک کے وزیراعظم تک ہر وقت براہ راست رسائی کا حق ہونا چاہیے، جیسا کہ دنیا کی دوسری جمہوریاﺅں میں ہوتا ہے۔

نہرو نے اپنے گورنر جنرل کی یہ منطق تسلیم کرلی تھی اور تینوں سروسوں کے چیفس کو وزارت دفاع کے سیکرٹری سے بالاتر سٹیٹس دینا منظور کرلیا تھا۔یہ طریقہ کار آج بھی ویسا ہی ہے،ہر چند کو مرورِ ایام کے ساتھ اب سروسز چیفس کے اس سٹیٹس کو گھن لگ گیا ہے۔

اور اب تو نوبت یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ کوئی بھی سروس چیف قومی سلامتی جیسے نازک موضوع پر لب کشائی نہیں کرسکتا....جی ہاں وہی قومی سلامتی کہ جس کی ذمہ داری میں اس سروس چیف کا سب سے زیادہ حصہ ہوتا ہے!....اگر کوئی سروس چیف ایسا کر بیٹھے تو اس پر ہر طرف سے پتھر برسنے شروع ہوجاتے ہیں۔وہ جس وقت بھی اپنی قومی مقدورات (Capabilities)کے بارے میں کوئی بیان دینا چاہئیں، وہ مقدورات خواہ بمقابلہ چین اور پاکستان بھی کیوں نہ ہوں، ان کی سرعام حوصلہ شکنی کی جاتی ہے۔

ائر چیف مارشل نائیک (Naik)جو اب ریٹائر ہوچکے ہیں،ان کو اس وقت سخت ڈانٹ پلائی گئی جب انہوں نے پاکستان کی اس شیخی پر تبصرہ کیا تھاکہ پاکستان نے انڈیا کی روائتی عسکری برتری کا علاج کرنے کے لئے ٹیکٹکل سطح کے جوہری وارہیڈز تیار کرلئے ہیں۔ائر چیف نے صرف یہ بیان دیا تھا کہ : ” جوہری ہتھیار خواہ ٹیکٹکل ہوں یا سٹرٹیجک ، وہ جوہری ہتھیار ہی ہوتے ہیں۔ پاکستان کو کسی ”بھلیکھے“ میں نہیں رہنا چاہیے۔حالات کچھ بھی ہوں، انڈیا کا جواب پاکستان کی جوہری صلاحیت کے خلاف وہی رہے گا جو پہلے تھا“....کچھ ایسا ہی سلوک انڈین آرمی چیف، جنرل پدمانابھن کے اس بیان پر ان کے ساتھ بھی کیا گیا۔ہمارے وزیر دفاع نے اپنے آرمی چیف کو اس وقت جھاڑ دیا تھا،جب آرمی چیف نے یہ بیان دیا تھا کہ ”پاکستان، اپنے جوہری ہتھیاروں کی بنیاد پر بھارت کو بلیک میل نہیں کرسکتا“۔اور ہاں جب ہمارے آرمی چیف سے یہ سوال پوچھا گیا تھاکہ جس طرح کا شب خون امریکہ نے پاکستان میں اسامہ بن لادن کی ”مستورگاہ“ (Hide-out) پر مارا ہے ،کیا ویسا ہی شب خون، انڈیا پاکستان پر نہیں مار سکتا توجنرل نے اس کا جواب اثبات میں دیا تھا....آپ بتایئے کہ انہوں نے کیا غلط بات کی تھی،جس پر ان کو جھاڑ پلائی گئی ؟....تینوں مسلح افواج کے سربراہوں کو گاہے بگاہے، قومی سلامتی کے موضوع پر اس قسم کے بیانات دیتے رہنا چاہیے، تاکہ عوام کا اعتماد قائم اور مورال اونچا رہے۔

انڈیا کی مسلح افواج دنیا بھر میں ایسی افواج سمجھی جاتی ہیں، جن کا کوئی سیاسی ارمان نہیں، وہ ازسرتاپا غیر سیاسی متصور کی جاتی ہیں۔انہوں نے ہمیشہ حکومت کا ساتھ دیا ہے، حکومت کی وفادار رہی ہیں اور یہ جو ماضی ءقریب میں افواہ اڑی تھی کہ فوج کا ایک آمرڈبریگیڈ دہلی کی طرف مارچ کررہا تھاتو یہ محض ایک افواہ تھی،جس میں کوئی صداقت نہیں تھی۔ایسا پہلے بھی ایک بار اس وقت ہوا تھا،جب نہرو کا انتقال ہوا تھا اور ایک آرٹلری بریگیڈ رینج فائرنگ کے لئے دہلی کی طرف کوچ کررہا تھا۔وابستہ مفادات نے اس وقت بھی افواہ اڑائی تھی کہ فوج مارشل لاءلگانے جارہی ہے۔اس واقعہ نے سیاستدانوں اور فوج میں اعتماد کے فقدان کی خلیج مزید وسیع کردی تھی۔

