دیسی خواب

دیسی خواب
 دیسی خواب

  



 ہر سال جب چار جولائی آتا ہے، امریکی یوم ِ آزادی مناتے ہیں تومَیں حیران ہو کر سوچتی ہوں کہ امریکہ میں مقیم کتنے پاکستانی اپنے دیسی خوابوں آرام اور آسائش کی زندگی بسرکرنا کو حقیقت کا روپ دینے کے قابل ہو سکے ہیں۔ پاکستان میں رہنے والوںکے لئے امریکہ کے ٹکٹ کا مطلب خوابوںکی سنہری سرزمین میں داخل ہونا ہے، جبکہ پاسپورٹ ملنے کا مطلب جنت مکانی ہے۔ چند ایک نہیں ،بلکہ ہزاروں ایسے افراد ہیں جو پاکستان کو خیر باد کہہ کر امریکہ میں آبا د ہونے کاخواب دیکھتے ہیں، تاہم بہت کم افراد بحر ِ اوقیانوس کے اس پار آنے میںکامیاب ہوتے ہیں۔ امریکہ میں آباد ہونے والوں کی تاریخ سفر، جدوجہد، مصائب، ناکامی، تنہائی اورنسلی امتیاز سے عبارت ہے۔ اگرکوئی اس کو افسانے کا روپ دے سکے تو وہ آسانی سے اعلیٰ ادبی ایوارڈ ، جیسا کہ Pulitzer Prizeجیت سکتا ہے۔

وہ لوگ جو 9/11 سے پہلے یہاں آکر آباد ہوئے کے لئے کامیابی کا ایک سادہ سا اصول کارفرما تھامحنت کریں اور خوشحالی کی زندگی بسر کریں۔ کچھ لوگ بہت آگے نکل گئے، کچھ درمیان میںہی رہے ،جبکہ زیادہ تر کو محنت مزدوری ہی کرنا پڑی،تاہم 9/11 کے بعد تبدیل ہونے والے حالات میں پاکستانیوںکے لئے زمینی حقائق تبدیل ہو گئے۔ اب ان کو احساس ہو گیا کہ ملازمت کے لئے ان کی درخواست پر غور کیے بغیر ردی کی ٹوکری کے حوالے کر دیا جائے گا، ان کا نام اور چہرہ شکوک و شبہات کو جنم دے گا اور ان کو اپنے مذہب کے ساتھ وابستگی اس معاشرے ، جہاں وہ رہتے ہیں، کے لئے ناقابل ِ قبول بنا دے گی۔

وہ بہت دشوار وقت تھا اور مجھے یاد ہے کہ میںنے بہت سے پاکستانیوں ، جن کو معمولی جرائم میں پکڑ کر جیل میں ڈالا گیا تھا اور پھر ان میںسے بہت سوں کو امریکہ سے نکال دیا گیا کیونکہ وہ یہاں آنے کا کوئی قانونی ثبوت نہیںدے سکے تھے، کے انٹرویوز لئے۔ جب ان کے اہل ِ خانہ ان کو اَئیر پورٹس پر لینے گئے تو وہ افراد توہین آمیز طریقے سے قیدیوںکے نارنجی لباس میں ملبوس تھے ،جبکہ اُن کے ہاتھ ہتھکڑیوں میںجکڑے ہوئے تھے۔ اس وقت کے صدر ِ پاکستان ، پرویز مشرف، اور امریکہ میں پاکستانی مشن نے شرمناک طریقے سے ان بدقسمت افراد سے خود کو لا تعلق کر لیا۔ ان نکال دیے جانے والے خاندانوںکی جو کہانیاں میںنے سنیں وہ تکلیف دہ اور شرمناک تھیں۔ صرف غیر قانونی طریقے سے آنے والوں کو ہی نہیں، بلکہ وہ بھی جو قانونی طریقے سے آئے تھے ، کوامریکہ آنے کے فیصلے پر پچھتانا پڑا۔ ان میں سے بہت سے پاکستان واپس لوٹ گئے۔

آج دیسی خواب(مالی خوشحالی) کی تعبیر امریکی خواب میں تلاش کرنے والو ں کو سرمایہ دارانہ نظام کی سرد مہری سے واسطہ پڑتا ہے کیونکہ اس نظام نے دولت اور آسائشوںکے اعتبار سے عدم مساوات کو فروغ دیا ہے۔ ”ٹائم میگزین “ کے کالم نویس جان میکم (Jon Meacham) لکھتے ہیں ”بے روز گاری کی شرح بہت زیادہ ہے ،جبکہ ملک کے طویل المدت کے مالی معاملات خطرے سے دوچار ہیں۔ امریکی سیاسی نظام ان مسائل کے حل کے لئے کوئی مربوط حکمت ِ عملی نہیںرکھتا ہے۔“

”امریکی خواب “ کی اصطلاح کیسے ٹکسال ہوئی ؟ 1931 میں مشہور مورخ جیمز ایڈم نے اپنی کتاب”The Epic of America“ میں سب سے پہلے اس اصطلاح کو استعمال کیا۔ وہ لکھتے ہیں” یہ اس خواب کو حقیقت کا روپ دینے کا نام ہے کہ ایک ریاست قائم کرنی ہے جہاں ہر کوئی اپنی صلاحیت کے مطابق اچھی زندگی گزارنے کے مواقع تلاش کر سکے۔“اس کا مطلب ہے کہ یہاں مالی وسائل کی مساوات نہیں ہو گی ،بلکہ ہر شخص اپنی محنت اور صلاحیت کے مطابق حاصل کر سکے گا۔ اس خواب ، چاہے امریکی ہو یا دیسی، کا سب سے اہم حصہ یہ ہے کہ ہر کسی کو ملازمت مل جائے اور وہ مستقل نوعیت کی ہو۔ اس نومبر میں وائٹ ہاﺅ س کے لئے جنگ اس نکتے پر مرتکز ہے کہ کتنے امریکیوں کو ملازمت حاصل ہے ، کتنے لوگ اپنے اہل ِ خانہ کے لئے میز پر کھانا رکھ سکتے ہیں اور کتنے افراد اپنے مکان کا کرایہ یا قسط ادا کر سکتے ہیں ؟ تاہم ملازمتیں بہت کم ہیںکیونکہ امریکہ کے سپر سٹورز پر فروخت ہونے والی ہر چیز چین کی بنی ہوئی ہے۔ جس لیپ ٹاپ پر میںیہ کالم ٹائپ کر رہی ہوں ، چین کا بنا ہوا ہے(مترجم کا بھی وہیں کا ہے)۔ ”ایپل “ کمپیوٹر اور آئی فون کے بانی سٹیو جابز مرحوم نے چین سے 30,000 ماہرین کو ملازمت دی کیونکہ چین کے ماہرین امریکی ماہرین سے کم تنخواہ پر کام کر لیتے ہیں۔

امریکہ ایک دو راستوں والی گلی ہے۔ ایک طرف تو یہ چین اور بھارت کے ماہرین کے کرنے کے لئے ان کے ملک کام بھیج رہی ہے تو دوسری طرف یہ انہی ممالک کے ہزاروں ماہرین کو اپنے ہاں بلا بھی رہی ہے۔ زیادہ تر کمپنیاں مقامی امریکیوںکو ملازمت دینے کی بجائے غیر ملکیوں کو ترجیح دیتی ہیں۔ نیو جرسی، جس ریاست میں میںرہتی ہوں، چینیوں اور بھارتیوںسے بھری ہوئی ہے۔ یہ لوگ امریکی نظام میں بڑے آرام سے اپنی آبادیاں قائم کرکے اپنی مرضی کی زندگی بسرکررہے ہیں۔ ان کی زندگی کامیابیوںکی کہانی ہے۔ ان کے پاس بڑے بڑے گھر اورجدیدترین گاڑیاں ہیں اور یہ اپنے مذہبی اور روایتی تہوار بڑی شان و شوکت سے مناتے ہیں۔ حالیہ سروے کے مطابق ایشیا سے تعلق رکھنے والے امریکی باشندوںکی تعداد لاطینی امریکیوںسے بھی زیاد ہ ہو چکی ہے ،جبکہ ہر سال تارکین ِ وطن گروہ در گروہ امریکہ میں چلے آرہے ہیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق ایشیا سے آنے والے باشندے” زیادہ پیسہ کماتے ہیں کیونکہ وہ زیادہ تعلیم یافتہ ہوتے ہیں ۔ اس لئے ان کی حالت دوسرے ممالک سے آنے والوںکی نسبت بہترہوتی ہے۔“تاہم اس فہرست میں پاکستانی شامل نہیں ہیں یہ چینی، بھارتی، جاپانی، کورین، فلپائنی اور ویت نامی باشندے ہیں۔ اس میں حیرانی کی بات نہیںکہ آپ کو امریکہ میں بہت کم پاکستانیوںکی آبادیاں ملیںگے۔ میرے علاقے میں ایک دو ڈاکٹر ز، ایک ریستوران چلانے والا اور ایک سٹور چلانے والا پاکستانی ہیں۔ پاکستانی جس جگہ آپس میں ملتے ہیں وہ اسلامی سنٹر ہے جہاں وہ جمعے کی نماز یا نماز ِ جنازہ کے لئے اکٹھے ہوتے ہیں۔