سچی بات یہ ہے کہ بے جا دھونس کا یہ انداز جو مسلح افواج کے ساتھ برتا جارہا ہے،لانگ ٹرم میں ملک کے مفاد میں نہیں۔فوج کے سربراہ کا”ادارہ“ جو کبھی نہایت وقار اور احترام کا گہوارہ گردانا جاتا ہے، بُری طرح مجروح ہوچکا ہے۔ملک کی مسلح افواج اور ان کے سربراہوں کی سرِعام تضحیک کا یہ سلسلہ اب بند ہونا چاہیے۔....اسی میں سب کی بھلائی ہے!

........................

قارئین گرامی! آپ نے دیکھا بھارت کے ریٹائرڈ سینئر آفیسرز اپنے سیاستدانوں سے کتنے ناخوش ہیں!....اس آرٹیکل میں جن واقعات کا ذکر کیا گیا ہے ، وہ ہرگز متنازعہ نہیں۔ان واقعات کی صداقت اظہر من الشمس ہے۔فوج کی سینئر قیادت پر جب سیاسی دھونس اور دھاندلی کا یہ عالم ہوگا تو جونیئر افسر کیا سوچیں گے اور سپاہی رینک کی سوچ کیا ہوگی؟یہ آپ خود ہی سوچ لیں۔

فوج کی سینئر قیادت یا جونیئررینک کو باعث طنزو تشنیع گرداننا اور اس کی تضحیک کرنا کبھی بھی مستحسن نہیں ہوتا۔ پاکستان میں مارشل لاءکے بار بار کے نفاذ نے پاکستانی عوام و خواص کو ضرور بددل کیا تھا(اور اس کی وجوہات تھیں) لیکن ہمارے ”سویلین مہربانوں“ نے گزشتہ چار برسوں میں فوج کو جس طرح نشانہ تضحیک بنایا ہے،وہ سب کے سامنے ہے،لیکن ان چاربرسوں میں خود یہ لوگ جس طرح نشانہ ءتضحیک بنے ہیں،وہ بھی کسی سے پوشیدہ نہیں۔جمہوریت کا مطلب اگر ”عوام کی حکومت، عوام کے ذریعے اور عوام کی خاطر“ بتایا جاتا ہے تو وہ ثبوت کہاں ہے؟جمہوریت کے لبادے میں اگر سویلین انتظامیہ بدترازمارشل لاءگورننس کا مظاہرہ کرے تو اس کے بارے میں آپ کیا سوچیں گے؟....ہم نے چار بار مارشل لاءدیکھ لیا اور سویلین حکومت کے ادوار کا بھی مزہ چکھ لیا۔اب ہم اگر دونوں طرز ہائے حکومت کو کنڈم کریں تو تیسرا طرزِ حکمرانی کیا ہوگا اور کہاں سے آئے گا؟کیا اس کے لئے کسی غیر ملکی کو آواز دینا پڑے گی یا وہ خود ہی دندناتا ہوا آدھمکے گا۔میں اس موضوع پر جتنا بھی غور کرتا ہوں، اتنا ہی ژولیدہ خیالی کا شکار ہوجاتا ہوں۔فوج اگر بد ہے تو سویلین حکمرانی بدتر ہے اور اگر سویلین حکمرانی بدتر ہے تو کیا ازسرنو کسی فوج کو آواز دینا بدترین نہ ہوگا؟

مجھے خدشہ ہے کہ فوج اگر پانچویں بار آ گئی تو کم از کم اپنی سابقہ رسوائی کا ازالہ کرنے کے لئے ہی سہی، ایسے اقدامات کرنے پر مجبور ہوگی جو شائد نہایت بھیانک اور ہولناک ہوں۔فوج کو اب یہ تہمت اپنے سرنہیں لینی چاہیے۔کوئی ایسا راستہ نکالنا چاہیے جو عوام کی فلاح اور اس کی بہبود کی طرف جائے۔ساری گلیاں، سارے کوچے اور قریہ و بازار بند کردیں تو محصورینِ شہر کا کیا بنے گا؟کوئی تو راستہ کھلا رکھیں۔اس راستے کی نشاندہی کرنے میں کیاہرج ہے؟.... اپنے پیٹی بھائیوں سے گزارش ہے کہ وہ اس راستے پر بھی اپنے ارشاداتِ گرامی سے نوازیں۔(ختم شد)

مزید :

کالم -