چنانچہ امریکہ میں آنے والے پاکستانیوںکے لئے میر ا مفت کا مشورہ ہے کہ وہ جب امریکی سرزمین پر قدم رکھیں تو ” دیسی خواب“ سے دستبردار ہو جائیں۔ یہ خواب کوئی ایک عشرہ پہلے چکنا چور ہو چکا ہے۔اگر آپ کے پاس یہاں آنے سے پہلے کسی ملازمت کی ”پکی “ پیش کش نہیں ہے اور آپ کا خیا ل ہے کہ نیو یارک پہنچ کر ”کام “ تلاش کر لیںگے تو میرا پھر مشورہ(ایک مرتبہ پھر مفت ) ہے کہ آپ بہت سا انرجائل یا گلوکوز ڈی یا آپ کے ہاں توانائی بہم پہنچانے والا جوبھی مشروب آسانی سے دستیاب ہو، جی بھر کے پی لیں کیونکہ آپ یقینا اٹھارہ گھنٹے روزانہ کام کرنے کے عادی نہیںہیں۔ ویسے اگر آپ کاخیال ہے کہ یہاں آکر آپ گھرمیں صفائی(صفایا نہیں) کرنے یا لان میں گھاس کاٹنے یا جھاڑ جھنکار صاف کرنے یا اسی قبیل کے دوسرے کام کرنے کے لئے خود کو آمادہ کر چکے ہیں تو پھر یہ خیال ذہن سے نکال دیں کیونکہ یہ سب کام ہسپانوی باشندوںنے سنبھال رکھے ہیں۔

گزشتہ چار جولائی ایک گرم دن تھا۔ میرے تمام ہمسائے آزادی کی تقریبات منانے گئے ہوئے تھے۔ میں گھر میں ہی تھی اور کھڑکی سے باہر دیکھ سکتی تھی کہ اس شدید گرمی میں بھی کچھ ہسپانوی باشندے گالف کے میدان ( جو میری کھڑکی کے پاس ہی ہے) میں گھاس کاٹ رہے تھے۔ اس وقت گالف کھیلنے والے خواتین اور حضرات تعطیلات پر تھے۔ وہ لوگ جو کسی اور جگہ پر نہیں جاسکتے تھے وہ مال پر جا کر رعایتی نرخوں پر چیزوں کو خریدرہے تھے (امریکہ میں خصوصی مواقع پر چیزیں ڈیل پر مل جاتی ہیں )۔ ہر سٹور نے سامنے ونڈو پر لفظ ”Sale“ جلی حروف میں لکھا ہوا تھا۔ مجھے بھی بہت سے فروخت کنندگان کی طرف سے کوپن وصول ہوئے تھے کہ میں کم قیمت میں وہ چیز خرید سکتی تھی۔

امریکی میڈیا ، خاص طور پر ”نیویارک ٹائمز “ کامیابی کی کہانیوں کو زیادہ جگہ دیتا ہے۔ اس ضمن میں یہ اس بات کی بھی تخصیص نہیں برتتا کہ آپ مسلمان ہیں اور امریکہ میں روایتی انداز میں شادی رچا رہے ہیں ،جبکہ دولہا نے زری سے کاڑھی ہوئی اچکن پہنی ہوئی ہے اور سر پر دیو ہیکل پگڑی باندھی ہوئی ہے اور دولھن نے لہنگا زیب تن کیا ہوا ہے۔ گزشتہ اتوار کو ”نیویارک ٹائمز “ کے Vows' سیکشن میں نعمان ودیا اور ثوبیہ ہملانی کی شادی کی تصاویر شائع ہوئی تھیں ۔ ان کے ساتھ عبارت اس طرح تھی” دولہن کی والدہ اسے گلے سے لگاکر قرآن کے سائے میں رخصت کرتی ہے۔“دوسری تصویر میں یہ جوڑا امام صاحب کے ساتھ تھا۔ دولہاکے اہل خانہ بھارت سے ہجرت کرکے آئے ہیں ۔ مسٹر ودیا ھاروڈ کے گریجوئیٹ ہیں ،جبکہ ٹفٹس یونیورسٹی آف میڈیسن سے ریڈیوالوجسٹ کی تعلیم حاصل کررہے ہیں۔ دولہن بھی ایک سائنسدان ہے اور اس کا تعلق کراچی سے ہے۔ بات یہ ہے کہ کچھ کے لئے ” دیسی خواب “ چکنا چور ہو گیا ہے ،جبکہ کچھ اس کی تعبیر دیکھنے میں کامیاب رہے ہیں۔  ٭

مزید : کالم